امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کی ملاقات، سفارتی لحاظ سے تو بہت بڑی بات ہے
مگر یہ دونوں رہنما کیا بات کریں گے؟
کیا ان کی ملاقات دنیا کو ایک محفوظ مقام بنائے گی؟
اس ملاقات کا شمالی کوریا کے عوام کی زندگیوں پر کیا اثر پڑے گا؟
کیا اس مطلب کِم اور ٹرمپ کے لیے نوبیل امن انعام ہو سکتا ہے؟
اس سب سے آئس سکیٹنگ کا کیا تعلق ہے؟
یہ جوہری ہتھیاروں کے حامل دو ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی بات ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک وہ ایک دوسرے پر یہ ہتھیار
چلانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔
شمالی کوریا کئی دہائیوں تک جوہری ہتھیاروں کے حصول کی انتھک کوششیں کرتا رہا ہے اور حقوقِ انسانی کے معاملات میں بھی اس کا ریکارڈ خاصا خراب ہے۔
شمالی کوریا کے رہنماؤں کا ہمیشہ سے یہ خیال تپا کہ ایک امریکی صدر سے بالمشافہ ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اہمیت دی جانے لگی ہے۔
لیکن امریکہ اور بیشتر دیگر ممالک اس وقت تک شمالی کوریا کے ساتھ رابطوں سے انکار کرتے رہے ہیں جب تک وہ اپنا قبلہ درست نہیں کر لیتا۔
یہ سب کچھ رواں برس کے آغاز میں تبدیل ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان کی پیشکش کا جواب یہ کہہ کر دیا کہ انھیں بات کر کے خوشی ہو گی۔
سو یہ ملاقات تاریخ کا رخ تبدیل کر سکتی ہے۔
یہ پیچیدہ صورتحال ہے لیکن بنیادی طور پر یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں جو ایک دوسرے کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
امریکہ ایک امیر سرمایہ دارانہ جمہوریت ہے۔ شمالی کوریا ایک جماعتی، مطلق العنان ریاست ہے جو دوسری جنگِ عظیم کی افراتفری کے نتیجے میں وجود میں آئی۔
ان کا سامنا 1950 کی دہائی میں ایک جنگ میں ہو چکا ہے جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر چڑھائی کی اور امریکہ جنوبی کوریا کی مدد کو آیا۔

وہ جنگ کبھی باقاعدہ طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک معاہدے کے تحت رک گئی تھی۔ شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر آج بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
شمالی کوریا ایک تنہائی پسند، یک جماعتی ریاست بنا جس کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ اسے بقا کے لیے جوہری ہتھیار درکار ہیں
یوں شمالی کوریا کا جوہری پروگرام پھلا پھولا

شمالی کوریا نے سوویت یونین کی مدد سے جوہری ٹیکنالوجی کی تیاری شروع کی

شمالی کوریا نے مصر سے حاصل کردہ سامان کی مدد سے میزائل تیار کیے

شمالی کوریا جوہری اسلحے کی تخفیف کے معاہدے سے نکل گیا۔ یہ خیال زور پکڑ گیا کہ وہ جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔ 2005 میں شمالی کوریا نے امداد کے بدلے اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کا معاہدہ کیا جو جلد ہی ناکام ہو گیا۔

شمالی کوریا نے اپنے پہلے کامیاب جوہری تجربے کا دعویٰ کیا

جنوری میں شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ اس نے چھوٹے پیمانے کے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

