ٹرمپ کے سرحدی دیوار کے منصوبے کی راہ میں حائل چھ رکاوٹیں

نیچے جائیں

صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکہ اور میکسیکو کے بیچ ایک بڑی اور خوبصورت دیوار بنانے کا نعرہ لگاتے رہے ہیں

اب صدر ٹرمپ نے اس دیوار کے ڈیزائن کے لیے آئیڈیاز مانگے ہیں جن میں سے چند کا انتخاب کیا جائے گا اور انھیں سان ڈیاگو میں ایک تقریب میں پیش کیا جائے گا

ڈونلڈ ٹرمپ دو ہزار میل لمبی سرحد میں سے نصف پر دیوار چاہتے ہیں جبکہ باقی علاقے میں پہاڑ اور دریا قدرتی دیوار کا کام کریں گے

تاہم دیوار کی تعمیر کا علاقہ مختلف ہے۔ یہاں بہت سی جنگلی حیات پائی جاتی ہے اور یہ ایسی زمین سے بھی گزرے گی جس کے مالک قبائل یا پھر عام شہری ہیں۔

کیا دیوار کی تعمیر ممکن بھی ہے؟ یہ وہ چند رکاوٹیں ہیں جن پر صدر ٹرمپ کو قابو پانا ہوگا

1. جغرافیائی طور پر یہ مشکل علاقہ ہے
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ
1. جغرافیائی طور پر یہ مشکل علاقہ ہے

سرحد یہاں پرپیچ ہے اور کچھ جگہ دریاؤں سے گزرتی ہے

جیسے جیسے سرحد کیلیفورنیا کے علاقے سان ڈیاگو سے مشرق میں ٹیکسس کے علاقے براؤنزویل کی جانب بڑھتی ہے تو یہ دریا کے ساتھ ساتھ نسبتاً سیدھی ہو جاتی ہے

سرحدی علاقے اور ریو گرانڈے کی ِخلا سے لی گئی تصویر
سرحد، خصوصاً مشرق میں پرپیچ ہے جس پر تعمیر آسان نہیں
سرحد، خصوصاً مشرق میں پرپیچ ہے جس پر تعمیر آسان نہیں
امریکہ
میکسیکو

درحقیقت کئی مقامات پر اصل سرحد دریا کے اندر انتہائی گہرے علاقے میں ہے

ریو گرانڈے دریا کے درمیان دیوار بنانا تعمیراتی لحاظ سے تو چیلنج ہے ہی اس میں کچھ قانونی مشکلات بھی ہیں۔ 1889 میں امریکہ اور میکسیکو کے ایک معاہدے کے تحت دریا کے بہاؤ کو متاثر نہیں کیا سکتا یعنی اگر دیوار بنے گی تو وہ کنارے پر ہی بن سکتی ہے

موجودہ سرحدی باڑ دریا سے کہیں دور ہے اور اصل سرحد اور باڑ میں خاصا فاصلہ ہے

جس کا مطلب ہے کہ کچھ امریکی شہری میکسیکن علاقے میں رہنے پر مجبور ہیں

اگر آپ اس جگہ کو فضا سے دیکھیں تو اندازہ نہیں لگا سکتے کہ دریا کے درمیان میں دو ملک تقسیم ہو رہے ہیں کیونکہ وہاں ایک ہی ایکو سسٹم ہے جو محفوظ ہے لیکن اس تقسیم کے لیے دو ملکوں کی ضرورت ہے۔ جینیٹ جوراڈو، بگ بینڈ نیشنل پارک کے رکھوالے

یہاں ریت کے ٹیلے اور پہاڑ ہیں

اگرچہ امریکہ کی جنوبی سرحد کا دو تہائی حصہ دریاؤں کے ساتھ واقع ہے لیکن اس میں کیلیفورنیا اور ایریزونا کے صحرا اور نیو میکسیکو کے پہاڑ بھی ہیں

مشرقی کیلیفورنیا میں ایلگوڈونز یعنی ریت کے شاہی ٹیلے ہیں۔ یہاں پر بش دورِ حکومت میں تیرتی ہوئی باڑ لگائی گئی جو ٹیلوں کی منتقلی سے متاثر نہیں ہوتی۔

