یہ دنیا کی شاید سب سے بڑی ہجرت تھی جس میں کم از کم دس ملین افراد گھر سے بےگھر ہونے پر مجبور ہوئے۔
آج سے ستر برس پہلے، اگست انیس سو سینتالیس کے ایک دن، انڈیا میں برطانیہ کےاقتدار کا سورج ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔
ملک دو آزاد ریاستوں- ہندو اکثریتی انڈیا اور مسلم اکثریتی پاکستان میں تقسیم ہو گیا۔
لاکھوں مسلمان، پاکستان کے مغربی حصے اور مشرقی حصے (بنگلہ دیش) کی طرف روانہ ہوگئے۔
لاکھوں ہندو اور سکھ انڈیا کی نئی سرحدوں کے اندر بسنے کے لیے عازمِ سفر ہو
ئے۔ مختلف اندازوں کے مطابق تقریبا ایک ملین افراد کو موت نگل گئی
لاکھوں عورتیں ریپ ہوئیں۔ ہزاروں اٹھا لی گئیں۔
برطانیہ میں رہنے والے بارہ افراد، آج ستر برس بعد تقسیم کے کرب سے جڑی ہوئی اپنی اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض کی زبان پر یہ کہانی پہلی بار آئی پروڈیوسر: کویتا پوری
کرم
تعلق انڈیا کے شہر جالندھر سے
تقسیم سے پہلے ہم ایک خاندان کی طرح تھے۔ ہندو، مسلم سکھ سب۔ کسی نے یہ
صور بھی نہیں کیا تھا کہ تقسیم ہوگی۔ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ لوگ اتنی
جلدی اور اتنی آسانی سے کیسے بدل گئے۔
باہر سے مسلمان آئے اور انہوں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کیا۔ ایک زہر آلود نیزہ میرے بازو میں گھونپ دیا گیا اور مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
میری بہن کی جان ایک مسلمان خاندان کے گھر میں چھپنے سے بچی۔ میرے والد
قتل ہو گئے۔
اس وقت کے بارے میں سوچ کر آج بھی مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ آج بھی میں نیند سے کانپ کر اٹھ جاتا ہوں۔
خورشید
ابتدائی پرورش دلی اور شملہ میں، اس کے بعد کراچی چلی گئیں
تقسیم سے چند برس پہلے تک سکول میں ہندو، سکھ، مسلمان، اور عیسائی ایک ساتھ یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’ہمیں آزادی چاہیے۔ بھارت ہمارا ہے‘۔
لیکن پھر دلی میں متعدد مسلمانوں کے قتل کے بعد ہمیں یہ احساس ہوا کہ انڈیا میں رہنا ممکن نہیں اور ہمیں پاکستان ہی جانا ہو گا۔
میری دو بہترین سہیلیاں ہندو تھیں۔ ہم اکثر ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے تھے۔
تقسیم کے بعد میری دوستوں نے مجھے خط لکھ کر بتایا کہ ہماری ایک مسلمان دوست کو ہمارے ہی ایک استاد نے ریپ کیا۔
میں بتا نہیں سکتی کہ یہ بات سن کر مجھے کتنا صدمہ پہنچا تھا۔
مہندرا
فیصل آباد سے دلی آئے
یہ اینٹ اس گھر کی ہے جسے میں چھوڑ کر آیا تھا۔ میں نے یہ اچھے دنوں کو یاد کرنے کے لیے رکھی ہوئی ہے۔ میرے والد اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ انہیں اس جگہ سے بے پناہ محبت تھی۔
مجھے یاد ہے کہ ہم نے تیرہ ستمبر 1947کو اپنا گھر چھوڑا تھا۔ اس دن میرا چھٹا جنم دن تھا۔ ہمیں انڈیا کی ٹرین پکڑنے کے لیے چالیس کلومیٹر پیدل چلنا پڑا تھا۔
ٹرین چلنے ہی والی تھی کہ میرے والد نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس میں میرے بھائی کے لیے جگہ نہیں ہے، فیصلہ کیا کہ ’بس بہت ہوا، چلو چلو باہر نکلو‘۔
