روس نے ترکی سے وضاحت طلب کی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 11:03 GMT 16:03 PST

روس نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے حکام سے اس بات کی وضاحت چاہتا ہے کہ اس نے ماسکو سے دمشق جانے والے ایک شامی جہاز کو اپنی سرزمین پر کیوں اتارا۔

روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ترکی کے فوجی جہازوں نے جس طرح شامی جہاز کو روکا اس نے مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا
شام نے اسے قزاقی قرار دیا ہے۔

ترکی نے کہا ہے کہ اسے شبہ تھا کہ جہاز میں ہتھیار لے جائے جارہے تھے جوکہ شام کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کی خلاف ورزی ہوسکتی تھی۔

اس نے کہا ہے کہ جہاز میں لدا کچھ سامان ضبط کرلیا گیا ہے۔

روس کے ہتھیار برآمد کرنے والے ادارے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جہاز پر کسی طرح کے ہتھیار یا حربی آلات نہیں تھے۔روس کے خبر رساں ادارے انٹرفیکس نے کہا ہے کہ شام کو اگر ہتھیار بھیجنا ہی ہوتے تو قانونی راستے سے بھیجے جاتے اس کے لیے مسافر طیارے کے غیرقانونی راستہ اختیار نہیں کیا جاتا۔

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>