ریت کے یہ ٹیلے ایک ہزار مربع میل کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں
امریکہ
میکسیکو
میکسیکالی
ریت کے شاہی ٹیلے
ریت کے ٹیلوں کی خلا سے لی گئی تصویر

ادھر ایریزونا اور نیو میکسیکو پہاڑی علاقے ہیں۔ جنوب مشرقی ایریزونا اور جنوب مغربی نیومیکسیکو میں واقع کوروناڈو نیشنل پارک میں نو ہزار فٹ سے بلند کئی چوٹیاں ہیں

یہاں دیوار کی تعمیر ناممکن لگتی ہے

بگ بینڈ نیشنل پارک کے پہاڑ

یہاں بہت سے جنگلی حیات بھی ہے

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا نازک ایکو سسٹم کسی بھی نئی رکاوٹ سے متاثر ہو سکتا ہے

یہاں دیوار کی تعمیر جانوروں کو اپنی شکارگاہوں یا پانی کے ذخائر تک جانے سے روک دے گی۔ سرمئی بھیڑیے، تیندوے اور جنگلی بھینسے سرحد کے دونوں جانب شکار کھیلتے ہیں۔ سرحد کے آر پار موجود دیگر جنگلی حیات میں بڑے سینگوں والی بھیڑیں اور ریچھ شامل ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان جانوروں کی تقسیم سے نہ صرف تنوع میں کمی آئے گی بلکہ ان کی آبادی میں بھی کمی آ سکتی ہے

بگ بینڈ نیشنل پارک میں کیکٹس

امریکہ اور میکسیکو کے 12 فیصد سرحدی علاقے میں جنگلی حیات کا تحفظ مغربی ٹیکسس کے بگ بینڈ نیشنل پارک کی ذمہ داری ہے۔ اس علاقے میں امریکہ کے کسی نیشنل پارک کے مقابلے میں زیادہ اقسام کی جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔

پارک کے عملے کو خدشہ ہے کہ کوئی بھی رکاوٹ نہ صرف صحرائے چیئواوا کے ایکو سسٹم کو نقصان پہنچائے گی بلکہ اس سے ان کے دریائے گرینڈے کے پار کام کرنے والے اہلکاروں سے تعلقات بھی متاثر ہوں گے

پارک رینجر جینیٹ جوراڈو کے خیال میں میکسیکن ہمسایوں سے تعاون ماحولیات اور جنگلی حیات تحفظ کے کام کے لیے انتہائی اہم ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ اس جگہ کو فضا سے دیکھیں تو اندازہ نہیں لگا سکتے کہ دریا کے درمیان میں دو ملک تقسیم ہو رہے ہیں کیونکہ وہاں ایک ہی ایکو سسٹم ہے جو محفوظ ہے لیکن اس تقسیم کے لیے دو ملکوں کی ضرورت ہے۔‘

بگ بینڈ نیشنل پارک کے گائیڈ مائیک ڈیوڈسن مانتے ہیں کہ علاقے کی جنگلی آبادی کے تحفظ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ مائیک کہتے ہیں کہ دیوار یا باڑ بنانا بہت افسوسناک ہے۔ اس سے لوگ نیشنل پارک آنے سے گریز کریں گے۔

’لوگ سوچیں گے کہ یہاں کیا ایک دیوار دیکھنے کے لیے آئیں، ہم تو یہاں کی گہری گھاٹياں دیکھنے آنا چاہتے تھے '

آپ کی ڈیوائس میڈیا پلے بیک کو سپورٹ نہیں کرتی
tbdtbd
2. تعمیر کے اخراجات بہت زیادہ ہوں گے
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ
2. تعمیر کے اخراجات بہت زیادہ ہوں گے

دیوار کی تعمیر کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے آٹھ سے بارہ ارب ڈالر کا تخمینہ بہت جگہ چیلینج گیا گیا ہے

صدر بش کے زمانے میں 650 میل کی باڑ پر سات ارب ڈالر خرچ آیا تھا اور اسے ناقابلِ عبور، بلند، مضبوط اور خوبصورت بھی قرار نہیں دیا جا سکتا

دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے ٹرمپ کے تخمینے سے بالکل مختلف اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں

سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے رہنما مچ میکونل کا کہنا ہے کہ اس دیوار پر 12 سے 15 ارب ڈالر خرچ آئے گا جبکہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ رقم 21 ارب 60 کروڑ سے 25 ارب ڈالر کے درمیان ہوگی.

