فہمیہ، ایران
فہیمہ صرف 16 برس کی تھیں جب ان کی شادی ان سے 11 برس بڑے شخص سے کر دی گئی۔ وہ ایک قدامت پسند خاندان میں پلی بڑھی تھیں۔ ’میری والدہ کا خیال تھا کہ لڑکیوں کو سیکس یا ماہواری کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں‘۔
شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے گھر آ گئیں
شادی کی پہلی رات میری زندگی کا سب سے خوفناک تجربہ تھا
آغاز سے ہی فہیمہ کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ یہ رشتہ قائم نہیں رکھنا چاہتیں لیکن وہ یہ بات اس خوف سے خاندان والوں کو بتاتے ہوئے ڈرتی تھیں کہ وہ نہیں سمجھیں گے۔
سیکس اور مانع حمل ادویات کے بارے میں نہ جاننے کی وجہ سے فہیمہ فوراً ہی حاملہ ہو گئیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 20 کروڑ خواتین کو جدید مانع حمل ذرائع تک رسائی نہیں اور فہیمہ ان میں سے ایک تھیں۔
انھوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ وہ یہ بچہ پیدا کرنا نہیں چاہتیں اور وہ اس سلسلے
میں ان کی مدد کرے۔
میں خود ایک بچی ہوں۔ ناتجربہ کار ہوں۔ میں نہیں جانتی کہ میں زندہ بھی رہنا چاہتی ہوں کہ نہیں۔ میں ماں نہیں بن سکتی۔
آخرِکار وہ ان کی مدد پر تیار ہو گیا۔ ایران میں اسقاظ حمل غیرقانونی ہے تاوقتیکہ حمل ماں کی جان کے لیے خطرہ ہو یا پیدا ہونے والا بچہ معذور یا مہلک بیماری کا شکار ہو
اسقاطِ حمل کی گولی ایران میں دستیاب نہیں اس لیے فہیمہ کے شوہر نے بلیک مارکیٹ سے ہارمونز کے انجکشنز خریدے۔ پھر یہ جوڑا ایک دائی کے پاس گیا جو یہ انجکشن لگانے کو تیار تھی۔
فہیمہ کو ایک سیلن زندہ تہہ خانے میں ایک گندے صوفے پر لٹایا گیا۔ دائی نے انھیں کہا تھا کہ اسقاط میں مدد کے لیے وہ گھر پر وزنی اشیا اٹھائیں لیکن اس نے خبردار بھی کیا تھا کہ عین ممکن ہے کہ یہ عمل کامیاب نہ ہو۔
اگر بچہ ضائع نہ ہوا تو تم واپس آنا اور میں ادھورا کام یہاں مکمل کر دوں گی
چند گھنٹے بعد فہیمہ کی طبیعت خراب ہونے لگی جیسے کسی نے انھیں زہر دے دیا ہو۔ انھیں چکر آنے لگے اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا اور ان کے والدین کو بلا لیا گیا۔ یہ جان کر کہ ان کی بیٹی اسقاطِ حمل کی کوشش کر رہی تھی وہ فہیمہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس کے خاوند سے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ سے رابطہ نہ کرے
انھوں نے مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا جیسے کہ میں ایک مجرم ہوں
فہیمہ کے والدین انھیں ایک گائناکالوجسٹ کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ انجکشنز نے ممکنہ طور پر بیضہ دانی کو متاثر کیا ہے اور اس نے اسقاط کا مشورہ دیا۔ تاہم فہیمہ کی والدہ نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ گناہ ہے۔ فہیمہ کے پاس بچہ رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور انھیں واپس اپنے شوہر کے گھر بھیج دیا گیا۔
نو ماہ تک میں اپنے لیے اور اپنے اندر پلنے والی جان کے لیے موت مانگتی رہی
فہیمہ کا بیٹا پھیپھڑوں کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوا اور پھر اسے مرگی کے دورے پڑنے لگے۔ دو برس بعد فہیمہ کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اپنے بیٹے کو پالنے کے لیے تنہا رہ گئی۔
نازنین، افغانستان
تیئیس سالہ نازنین ایک خوش و خرم شادی شدہ زندگی گزار رہی تھیں۔ انھیں زندگی میں تعلیم اور کریئر کے لحاظ سے جو مواقع ملے تھے ایک عام افغان عورت تو صرف اس کا تصور ہی کر سکتی تھی لیکن پھر ایک غیرمتوقع حمل نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا۔