شمالی کوریا نے طاقتور میزائلوں کے تجربات کیے جن میں سے ایک کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ امریکی سرزمین تک مار کر سکتا ہے
ستمبر میں اس نے اپنا چھٹا جوہری تجربہ کیا اور کہا کہ یہ ایک ہائیڈروجن بم تھا جسے میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے
اس کا مطلب شمالی کوریا کے لیے عالمی مذمت اور بڑھتی ہوئی پابندیوں کی صورت میں نکلا۔ ان کا مقصد اسے اقتصادی طور پر سزا دینا اور راستہ بدلنے پر مجبور کرنا تھا۔
شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں پر خدشات کیوں؟
کیونکہ چند مستثنیات کے سوا دنیا متفق ہے کہ کوئی نئی جوہری طاقت نہیں بننی چاہیے اور موجودہ طاقتوں کو جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرنے چاہییں۔
عام طور پر شمالی کوریا کو اتنا ذمہ دار ملک نہیں سمجھا جاتا جو جوہری ہتھیار رکھنے کے قابل ہو۔ وہ انھیں استعمال کرنے کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ اس کا جوہری پروگرام فکرمندانہ حد تک خفیہ رہا ہے اور یہ بھی حقیقی خدشہ ہے کہ اگر حکومت گرتی ہے تو ہتھیار غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتے ہیں۔
کیا ٹرمپ اور کم ساتھ چل سکتے ہیں؟
ایک طویل عرصے تک یہ ممکن نہیں تھا۔
دونوں رہنماؤں سے کسی بھی چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ غیر مستحکم ہیں، قوم پرست رجحانات رکھتے ہیں اورغصے کا اظہار کرنے کے عادی ہیں۔
یہاں ان بدکلامیوں اورغصیلے جملوں کا انتخاب دیا جا رہا ہے جو انھوں نے یا ان کے نمائندوں نے گذشتہ ایک برس کے دوران ایک دوسرے کے لیے کہے
آئس سکیٹنگ نے کیسے دنیا بدل دی؟
یکم جنوری کو اچانک کم جونگ ان نے کہا کہ وہ جنوبی کوریا سے بات کرنے کو تیار ہیں۔
آغاز کے طور پر وہ ایک ٹیم بشمول آئس سکیٹرز کو جنوبی کوریا بھیجنا چاہتے تھے تاکہ وہ سرمائی اولمپکس میں حصہ لے سکیں۔

بات چیت کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا نے فروری میں سرمائی اولمپکس میں ایک ٹیم کے طور پر شرکت کی۔
پھر مارچ میں جنوبی کوریا کے کچھ سینیئر حکام کم جونگ- ان کا پیغام امریکہ لے گئے۔ وہ صدر ٹرمپ سے ملنا چاہتے تھے۔ تمام جوہری اور میزائل تجربات روکنے کو تیار تھے اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے پرعزم بھی۔
صدر ٹرمپ نے امریکہ کی دہائیوں پرانی پالیسی بدلتی ہوئے یہ پیشکش فوراً قبول کر لی اور اس ملاقات کے منصوبے بننے لگے۔
مئی کے آغاز میں 12 جون کی تاریخ طے ہوئی اور پھر سنگاپور کا مقام۔
خیرسگالی کے قدم کے طور پر شمالی کوریا نے تین امریکی قیدی بھی رہا کر دیے
اس نے وہ مقام بھی تباہ کر دیا جہاں زیرِزمین چھ جوہری تجربات کیے گئے تھے۔ لیکن یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ تجربات کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے رک گیا ہے۔

کیا ہم نے ایک تاریخی سربراہ ملاقات نہیں دیکھی؟
ہاں، یہ ملاقات شمالی اور جنوبی کوریا کے سربراہان کی تھی
اپریل میں جنوبی کوریا کے صدر مون جئے-ان سیئول سے اس غیر فوجی علاقے میں گئے جو شمالی اور جنوبی کوریا کو 1953 میں جنگ رکنے کے بعد سے تقسیم کرتا ہے۔(یاد رہے کہ جنگ باقاعدہ طور پر ختم نہیں ہوئی ہے)۔
لوگ حیران رہ گئے جب دونوں رہنما سرحد تک گئے ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے کی سرحد کے پار قدم رکھا۔

یہ ایک غیرمعمولی دن تھا۔ دونوں رہنماؤں نے ساتھ کھانا کھایا، بات چیت کی اور سرحدی علاقے میں چہل قدمی بھی کی۔

دن کے آخر میں انھوں نے اعلانِ پنمنجوم جاری کیا جس میں وعدہ کیا گیا کہ
بات چیت جاری رہے گی، حتیٰ کہ انضمام پر بھی
ایک دوسرے کے خلاف تمام جارحانہ اقدامات کا خاتمہ ہو گا
جنگِ کوریا کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنا مقصد ہو گا
وہ مئی میں دوبارہ ملے۔ مزید بات چیت اور مزید معانقوں کے لیے۔