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس دیوار کی تعمیر پرتقریباً 70 ارب ڈالر اور اس کی سالانہ دیکھ بھال پر15 کروڑڈالر لگ سکتے ہیں

پہلے دن ہم جنوبی سرحد پرایک ناقابلِ عبور، حقیقی، بلند، مضبوط اور خوبصورت دیوار کی تعمیر کے لیے کام کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ

دیگر غیر سرکاری اندازے مختلف ہیں

وال سٹریٹ کی تحقیقاتی اور بروکریج کمپنی برینسٹین ریسرچ کا کہنا ہے کہ یہ رقم 15 سے 25 ارب ڈالر کے درمیان ہوگی, جبکہ تعمیراتی معاملات کی مشیر کمپنی گلیڈز کے مطابق یہ رقم [31 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوگی.

ادھر نیو امریکہ فاؤنڈیشن کے فیلو کونسٹینٹن ککائس کے مطابق کل اخراجات 40 ارب ڈالر کے قریب ہو سکتے ہیں

ایک بات طے ہے کہ یہ ایک مہنگا منصوبہ ہے اور اس کے لیے رقم ابھی تک تلاش نہیں کی جا سکی

مارچ میں اپنے مجوزہ بجٹ میں صدر ٹرمپ نے رواں مالی سال میں اس دیوار کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے جبکہ 2018 کے بجٹ میں یہ رقم دو ارب 60 کروڑ ڈالر ہوگی

تاہم کانگریس نے اس سال دیوار کی تعمیر کے لیے کوئی فنڈنگ منظور نہیں کی اور صدر ٹرمپ نے بھی اپنی ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی درخواست میں 60 کروڑ کی کمی کی ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کے مطابق ایک ارب ساٹھ کروڑ کی رقم 74 میل لمبی دیوار پر خرچ کی جائے گی جس میں سے زیادہ تر دریائے ریو گرانڈے کے ساتھ ہوگی

3. درحقیقت یہاں تعمیر بہت مشکل ہے
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ
3. درحقیقت یہاں تعمیر بہت مشکل ہے

صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر پوری دو ہزار میل کی سرحد کے ساتھ ایک دیوار تعمیر کرنے کا وعدہ کیا، انھوں نے بعد میں کہا کہ ’قدرتی رکاوٹوں‘ کی وجہ سے یہ ایک ہزار میل پر بنے گی۔ اونچائی کے لیے انہوں نے 30 سے 50 فٹ کا اندازہ دیا ہے۔

مارچ میں، ہوم لینڈ سکیورٹی اور کسٹمز اور سرحدی تحفظ کے محکموں نے حکومت کی ضروریات واضح کیں.

ان کے مطابق پیچیدہ تعمیراتی کام کے علاوہ، سروے، زمین کے حصول اور رسائی دینے والی سڑکوں کی تعمیر اہم حل طلب معاملات ہیں

ڈیزائنز بھیجنے کے لیے کمپنیوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا گیا کہ دیوار ری انفورسڈ کنکریٹ سے بننی چاہیے اور

  • اسے کم از کم 18 فٹ بلند ہونا چاہیے
  • اس پر سیڑھی یا آنکڑوں کی مدد سے چڑھنا ممکن نہ ہو اور اس میں آلات کی مدد سے سوراخ کرنے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگے
  • اس کی بنیاد چھ فٹ گہری ہونی چاہیے تاکہ اس کے نیچے سرنگ کا نہ کھودی جا سکے
  • یہ اردگرد کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہو اور شمالی سمت سے جاذب نظر ہو
  • اس میں راہ گیروں اور گاڑیوں کے لیے 25 اور 50 فٹ اونچے دروازے بنائے جائیں

نیویارک کے انجینئر ایلکس وینبرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حجم کی ایک دیوار انجینئرز کے لیے مسئلہ نہیں کیونکہ اس میں انجینرنگ کے لحاظ سے کچھ مشکل نہیں۔ اصل وہ بڑا پیمانہ ہے جس پر یہ کام کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اصل چیلنج لاجسٹکس کا ہوگا۔‘