نازنین اور ان کے شوہر بچوں کے خواہشمند تھے مگر ان کے خیال میں وہ مناسب وقت نہیں تھا۔
وہ کہتی ہیں ’مجھے بتایا گیا تھا کہ جب میری شادی ہو جائے گی تو بچوں کی خواہش خودبخود پیدا ہو گی لیکن میں شادی شدہ تھی، خوش تھی لیکن بچے کی پیدائش کا خیال مجھے پاگل کیے دے رہا تھا‘۔
مجھے لگا کہ میرے اندر پلنے والی یہ ننھی مخلوق مجھے دستیاب چیزوں کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے
ایک دوست نے کابل کے ایک ڈاکٹر کے بارے میں بتایا جو اسقاطِ حمل کر سکتا تھا لیکن جب نازنین اس کے پاس گئیں تو اس کے رویے نے انھیں حیران کر دیا۔
ڈاکٹر نے ان سے دریافت کیا ’کیا اس بچے کا باپ جانتا ہے کہ تم اس کے بچے کو قتل کر رہی ہو‘۔
جب نازنین کا شوہر وہاں آیا تو ڈاکٹر یہ جان کر حیران رہ گیا کہ وہ اس فیصلے میں شریک تھا اور اس نے نازنین کے شوہر کو قائل کرنے کی ہرممکن کوشش کی کہ وہ اسقاطِ حمل نہ کروائیں۔
ایک گھنٹے کے بعد بالاخر اس نے نازنین کو ہارمون کا ایک انجکشن دیا اور ایک مڈوائف کے پاس مانع حمل گولی لینے کے لیے بھیج دیا۔
وہ مڈوائف بھی اس گولی کے بارے میں دریافت کرنے پر ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئی۔
اس نے ہمیں بتایا کہ یہ دوا اسقاطِ حمل کی نہیں بلکہ اگر حاملہ خاتون یہ لے گی تو اس کا مس کیرج ہو جائے گا
اس مبہم مشورے کی وجہ سے نازنین اور ان کے شوہر نے اس خدشے کے تحت کہ کہیں نازنین کی جان کو خطرہ نہ لاحق ہو جائے، اپنا ارادہ بدل دیا۔ چند ہفتے بعد نازنین نے اپنے حمل سے سمجھوتہ کر لیا۔ اب وہ اپنے بچے کے استقبال کے لیے تیار تھی۔ ایک دن اس کی طبیعت خراب ہونے پر جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو علم ہوا کہ آنول اس کے سرویکس کے گرد موجود ہے۔ تین ہفتے تک نازنین شدید تکلیف میں رہی کیونکہ کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ نازنین اور ان کے شوہر انڈیا چلے گئے جہاں ڈاکٹر ان کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نازنین خون کی شدید کمی کا شکار تھیں اور یہ سوچتے ہوئے کہ وہ مر بھی سکتی ہیں ڈاکٹروں نے اسقاطِ حمل کا مشورہ دیا۔
نازنین کو آپریشن تھیٹر لے جایا گیا جہاں یہ عمل سرانجام دیا گیا۔ وہ بوجھل دل کے ساتھ واپس افغانستان گئیں۔ وہ حمل جسے وہ آخرِکار قبول کرنے پر تیار ہو گئی تھیں ساقط کرنا پڑا اور اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا
“کیا یہ میرا قصور ہے کہ بچہ مر گیا؟ کیا میں ماں نہیں بننا چاہتی تھی اس لیے میرے جسم نے بچے کو قبول نہیں کیا؟ یا یہ افغانستان کے طبی نظام کا قصور ہے جس نے میری اور اس بچے کی زندگی خطرے میں ڈالی؟
مہبود، ایران
مہبود کہتے ہیں ’یہ سب میرا قصور ہے۔ ایک سادہ سی بھول‘۔
ان کی آواز میں پچھتاوا واضح تھا۔ سات برس قبل وہ ڈاکٹر بن رہے تھے اور ان کی منگنی کی بات چل رہی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی ساتھی کی ماہواری سے متعلق غلط اندازہ لگایا اور وہ حاملہ ہو گئی۔ چونکہ وہ میڈیکل کے طالبعلم تھے اس لیے وہ ایسے لوگوں کو جانتے تھے جو کہ غیرقانونی طور پر اسقاطِ حمل میں استعمال ہونے والے انجکشن فروخت کرتے تھے۔
مہبود نے خود ہی یہ انجیکشن لگائے۔
میں نےایک اور غلطی کی۔ وہ تکلیف میں تھی اس لیے میں نے اسے دردکش دوا کا انجیکشن دیا جس کا اسقاط کے عمل پر الٹا اثر ہوا۔