یہ ان کا آخری لمحے میں کیا ہوا فیصلہ تھا۔ اگلے دن ہمیں پتہ چلا کہ اس ٹرین میں سوار سب لوگوں کو قتل کردیا گیا۔
پامیلا
پرورش کولکاتہ میں ہوئی
وکٹوریہ میموریل کے خوبصورت باغ میں ہم سہیلیاں اپنی اپنی گڑیا کو پریم میں ڈال کر سیر کیا کرتی تھیں۔ ہماری خادمائیں سفید لباس پہنتی تھیں۔ ہم وہاں خوشی خوشی رہ رہے تھے۔
ميں بغیر کسی ڈر کے کولکاتہ میں کہیں بھی گھوم سکتی تھی۔ لوگ بہت پیار اور احترام کرتے تھے۔ لیکن پھر ایک دن کولکاتہ کےعلاقے چورنگی میں میں سائیکل چلا رہی تھی اور اچانک ایک بھارتی شخص نے ٹریفک کے درمیان مجھے دھکا دیا اور میں سائیکل سے گر گئی۔
اس نے کہا ’انڈیا چھوڑ دو‘۔'
میں گاڑیوں اور رکشوں کے درمیان گری تھی جو کہ بہت خطرناک تھا۔ میں مر بھی سکتی تھی۔
رمن
تقسیم سے پہلے اس وقت پاکستان کے شہر ڈھاکہ سے کولکاتہ پہنچے
انیس سو بیالیس میں ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کے تحت میں اس گروہ کاحصہ تھا
جس نے ’ایمپیریل ٹبیکو‘ کے سگریٹ قبضے میں لیے تھے۔
ہمارا مقصد برطانوی راج کو تباہ کرنا تھا۔ جب مسلمان ہماری ہندو کالونی پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو میں نے ان پر پیٹرول اور کیل سے بھرے بم پھینکے۔ اس سے ہجوم منتشر ہو گیا۔
مجھے اب پچھتاوا ہوتا ہے۔ لیکن ان کو بھگانا بھی ضروری تھا۔ میں نے یہ اپنی حفاظت کے لیے کیا۔
مشرقی پاکستان میں یوم آزادی پر ہم نے انڈیا کا پرچم لہرایا۔ لیکن ہم سے کہا گیا کہ اِس کو اتار دیں۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ ہمارا راج ختم ہوگیا ہے۔
تقسیم نے میری زندگی تباہ کر دی۔ انڈیا کبھی بھی پہلے جیسا انڈیا نہیں رہے گا۔
مہرو
تعلق ممبئی سے
ہمیں سکول اور کالج جانے کے لیے لاشوں پر سے کود کر جانا پڑتا تھا۔
ہم پارسی ہیں۔ ہم محفوظ تھے۔ ہمارے گھر میں ہندو اور مسلمان ملازم تھے۔ باہر جاتے وقت میں پارسی لباس پہنتی تھی تاکہ اپنے ملازموں کی حفاظت کرسکوں۔
خورشید
پرورش انڈیا کے ضلع پھگواڑا کے قریب ہوئی اس کے بعد پاکستان کے شہر فیصل آباد چلی گئیں
وہ ہمیں مارنے کے لیے جتھوں میں آئے۔ ہم نے سنا کہ وہ عورتوں کو اٹھا کر لے جا رہے تھے۔
میرے چچا کہتے تھے کہ ’ہم اپنی عورتوں کو مار دیں گے اوران غنڈوں سے مرتے دم تک لڑیں گے لیکن کبھی بھی اپنا وطن چھوڑ کر نہیں جائیں گے‘۔ لیکن میری دادی ڈٹ گئیں اور کہنے لگیں کہ عورتوں کو بھی بولنے کا حق ہونا چاہیے۔
وہ ایک بہت بہادر خاتون تھیں۔ انہوں نے گھر کے مردوں کو حکم دیا کہ وہ ہماری جان بخش دیں۔ مردوں نے ان کی بات سنی۔
لیکن انہوں نے مردوں کو بھی ہجرت کرنے کے لیے راضی کرلیا۔
میلکم
کولکاتہ میں بڑے ہوئے
اینگلو انڈین ہونے کے ناتے آپ اپنے آپ کو مراعات یافتہ سمجھ سکتے تھے۔
اچھے سکول میں جانے کی وجہ سے سمجھا جاتا تھا کہ برطانوی اقدار بھی آپ کی شخصیت کا حصہ ہوں گی۔
کولکاتہ میں فسادات اور ہڑتالیں ہو رہی تھیں۔ قتل ہو رہے تھے۔ وہ ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔
ذاتی طور پر میں نہیں سمجھتا تھا کہ برطانیہ کے انڈیا سے چلے جانے سے ہمارے طرز زندگی پر کوئی اثر پڑے گا۔ لیکن میرے گھر والے مجھ سے متفق نہیں تھے۔