زمین کا سروے اور خریداری کی ضرورت ہو گی۔ بنیادیں کھودی جائیں گی اور تعمیراتی سامان بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ کیونکہ تعمیراتی سائٹ دودراز مقامات پر ہو گی تو وہاں تک رسائی کے لیے سڑکیں چاہیے ہوں گی اور افرادی قوت کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی ضرورت ہوگی۔

ایلکس وینبرگ کا کہنا ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے

جارج ڈبلیو بش کی متعارف کردہ باڑ

نارمنڈی طرز کی باڑ(گاڑیوں کے لیے)دوہرے سٹیل کی باڑ ( راہ گیروں کے لیے)راہ گیروں کے لیے رکاوٹوں والی باڑگاڑیوں کے لیے رکاوٹوں والی باڑ
جارج ڈبلیو بش کی متعارف کردہ باڑ کی اقسام کے بارے میں انفوگرافک
ذریعہ: جی اے او

تاہم حکومت نے کنکریٹ کی دیوار کے ڈیزائن کے علاوہ ایسے ڈیزائن بھی طلب کیے ہیں جن میں دیوار کے آر پار دیکھا جا سکتا ہو تاکہ دوسری جانب کے حالات سے باخبر رہا جا سکے

اس سے ظاہر ہے کہ حکومت تعمیر کے لیے کنکریٹ کے علاوہ دیگر چیزوں پر بھی غور کر رہی ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کے سیکریٹری جان ایف کیلی نے یہ بات رواں ماہ سینیٹ کی ہوم لینڈ کمیٹی کے ارکان کو بتائی

انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک کونے سے دوسرے کونے تک دیوار نہیں بنانے والے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اہم مقامات پر دیوار حقیقی شکل میں موجود ہوگی اور جہاں وہ دکھائی نہیں دے گی وہاں سینسرز، ڈرونز اور دیگر ٹیکنالوجی نگرانی کا کام کرے گی۔

4. زمین کا حصول ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ
4. زمین کا حصول ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے

دیوار کی تعمیر کے لیے حکومت کو اس جگہ کے مالکان کی اجازت درکار ہے

تاہم امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر %66 زمین لوگوں کی نجی ملکیت ہے یا قبائلی اس کے مالک ہیں۔

اس صورت میں، سرکاری املاک کی بڑے پیمانے پر رضاکارانہ فروخت یا دیوار کے ساتھ راستے کے لیے مالکان سے گفت و شنید کی ضرورت ہو گی.

اس سے ہزاروں مالکانِ زمین متاثر ہو سکتے ہیں جن میں ٹیکسس کی رینچز کے مالکان بھی ہیں اور ان میں ٹرمپ کے ووٹر بھی شامل ہیں جن کے مویشیوں کے لیے ریو گرانڈے کے کنارے بنی چراگاہیں نہایت اہم ہیں۔

میں اس دیوار کا حامی اس لیے ہوں کہ یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ بس اس وقت تک کے لیے جب تک لوگوں کوعقل نہیں آ جاتی۔ رینے ولاریئل، ٹیکسس کے زمیندار

اس زمین کی خریداری ایک بڑا چیلنج ہو سکتی ہے اور اگر لوگ انکار کرتے ہیں تو حکومت کو زبردستی کرنا پڑے گی

ایمیننٹ ڈومین کیا ہے؟

ایمیننٹ ڈومین ایک نظام ہے جسے عوامی استعمال کے لیے نجی زمین کی ملکیت حاصل کرنے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عوامی استعمال سے مراد سڑکیں اور ریلوے لائن ہے۔ اس میں عموماً مالک کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ماضی میں بھی سرحدی باڑوں کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے شعبۂ قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر جیرلڈ ایس ڈکنسن کا کہنا ہے کہ ایمیننٹ ڈومین کی یہ قانونی جنگیں کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہیں.