سخت تکلیف اور خون بہنے کے باوجود اسقاطِ حمل کی کوشش ناکام ہوئی اور مہبود نے مدد مانگی تو انھیں قریب ہی گاؤں میں موجود ایک ڈاکٹر کا بتایا گیا جو انھیں اس کام کے لیے گولیاں دے سکتا تھا۔ مہبود کی ساتھی ناقابل برداشت تکلیف سہہ رہی
تھی اور بہت زیادہ دباؤ میں تھی۔
ایران میں شادی سے قبل سیکس ممنوع ہے اور چونکہ وہ دونوں شادی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اس لیے یہ حمل ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا تھا۔
ڈاکٹر نے کچھ گولیاں لکھ دیں اور انھیں بھیج دیا۔ مہبود کو یاد ہے کہ ’دوا فروش مجھ سے بار بار پوچھتا رہا کہ یہ دوا کس نے تجویز کی تھی اور کیوں‘۔ مہبود اور ان کی ساتھی اس وقت بھی اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے۔ گولیاں لینے کے بعد وہ گھر نہیں جا سکتے تھے۔ اس کی بجائے انھوں نے کئی گھنٹے باہرگزارے تاکہ اسقاط کا عمل شروع ہو۔
ہم باغ میں چہل قدمی کرتے رہے۔ میری ساتھی تکلیف میں تھی اور خون بہہ رہا تھا۔ وہ سینیٹری پیڈ بدلنے کے لیے عوامی بیت الخلا میں جاتی تھی۔ وہ میری زندگی کا بدترین دن تھا۔ ہماری زندگیوں کا بدترین دن
سات گھنٹے بعد آخرکار یہ عمل پورا ہو گیا۔ مہبود کہتے ہیں کہ اس تجربے سے انھیں اندازہ ہوا کہ اسقاطِ حمل کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اور کتنا اہم ہے کہ یہ عمل محفوظ طریقے سے اور ماہرین کی زیرِ نگرانی سرانجام دیا جائے۔
زہرہ، ایران
تم حاملہ ہو۔ اس مختصر جملے سے میری تو دنیا ہی گھوم کر رہ گئی۔ زہرہ یاد کرتی ہیں۔ وہ ایک بالکل مختلف وجہ سے سکین کروانے گئی تھیں۔ وہ شادی شدہ نہیں تھیں اور اس حمل کے ان کے لیے ایران میں خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ ان کے دماغ میں لاکھوں سوال گردش کرنے لگے۔
میں اپنی ماں کو کیا بتاؤں؟ اگر بابا کو پتہ چلا تو وہ کیا کریں گے؟ اپنے بوائے فرینڈ کو کیسے بتاوں؟ یہ سب میری بہنوں کے لیے کتنا باعثِ شرمندگی ہو گا؟
ڈاکٹر پر یہ واضح تھا کہ زہرا کو دھچکا لگا ہے۔ اس نے انھیں کہا کہ وہ پریشان نہ ہوں۔ اس نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ’یہاں سے باہر بہت سے ایسے ڈاکٹر ہیں جو تمھارے لیے اس کا خیال کریں گے۔‘
زہرا اپنے حمل کو جلد ازجلد ختم کروانا چاہتی تھیں۔ وہ ایک مڈ وائف کے پاس گئیں جس کےبارے میں انھیں معلوم تھا کہ وہ غیر قانونی اسقاطِ حمل کرتی ہے۔
زہرہ کیونکہ چھ ہفتوں کی حاملہ تھی اس لیے دائی نے اس کے لیے سرجری کے ذریعے اسقاط تجویز کیا اور اگلے دن ہی اسے بلا لیا۔
جب زہرہ اپنے مقررہ وقت سے تھوڑی دیر پہلے وہاں پہنچیں تو مڈ وائف کی معاون نے انھیں کہا کہ اس سے پہلے کہ تمھیں کوئی دیکھ لے جلدی سے آجاؤ۔ انھیں کہا گیا کہ وہ تمام وقت خاموشی اختیار کریں۔ اسقاطِ حمل ایک ایسے مقام پر ہوا جو شاید عارضی طور پر اس کام کے لیے بنایا گیا تھا۔
وہ ایک تاریک مقام تھا اور وہ تجربہ ایک تکلیف دہ تجربہ تھا
ایک ہفتے بعد زہرہ نے دوبارہ سکین کروایا تاکہ اس بات کی تسلی کر لیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوا ہے تو وہ حیران رہ گئیں کیونکہ ان کے رحم میں اب بھی جنین موجود تھا۔
وہ بتاتی ہیں ’میں دوبارہ مڈ وائف کے پاس گئی۔ اس نے مجھے اسقاطِ حمل کی گولیاں دیں اور کام ہو گیا‘۔
حقیقت یہ ہے کہ میں بہت پریشان تھیں کہ لوگ جان لیں گے کہ میں نےجلد بازی کی ہے۔ مجھے معیاری اور پیشہ ورانہ مشورہ نہیںدیا گیا تھا‘۔
