بی بی سی کی 100 خواتین برائے 2024: اس سال اس فہرست میں کون ہے؟
بی بی سی نے 2024 کے لیے دنیا بھر کی 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست جاری کی ہے۔
ان میں نوبل امن انعام یافتہ نادیہ مراد، ریپ سے بچ جانے والی اور انسانی حقوق کی کارکن گیسل پیلیکوٹ، اداکارہ شیرون سٹون، اولمپیئن ایتھلیٹ ریبیکا اینڈریڈ اور ایلیسن فیلکس، گلوکارہ رے، وژوئل آرٹسٹ ٹریسی ایمن، ماحولیاتی تحفظ کی کارکن اڈینیکی اولاڈوسو اور مصنفہ کرسٹینا ریویرا گرزا شامل ہیں۔
غزہ، لبنان، یوکرین اور سوڈان میں مہلک تنازعات اور انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے سے لے کر دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں انتخابات کے بعد معاشروں میں پولرائزیشن دیکھنے تک، خواتین کو مزاحمت کے لیے نئی راہیں تلاش کے میں بہت محنت کرنا پڑی ہے۔
بی بی سی 100 خواتین اس بات کا اعتراف ہیں کہ اس سال خواتین کو کس قدر نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ایسی خواتین کو اجاگر کیا جو اپنی مزاحمت کے ذریعے تبدیلی پر زور دے رہی ہیں کیونکہ ان کے ارد گرد دنیا بدل رہی ہے۔ یہ فہرست ماحولیات کی ہنگامی صورتحال کے اثرات کو تلاش کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے اور ماحولیاتی تحفظ کی ایسی بانیوں کو اجاگر کرتی ہے جو اپنی برادریوں کو اس کے اثرات سے نمٹنے اور اس کے مطابق ڈھالنے میں مدد دے رہی ہیں۔
اس فہرست میں شامل نام کسی خاص ترتیب میں مرتب نہیں کیے گئے
ثقافت اور تعلیم

ٹریسی ایمن , برطانیہ
آرٹسٹ
1990 کی دہائی میں ٹریسی ایمن نے مائی بیڈ اور دی ٹینٹ جیسے اکسانے والے مضامین کے لیے شہرت حاصل کی جو لوگوں کو اپنے جنسی تجربات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اس کے بعد سے وہ آرٹ کی دنیا میں فوری طور پر پہچانا جانے والا نام بن گئی ہیں جو اپنے اعترافی اور آپ بیتی بتانے والے انداز کے لیے مشہور ہیں۔
لندن میں مائی بیڈ کی پہلی نمائش کو اب 25 سال ہو چکے ہیں، جس پر میڈیا میں کافی بحث چھڑی۔ ایک زمانے میں برطانوی آرٹ کی خوفناک اداکارہ قرارد ی جانے والی ایمن کو رواں سال بادشاہ چارلس نے بصری فنون میں ان کی خدمات کی وجہ سے ’ڈیم‘ یا بیگم کا خطاب دیا۔
انھوں نے مستقبل کے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے برطانیہ کے شہر مارگیٹ میں ٹریسی ایمن فاؤنڈیشن قائم کی ہے۔
اس وقت ایک خاتون ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ ہم جتنی ممکن ہو مزاحمت کریں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب ایک ایسا وقت ہے جب خواتین کے لیے ایک بڑا اتحاد اور ایک بڑی لڑائی ہونی چاہیے۔
ٹریسی ایمن