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ

انھوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اس سے قبل کہ تعمیر شروع بھی ہو وفاق کی جانب سے ایمیننٹ ڈومین کا بڑے پیمانے پر استعمال دہائیوں تک جاری ہونے والے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے

1990 کی دہائی میں بش انتظامیہ کو سینکڑوں زمین مالکان سے سودے کرنے پڑے تھے۔ کئی شہریوں اور مقامی حکومتوں نے مزاحمت بھی کی جس کے نتیجے میں خاصی تاخیر ہوئی۔

ان میں ایک ایسا خاندان بھی تھا جس کی نصف زرعی زمین اور گھر ان سے لے لیا گیا اور اب وہ باڑ کے پار میکسیکن علاقے میں رہنے پر مجبور ہے۔ امریکی علاقے میں آنے کے لیے انھیں ایک دروازے سے گزرنا پڑتا ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر کلیئر مکاسکل نے سینیٹ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ باڑ کے لیے زمین کے حصول کے 400 معاملات میں 330 معاملے عدالت میں گئے جن میں سے 90 تاحال حل طلب ہیں

تاہم کچھ زمیندار ایسے ہیں جو موجودہ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہیں

ولاریئل خاندان کی زمین ٹیکسس میں ریو گرانڈے شہر کے نواح میں دریا کے ساتھ واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے امیگریشن کے معاملے میں سخت موقف کی وجہ سے خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں

ڈینیئل ولاریئل کا کہنا ہے ’میں یقیناً زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہوں۔ جب سے ہمیں [غیر قانونی پناہ گزینوں کے اپنی زمین سے گزرنے کا] مسئلہ درپیش ہے ہم ہمیشہ مسلح ہو کر یہاں [دریا پر]آتے تھے۔‘

’تاہم اب حالات مختلف ہیں اور زیادہ لوگ گھسنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم یہاں آئیں، صفائی کریں اور اپنے دریا کا کنارہ حاصل کر لیں۔‘

اس خاندان سے بش انتظامیہ نے باڑ کی تعمیر سے قبل بھی رابطہ کیا تھا۔ رینے ولاریئل کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان اپنی زمین پر غیر مستقل بنیادوں پر دیوار کی تعمیر کا مخالف نہیں کیونکہ وہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے لوگوں کو روکنے میں مدد دے گی۔

رینے کا کہنا ہے کہ ’میں یہ دیوار چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک مستقل چیز نہیں ہوگی۔ یہ ابد تک یہاں نہیں رہے گی بلکہ صرف اس وقت تک جب تک لوگوں کو عقل نہیں آ جاتی۔‘

تاہم چاہے کچھ زمینداروں کو اعتراض نہ بھی ہو قبائلی علاقوں میں رہنے والوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ توہونو اوداہم قبائلی ایسی زیادہ تر زمین کے مالک ہیں جن میں ایریزونا کی سرحد کے ساتھ 75 میل کا محفوظ قرار دیا گیا علاقہ بھی شامل ہے۔

قبائلی سرحد کے دونوں جانب رہتے ہیں اور اس علاقے کو اپنی آبائی سرزمین سمجھتے ہیں۔ وہ اشارہ دے چکے ہیں کہ دیوار کی تعمیر کی صورت میں وہ اس کی مخالفت کریں گے.

اگر ایسا ہوا تو صدر ٹرمپ کو یہ زمین حاصل کرنے کے لیے کانگریس سے اجازت کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس زمین کو قانون کے تحت تحفظ دیا گیا ہے

5. اسے کارآمد بنانے کے لیے یہاں مستقل گشت کی ضرورت ہے
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ
5. اسے کارآمد بنانے کے لیے یہاں مستقل گشت کی ضرورت ہے

جیسے بہت سے لوگ نشاندہی کر چکے ہیں، اگر مستقل نگرانی نہ ہو تو کنکریٹ کے اونچے ٹکڑے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے نہیں روک سکتے

ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری جان ایف کیلی خود کہہ چکے ہیں کہ ’صرف ایک دیوار کی تعمیر سے مقصد حاصل نہیں ہوگا۔‘ اور یہ کہ آپ کو اسے کامیاب بنانے کے لیے گشتی ٹیموں، سینسرز اور نگرانی کے دیگر آلات کی ضرورت پڑے گی۔

صدارت سنبھالنے کے پانچ دن بعد جاری کردہ صدارتی حکم میں ٹرمپ نے پانچ ہزار سرحدی محافظوں اور دس ہزار امیگریشن افسران کی بھرتی کو کہا لیکن بجٹ میں صرف پانچ سو سرحدی محافظوں اور ایک ہزار امیگریشن افسران کے لیے منظوری دی گئی۔