شمالی کوریا نے اپنے جوہری ہتھیار تلف کرنے کا وعدہ کر لیا ہے؟
نہیں۔ کیونکہ یہ واضح نہیں کہ فریقین کی جزیرہ نما کوریا کی مکمل ڈی نیوکلیئرائزیشن سے کیا مراد ہے۔
امریکہ کے لیے اس کا مطلب شمالی کوریا کی جانب سے اپنے تمام جوہری ہتھیاروں کی تلفی رہا ہے۔ اس کے بعد ہی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
شمالی کوریا کے لیے بات ذرا مختلف ہے۔ وہ اپنے تحفظ کی ضمانت کے بغیر جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اگر وہ جوہری ہتھیار تلف کرے تو جزیرہ نما کوریا کے تمام ممالک بھی ایسا ہی کریں۔
ان میں امریکہ بھی شامل ہے جس نے جنوبی کوریا کے دفاع کا فوجی معاہدہ کر رکھا ہے
ذرا رکیے، ٹرمپ نے یہ ملاقات منسوخ نہیں کر دی تھی؟

جی ہاں، ایک دن کے لیے۔ تب لگ رہا تھا کہ سب کچھ ختم ہو جائے گا کیونکہ امریکی حکام شمالی کوریا کے لیے ممکنہ ماڈل کے طور پر لیبیا کو پیش کر رہے تھے۔
اس نے پیانگ یانگ کو چوکنا کر دیا۔ 2003 میں لیبیا کے کرنل قذافی نے پابندیاں اٹھانے کے بدلے جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ چند برس بعد وہ ایسی بغاوت میں ہلاک کر دیے گئے جسے مغربی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔
یہ ہے اس بات چیت کا نمونہ جو لیبیا ماڈل کے بارے میں ہوئی
دس اپریل: امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے میڈیا انٹرویوز میں کہا
میرے خیال میں ہم 2003، 2004 کے لیبیا ماڈل کو دیکھ رہے ہیں
شمالی کوریا نے ملاقات منسوخ کرنے کی دھمکی دی اگر امریکہ یکطرفہ طور پر اس سے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا مطالبہ کرتا ہے۔
سترہ مئی: صدر ٹرمپ نے لیبیا کے ذکر کی وضاحت کر دی
لیبیا ماڈل وہ نمونہ نہیں جو ہم شمالی کوریا کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
تاہم امریکی نائب صدر مائیک پینس نے چند دن بعد پھر لیبیا ماڈل کا ذکر کیا
چوبیس مئی: شمالی کوریا کے مذاکرات کار چوئے سون ہوئی نے مائیک پینس کی بات کو احمقانہ قرار دے دیا
امریکہ ہم سے مذاکرات کی میز پر ملنا چاہتا ہے یا جوہری جنگ میں اس کا مکمل دارومدار امریکہ کے اپنے فیصلے اور رویے پر ہے
چوبیس مئی: صدر ٹرمپ نے سربراہ ملاقات منسوخ کر دی
آپ کے تازہ بیان میں موجود شدید غصے اور جارحانہ پن کی بنیاد پر مجھے لگتا ہے کہ طے شدہ ملاقات ہونا مناسب نہیں۔
تاہم بات زیادہ بگڑی نہیں۔ کم کے قریبی ساتھی نے ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں انھیں کم کا خط پہنچایا اور حالات پھر ٹھیک ہو گئے۔