,
معروف مصنفہ کرسٹینا ریویرا گارزا کو گذشتہ برسوں کے دوران کئی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، جن میں ان کی کتاب ’لیلیاناز انوینسیبل سمر‘ کے لیے یادداشت کے زمرے میں 2024 کا پلٹزر انعام بھی شامل ہے جو خواتین کے قتل کے مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے۔
سنہ 1990 کی دہائی میں میکسیکو میں ایک سابق بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہونے والی اپنی بہن لیلیانا کی کہانی کے ذریعے مصنفہ اپنے پیاروں کو کھونے کا صدمے بیان کرتی ہیں۔ ان کی بہن کے قاتل کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلا۔ یہ ایک ایسے ملک میں انصاف کی تلاش کی کہانی ہے جہاں خواتین کے قتل کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
ریویرا گارزا ہیوسٹن یونیورسٹی میں ہسپانوی میں تخلیقی تحریر میں پی ایچ ڈی پروگرام کی بانی اور چیئر بھی ہیں۔
زبان کے ساتھ مسلسل اور مکمل طور پر الجھتے رہنا تاکہ زبان آخر کار کہانی میں خواتین کے پہلو کو بیان کرسکے یہ کسی بھی قسم کی مزاحمت کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

, میانمار
فلمساز
ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ساز شین ڈیوو کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ان کے سامان میں ایک ڈرون پایا گیا۔
رواں برس سال فوج کے زیر اقتدار میانمار میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا۔ ایک بند عدالت میں انھیں قانونی نمائندگی دینے سے انکار کر دیا گیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
فلم ساز 1988 سے فوجی حکمرانی کی مخالفت کر رہی ہیں اور حراست میں رہنا ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔
انھوں نے ایک درجن مختصر دستاویزی فلموں کی ہدایت کاری کی ہے جن میں سے کئی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے، جس میں 2007 کے جمہوریت نواز مظاہروں کے بارے میں ان کی فلم بھی شامل ہے جہاں ہزاروں بودھ راہبوں نے جنتا کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

زینیلسنزت ترگن بائیوا , کرغستان
عجائب گھر کی مینیجر
کرغزستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور بحالی زینیلسنزت ترگن بائیوا کی ترجیح ہے۔
وہ بشکیک میں ایک خلقیاتی عجائب گھر چلاتی ہیں، جس میں منفرد قومی نوادرات موجود ہیں جنھیں دیکھنے بڑی تعداد میں لوگوں آتے ہیں۔
ان کے فلاحی کاموں کے ایک حصے میں کرغز ادب کا تحفظ بھی ہے، جس میں مناس کی داستان بھی شامل ہے، جس میں ایک ایسے جنگجو کی کہانی بیان کی گئی ہے جس نے کرغز خطے کے 40 قبائل کو متحد کیا تھا۔
یونیسکو کی فہرست میں شامل یادگار نظم کا ایک ورژن تقریباً 500،000 اشعار پر مشتمل ہے اور اسے دنیا کی سب سے لمبی نظم سمجھا جاتا ہے۔ ترگن بائیوا اپنے کام کے ذریعے اس کرغز کلاسک کو پڑھنے والے ’مانسچی‘ کے لیے مواقع اور وسائل پیدا کرتی ہیں۔

, امریکہ
ربی
نیویارک میں یہودی برادری میں ایک رہنما، ربی شیرون کلین بام نے ایل جی بی ٹی کیو حقوق اور مذہب کے دوارہے پر تبدیلی لانے میں تین دہائیاں گزاری ہیں۔
وہ 1992 میں شہر کی پہلی ربی کے طور پر مقرر ہوئیں۔ انھوں نے 1990 کی دہائی میں ایڈز کے بحران سمیت نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے کمیونٹی کی رہنمائی کی ہے۔
انھوں نے ٹرانس اور نان بائنری لوگوں کو شامل کرنے کے لیے اجتماع کی رکنیت میں توسیع کی نگرانی کی اور اب یہ امریکہ میں سب سے بڑی ایل جی بی ٹی کیو دوستانہ عبادت گاہ سمجھی جاتی ہے۔
اس سال ریٹائر ہونے والی کلین بام سماجی انصاف کے منصوبوں کے پیچھے سب سے بڑی قوت رہی ہیں اور انھیں صدر جو بائیڈن نے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن میں تعینات کیا تھا۔
خوشی روحانی اور سیاسی مزاحمت کا ایک عمل ہے۔