ریو گرانڈے وادی کی سرحدی گشتی محافظ مارلین کاسترو کا خیال ہے کہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کافی تعداد میں عملے کی موجودگی اس پیکیج کا حصہ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ دراندازی روکنے کے لیے ٹیکنالوجی، حالات سے آگاہی اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ افرادی قوت کیسے اہم ہے

’آپ کے پاس بہترین ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر ہو لیکن اگر فوری کارروائی کے لیے مستعد عملہ نہ ہو تو یہ سب بےکار ہے۔‘

مس کاسترو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد اپنے علاقے میں بہت سے غیرقانونی راستے بند ہوتے دیکھے ہیں تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے سرحدی محافظوں پر حملوں میں تیزی بھی آتی دیکھی ہے۔ یہ ان حملوں کو اس جھنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتی ہیں جس کا شکار راستے بند ہونے سے غیرقانونی تارکینِ وطن ہوئے ہیں۔

’سمگلر آج کل بہت بےتاب ہیں۔۔۔ ہاں یہ ایک اندازہ ہی ہے۔ میں ایک سمگلر کی ترجمانی تو نہیں کر سکتی لیکن سوچتی ہوں کہ انھیں کم لوگوں کے سرحد پار آنے سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔‘

کوئی بھی دیوار چاہے وہ کتنی خوبصورت، کتنی بڑی اور کتنی مہنگی ہی کیوں نہ ہو، ایسے افراد کو نہیں روک سکتی جو مضطرب، ضرورت مند اور غریب ہیں ٹونی ایسٹراڈا، سانتا کروز کاؤنٹی شیرف

’ہارس‘ کے نام سے معروف ایک سمگلر کے مطابق اس کا کاروبار بش دور کی باڑ سے متاثر ہوا تھا اور ایک بڑی دیوار سے انسانی سمگلنگ کے معاملات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ میکسیکن مافیا سرحد پار کرنے کے نئے طریقے تلاش کرتی رہے گی بس اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔

سانتا کروز کاؤنٹی کے شیرف ٹونی ایسٹراڈا تسلیم کرتے ہیں کہ لوگ کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیں گے

’کوئی بھی دیوار چاہے وہ کتنی خوبصورت، کتنی بڑی اور کتنی مہنگی ہی کیوں نہ ہو، ایسے افراد کو نہیں روک سکتی جو مضطرب، ضرورت مند اور غریب ہیں‘

’ یہ لوگ ہزاروں میل دور سے بڑی رقم خرچ کر کے اور بہت بڑا خطرہ مول لے کر آتے ہیں۔ سارے راستے ان کا استحصال ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں کیا ایک دیوار انھیں روک سکے گی؟ نہیں بس یہ ان کے لیے ایک اور رکاوٹ ہو گی۔‘

آپ کی ڈیوائس میڈیا پلے بیک کو سپورٹ نہیں کرتی
tbdtbd
6. امریکہ اور میکسیکو کے سرحدی قصبات ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں
امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا ایک حصہ
6. امریکہ اور میکسیکو کے سرحدی قصبات ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں

سرحد بند کر دینے سے ان قصبات کی معیشت پر خصوصاً اور امریکہ-میکسیکو معیشت پر عموماً اثر پڑے گا اور یہ وہ چیز ہے جو اکثر امریکی سیاستدان نہیں چاہیں گے۔

سرحد کی امریکی جانب بسنے والے افراد نے میکسیکن شہروں سے گہرے اقتصادی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔ بہت سے امریکی کارخانے میکسیکو کے مختلف شہروں میں قائم ہیں جن میں ہزاروں افراد ملازم ہیں اور امریکہ کی سرحدی ریاستوں میں میکسیکن شہری خریداری پر ہر سال کروڑوں ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔

میکسیکو میں سستی مزدوری کی وجہ سے وہاں کارخانوں کی تعداد بڑھی ہے جنھیں میکویلادورا کہا جاتا ہے