یہ محفوظ ہے، غیر جانبدار ہے اور اس کے دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔ شمالی کوریا کا سنگاپور میں سفارتخانہ بھی ہے اور وہ اس کے راستے تجارت بھی کرتا رہا ہے۔
سنگاپور میں مظاہروں پر تقریباً پابندی ہے اس لیے اس بارے میں فکرمند ہونے کی بھی ضرورت نہیں
اس ملاقات سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے
امید کی جا رہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر بات کریں گے۔ جزیرہ نما کوریا میں تناؤ کم کرنے پر بات ہو گی اور یقیناً عالمی امن پر بھی۔
لیکن ٹرمپ حال ہی میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مکمل، قابلِ تصدیق اور دوبارہ شروع نہ ہونے کے قابل، خاتمے پر اپنے اصرار میں کمی لائے ہیں۔
انھوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مرحلہ وار پروگرام قبول کر سکتے ہیں اور اس کے بدلے پابندیوں پر نظرِثانی کی جا سکتی ہے۔
کم دنیا اور اپنے عوام کو دکھانا چاہتے ہیں کہ امریکہ انھیں سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ وہ یقیناً پابندیوں میں نرمی چاہتے ہیں لیکن شمالی کوریا کہہ چکا ہے کہ وہ امداد کے نام پر بلیک میل نہیں ہوگا۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ شمالی کوریا ماضی میں بھی اس سب پر راضی ہو چکا ہے مگر پھر اس نے تمام معاہدے ختم کر دیے تھے۔
دونوں اشخاص ذاتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ سنگاپور کے ہوٹل میں دوستانہ ملاقات کا ایسا دن ہو سکتا ہے جس میں ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہو جائے اور امن عمل آگے بڑھے۔
تاہم ایک چیز جس پر یقیناً بات نہیں ہو گی وہ شمالی کوریا کا حقوقِ انسانی کے معاملے میں ریکارڈ ہے۔
کیا اس میں کسی اور کی رائے کی بھی اہمیت ہے؟
بہت سے رہنما یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ان کی بات ٹرمپ اور کم دونوں تک پہنچے۔
ہم جانتے ہیں کہ جنوبی کوریا نے اس ملاقات کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر مون جئے ان نے تو جیسے رشتہ کروانے والے کا کردار نبھایا ہے۔
لیکن جب کم جون ان اچانک مارچ میں چین گئے تو یہ پیغام تھا کہ اس معاملے میں چین کا کردار اہم ہے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ کم برسراقتدار آنے کے بعد شمالی کوریا سے باہر کہیں گئے تھے اور چینی صدر پہلے غیر ملکی رہنما تھے جن سے وہ ملے۔
امریکہ سے کسی بھی ڈیل کو چین کی خاموش حمایت کی ضرورت ہو گی۔
جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کئی بار صدر ٹرمپ سے مل چکے ہیں اور جاپانی موقف ان کے سامنے رکھ چکے ہیں جن میں شمالی کوریا کی جانب سے اغوا کردہ جاپانیوں کا معاملہ سب سے اہم ہے۔
روس جو شمالی کوریا کا ہمسایہ اور حمایتی ہے، شمالی کوریا کے جوہری تجربات کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس پر لگنے والی پابندیوں پر بھی تنقید کرتا رہا ہے۔ اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ کم جونگ ان رواں برس ہی روسی صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔
اور سب سے غیرمتوقع طور پر شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ بھی شمالی کوریا کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اور ہاں عین ممکن ہے کہ کم کے دوست اور امریکی باسکٹ بال سٹار ڈینس راڈمین بھی سنگاپور میں نمودار ہوں۔ وہ ویسے کئی بار شمالی کوریا جا چکے ہیں۔
کیا نوبیل انعام کی کوئی امید ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ لوگوں کے خیال میں وہ اس کے حقدار ہیں۔ آخر ان کے پیشرو اوباما کو بھی تو ملا تھا۔
اگر یہ رہنما اپنے ذاتی اختلافات بالائے طاق رکھ سکیں اور حقیقی اور دیرپا امن لا سکیں تو یہ یقیناً غیرمعمولی ہوگا۔
یہ کہنا محفوظ ہو گا کہ تاہم اس کے باوجود انعام کے لیے کم جون ان اور ٹرمپ کو سخت مقابلے کا سامنا رہے گا۔

ٹرمپ کم سربراہ ملاقات کا یادگاری سکہ
کریڈٹس
پیشکش: اینا جونز
اضافی رپورٹنگ: آندریئس المر
گرافک ڈیزائن: گیری فلیچر
پروڈکشن: ڈومینک بیلی
تصاویر: گیٹی امیجز، روئٹرز، وائٹ ہاؤس
مدیر: سمانتھی دیسانائیکے
تاریخِ اشاعت: 11 جون 2018