زہرہ سمجھتی ہیں کہ ابتدا میں ہی اسقاط گولیوں کے ذریعے ہو سکتا تھا اور لوگوں نے انھیں آسان ہدف جان کر فائدہ اٹھایا۔
زہرہ کہتی ہیں کہ مڈ وائف نے انھیں کبھی بھی یہ مشورہ نہیں دیا کہ وہ گولی کھا لے اور آپریشن گولیوں کے مقابلے میں دس گنا مہنگا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ مڈ وائف تو بس کاروبار کر رہی تھی۔
اگر مجھے معلومات ہوتیں تو میں بہتر فیصلہ کرتی اور مجھ پر یہ نہ گزرتی جو گزری
غیر شادی شدہ خواتین کے حاملہ ہونے سے جڑی بدنامی کی وجہ سے وہاپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ محفوظ طریقے سے اور قانونی طور پر اسقاطِ حمل کے لیے رسائی نہ ہونا زچگی کے دوران موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔
آرزو، ایران
قانون کی طالبہ آرزو پانچ برس تک اپنے دوست کے ساتھ رہیں۔ وہ ہمیشہ مانع حمل ادویات لیتی تھیں اور اس لیے یہ بات آج بھی ان کے لیے معمہ ہے کہ اس کے باوجود وہ حاملہ کیسے ہو گئیں۔ جب دو ماہ تک انھیں ماہواری نہیں ہوئی تو اور وہ مسلسل تھکن کا شکار رہنے لگیں تو تب بھی انھیں یہ لگا کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ وہ جم میں بہت سخت تربیت کرتی ہیں۔ لیکن پھر بہت ہی عجیب واقعہ ہوا۔
مجھے مردوں سے گھن سی آنے لگی۔ ان سے عجیب سے بو آتی تھی۔
انھیں یہ شک ہوا کہ وہ شاید حاملہ ہو گئی ہیں۔ آرزو نے ہمت جمع کی اور گھر میں حمل کا ٹیسٹ کرنے کے لیے متعلقہ چیزیں خریدیں۔
ان کا شک درست ثابت ہوا۔
ان کے بوائے فرینڈ کا ردعمل ان کے لیے غیر یقینی تھا۔ ’اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کسی اور کے ساتھ تھی کیونکہ ہم ہمیشہ کونڈوم استعمال کرتے ہیں۔‘
آرزو نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی کچھ کریں گی۔ ’میں گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ جو بھی گائناکالوجسٹ کا دفتر مجھے دکھائی دیتا میں اس میں چلی جاتی تھی۔ جب ڈاکٹرز میرا معائنہ کرتے اور انھیں پتہ چلتا کہ میں غیرشادی شدہ ہوں اور اسقاطِ حمل کروانا چاہتی ہوں تو وہ فوری طور پر انکار کر دیتے‘۔
آرزو ایک وکیل ہیں۔ انھوں نے ایک موکل کی طلاق کے کاغذات لیے اور اس میں اپنے کوائف لکھ دیے۔
میں جانتی تھی کہ اس ملک میں کام صرف جھوٹ سے ہی چلے گا
جعلی دستاویزات کے ساتھ انھوں نے ڈاکٹر کو اپنی مدد کے لیے راضی کر لیا۔
اس نے مجھ سے آٹھ گولیوں کے لیے اصل سے کہیں زیادہ رقم لی لیکن دوا کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
آرزو نے آن لائن ایک رفاہی ادارے کو ڈھونڈا جو ان ممالک کی عورتوں کو اسقاطِ حمل کے لیے گولیاں دیتا ہے جہاں یہ ممنوع ہے۔ وہاں سے انھیں مشورہ اور مدد ملی۔
ان دوائیوں کے نتیجے میں ان کا بہت خون بہا اورآرزو کو اپنی بہن کے ہمراہ ہسپتال جانا پڑا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے جھوٹ بولا اور انھیں بتایا کہ میرے شوہر فرانس میں رہتے ہیں اور میرے کاغذات کہیں محفوظ پڑے ہیں اور مجھے محفوظ طریقے سے اسقاطِ حمل کروانا ہے‘۔ ہسپتال کا عملہ اس انھیں داخل کرنے سے گریزاں تھا۔ آرزو کہتی ہیں کہ یہ ایک معجزہ تھا کہ انھوں نے مجھ پر یقین کیااور مجھے جگہ دی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس تمام جھوٹ اور کہانیاں گھڑنے کے بعد آخرکار مجھے داخل کر لیا گیا اور 30 منٹ بعد وہ عمل مکمل ہو گیا۔ یہ میری زندگی کا سب سے بھیانک خواب تھا‘۔
مصنف اور پروڈیوسر
فرانک عمیدی, نامہ نگار برائے امورِ خواتین
ڈیزائن
مریم نکان
ڈیٹا کلیکشن
لیونی رابرٹسن