ان کارخانوں کو ٹیکس میں چھوٹ ملتی ہے اور یہ مال تیار کر کے برآمد کرتے ہیں۔ یہ سب شمالی امریکن فری ٹریڈ معاہدے کا نتیجہ ہے کو 1994 میں ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان تجارت میں کئی ٹیکسوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

چیؤداد ہواریز اور چیئواوا میں کارخانوں کی بڑھتی تعداد
چیئوداد ہواریز میں کارخانےچیئواوا میں کارخانے
نقشہ جس میں چیؤداد ہواریز اور چیئواوا میں کارخانوں کی بڑھتی تعداد دکھائی گئی ہے
ذریعہ: ایل پاسو بارڈر ریجن ماڈلنگ پراجیکٹ، یونیورسٹی آف ٹیکسس

دیوار کی وجہ سے امریکہ اور میکسیکو کے معاشی تعلقات پر اثر ہو سکتا ہے۔ میکسیکو امریکہ کی برآمدات کے لیے دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے جبکہ میکسیکو کے لیے امریکہ برآمدات کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

ولسن سنٹر کے میکسیکو انسٹیوٹ میں کام کرنے والے کرسٹوفر ولسن کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ معاشی طور پر گہرے تعلقات ہیں اور اس کے سبب تقریباً پچاس لاکھ امریکی برسر روزگار ہیں۔ ولسن سنٹر کی تحقیق کے مطابق اگر امریکہ اور میکسیکو کے درمیان تجارت معطل ہو جائے تو 49 لاکھ امریکی بے روز گار ہو جائیں گے۔

مسٹر ولسن کے مطابق دونوں ممالک کی معشیتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور اب وہ ایک دوسرے کو تیار اشیاء نہیں بیچتے بلکہ ’سامان مل کر بناتے ہیں۔‘

’پیداواری عمل کے دوران یہ سامان کئی دفعہ سرحد سے گزار کر دوسری جانب لے جایا جاتا ہے‘ انھوں نے کہا۔ ’دونوں میکسیکو اور امریکہ اس سامان کی قدر میں اضافہ کر رہے ہیں جو اس خطے میں بیچی جاتی ہیں اور پھر دنیا بھر میں ان کو بر آمد کیا جاتا ہے۔‘

ولسن سنٹر کی ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ امریکہ-میکسیکو کے درمیان ہونے والی تجارت کے آدھاحصہ اس سامان کی ترسیل سے ہوتا ہے۔

’سب سے گہرے درجے پر دیکھیں تو ہم اس میں اکھٹے ہیں۔‘

میکسیکو اور امریکہ کے درمیان تجارتی رابطے توڑنا مشکل ہے۔ امریکہ میکسیکو میں رقم بچاتا ہے اور اصل خطرہ اسے ہی ہے میکسیکو کے علاقے نوئیوو لاریدو میں رہائش پذیرٹرک ڈرائیور ہوزے انتونیو گارسیا

ٹرک ڈرائیور ہوزے انتونیو گارسیا نوئیوو لاریدو میں رہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ سرحد کے دونوں طرف والے ایک دوسرے پر کتنا انحصار کرتے ہیں

ہوزے ہر ہفتے سرحد پار جاتے ہیں اور نئی دیوار کے اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں

’فرض کریں کہ اگر جہاں سے 14 ہزار ٹرک روزانہ گزرتے ہوں وہ تعداد 4 ہزار رہ جائے۔ یہاں ٹرک ڈرائیور بےروزگار ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے نشاندہی کی کہ نوکریاں اور کاروبار واپس امریکہ لے جانے سے دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے

ان کے مطابق ’امریکہ میں مزدوری مہنگی ہے۔ وہ ایک کارکن کو 14 ڈالر فی گھنٹہ دیتے ہیں۔ یہاں اس رقم میں تین میکسیکن مل جاتے ہیں۔‘

’یہی وجہ ہے کہ میکسیکو اور امریکہ کے درمیان تجارتی رابطے توڑنا مشکل ہے۔ امریکہ میکسیکو میں رقم بچاتا ہے۔ اور اسی کو خطرہ ہے‘

n/a
tbdtbd

یہ کہانی شیئر کریں


کریڈٹس

فیلڈ رپورٹنگ، ویڈیو جرنلزم اور فوٹوگرافی: پال ہیرس اور کیلون براؤن


اس خبر کے بارے میں مزید