اسی لیے ہم انگلینڈ چلے آئے۔ انہیں لگتا تھا کہ برطانوی لوگوں کے خلاف تعصب کی وجہ سے مجھے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری نہیں ملے گی۔
ڈینس
برٹش انڈین آرمی
اگست انیس سو سینتالیس تک ہماری تعداد کافی کم ہو چکی تھی۔ آزادی کے دن میں لاہور میں تھا اور میری منزل برطانیہ تھی۔ مجھے یاد ہے لوگ مجھ سے ہاتھ ملا رہے تھے اور کہہ رہے تھے ’شکریہ، ہماری آزادی کا شکریہ‘۔
سٹیشن پر لاشوں کے ڈھیر تھے۔ وہ بہت خوفناک وقت تھا۔ ایک طرف سے ہندوؤں
اور سکھوں کی لاشوں سے بھریہوئی ٹرین آتی تو دوسری طرف سے مسلمانوں کی۔
ہم سب یعنی میرے جیسے لوگ اور برطانوی افسر سمجھتے تھے کہ بٹوارہ بہت جلد بازی میں ہوا ہے۔ یہ کام سوچ سمجھ کر نہیں کیا گیا۔
میرا خیال ہے اس وقت کی برطانوی حکومت وہاں سے جلدی نکلنا چاہتی تھی۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی۔
ہرچیت
اوکاڑہ، پاکستان سے انڈیا کے ضلع بھگواڑہ چلے گئے
ہمیں ایک بیل گاڑی کے پیچھے چلنے کے لیے کہا گیا جس پر کھانا، کپڑے اور جانوروں کا چارہ لدا ہوا تھا۔
ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم انڈیا جا رہے ہیں۔ جوں جوں آگے بڑھے قافلہ بڑا ہوتا گیا۔ دوسرے دیہاتوں سے بھی لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوتےجا رہے تھے۔
دیکھتے دیکھتے لوگوں کی قطار میلوں لمبی ہو چکی تھی۔
ہمارا خیال تھا کہ حالات ٹھیک ہونے تک ہم انڈیا میں رہیں گے۔ پھر جب اپنی آنکھوں کے سامنے لوگوں کو قتل ہوتے دیکھا تو ہم نے سوچا کہ ’ہم کیسے واپس جا سکتے ہیں‘۔ وہ منظر کبھی میرے ذہن سے نہیں نکل سکتے۔
ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم آزاد ہیں، لیکن جب آپ کا سب کچھ لٹ جائے تو اس کا کیا فائدہ۔ ہمیں آزادی کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
پونم
والدہ کا خاندان لاہور سے جالندھر آیا
میری دادی کے خاندان نے پاکستان چھوڑنے کا اس وقت فیصلہ کیا جب ان کے مسلمان پڑوسی نے ایک میٹنگ کے بعد آکر یہ بتایا کہ اگلے دن مسلمان انکی بیٹیوں کو لے جائیں گے۔
میری والدہ ہمیشہ اپنے اس پڑوسی کی بات کرتی اور ان کی جان بچانے کے لیے اس شخص کی شکر گزار تھیں۔
تقسیم نے میری والدہ کی ابتدائی زندگی کو بےحد متاثر کیا تھا۔ اور کسی نے کسی طرح میری زندگی کو بھی۔
رضیہ
خاندان کا تعلق انڈیا میں ممبئی سے
گھر میں بٹوارے پر بات نہیں ہوسکتی تھی۔ اس موضوع کے ساتھ بہت سے تکلیف جڑی ہوئی تھی۔
ایک ایسے مسلمان کے لیے جس کے خاندان نے انڈیا میں رہنے کا فیصلہ کیا یہ یقیناً اتنا ہی مشکل رہا ہو گا جتنا ان کے لیے جو شہر چھوڑ کر چلے گئے۔
میرے والد کا خاندان پاکستان چلا گیا تھا لیکن میرے والد کے گھر والے تقسیم کے خلاف تھے۔ یہ میری والدہ کے لیے بہت تکلیف دہ رہا ہوگا۔ ان کا اپنے گھر والوں سے پھر کبھی رابطہ نہیں ہوا۔
زخم کا بھرنا بہت اہم ہے۔ یہ زخم بظاہر تو بھر گیا ہے لیکن درد اندر ہی اندر بر صغیر میں اور بیرون ملک آباد ہونے والوں کو کھا رہا ہے۔
یہ حقیقت آج کی بھی ہے۔ میرے نزدیک تقسیم کی بازگشت ہماری روز مرہ زندگی میں موجود ہے۔












