روس نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے حکام سے اس بات کی وضاحت چاہتا ہے کہ اس نے ماسکو سے دمشق جانے والے ایک شامی جہاز کو اپنی سرزمین پر کیوں اتارا۔
روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ترکی کے فوجی جہازوں نے جس طرح شامی جہاز کو روکا اس نے مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا
شام نے اسے قزاقی قرار دیا ہے۔
ترکی نے کہا ہے کہ اسے شبہ تھا کہ جہاز میں ہتھیار لے جائے جارہے تھے جوکہ شام کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کی خلاف ورزی ہوسکتی تھی۔
اس نے کہا ہے کہ جہاز میں لدا کچھ سامان ضبط کرلیا گیا ہے۔
روس کے ہتھیار برآمد کرنے والے ادارے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جہاز پر کسی طرح کے ہتھیار یا حربی آلات نہیں تھے۔روس کے خبر رساں ادارے انٹرفیکس نے کہا ہے کہ شام کو اگر ہتھیار بھیجنا ہی ہوتے تو قانونی راستے سے بھیجے جاتے اس کے لیے مسافر طیارے کے غیرقانونی راستہ اختیار نہیں کیا جاتا۔