کرسٹینا آسی, لبنان
فوٹو جرنلسٹ
فوٹو جرنلسٹ کرسٹینا آسی کی پرورش 1990 کی دہائی میں لبنان میں ہوئی جو خانہ جنگی کے بعد مسلسل عدم استحکام کا دور تھا اور اس چیز نے تنازعات کو دستاویزی شکل دینے اور جنگ کی ناقابل بیان کہانیوں کا احاطہ کرنے کی ان کی مہم کو تقویت دی۔
اکتوبر 2023 میں ان کی زندگی نے ایک المناک موڑ لیا، جب وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہو گئیں۔
دھماکے میں ان کے ساتھی صحافی عصام عبداللہ ہلاک اور پانچ دیگر ساتھی زخمی ہوئے اور بعد میں آسی کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی۔
اس تجربے نے انھیں صحافیوں کے تحفظ کے حوالےکام کرنے پر مجبور کیا اور انھوں نے پیرس میں 2024 کے اولمپک مشعل ریلے میں اپنی شرکت ان تمام صحافیوں کے نام کی جو فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

حربيہ الحميری, یمن
ہیریٹیج کنزرویشن انجینیئر
یمن میں برسوں تک جاری رہنے والی جنگ سے تاریخی اہمیت رکھنے والی بہت سی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا تاہم انجینئر حربیہ الحمیری نے ان عمارتوں کو نئی زندگی دینے کے لیے ایک مشن کا آغاز کیا۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی کلچرل ایجنسی، یونیسکواور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کریمن کے قدیم شہر صنعا سمیت ملک بھر کی درجنوں رہائشی اور ثقافتی ورثے کی حامل عمارتوں کو بحال کیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق جنگ سے 16 ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔
ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبے میں ان کی خدمات نے نہ صرف تاریخی مقامات کو محفوظ کیا بلکہ ساتھ ہی بے شمار لوگوں لوگوں کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنایا ہے۔
حربیہ الحمیری نے مقامی افراد کو روایتی عمارت سازی کی تربیت بھی دی۔ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر کئی نوجوان لڑکیاں اس صنعت میں کام کرنے پر راغب ہوئیں۔

بلستيا العقاد, فلسطینی علاقے
صحافی اور شاعرہ
بائیس سالہ پلسٹیا العقاد نے حال ہی میں یونیورسٹی سے گریجویشن کیا تھا جب غزہ میں جنگ شروع ہوئی تھی۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں، اس نے شدید اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران اپنے اپارٹمنٹ میں اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔
یہ پوسٹ وائرل ہو گئی اور غزہ کے بارے میں ان کی تازہ ترین خبروں، نظموں اور ڈائری کے مندرجات کا نتیجہ انسٹاگرام پر ان کے چالیس لاکھ فالوورز کی شکل میں نکلا۔ ان رپورٹس پر مبنی ان کی یادداشتیں ’غزہ کی آنکھیں‘ کے نام سے جلد ہی شائع کیا جائے گا۔
العقاد سنہ 2024 کے لیے ون ینگ ورلڈ کی صحافی قرار دی گئی ہیں۔ انھوں نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ جیسے اعلیٰ سطح کے فورمز پر فلسطینیوں کی وکالت بھی کی ہے۔
العقاد نے نومبر 2023 میں غزہ چھوڑا۔ انھیں بیروت میں میڈیا سٹڈیز میں ماسٹرز کے لیے سکالرشپ دیا گیا ہے۔

حمیدہ امان, افغانستان
میڈیا اور تعلیمی صنعت کار
جب طالبان کی جانب سے افغان لڑکیوں کو ثانوی تعلیم تک رسائی سے انکار کر دیا گیا تو میڈیاصنعت کار حمیدہ امان نے بیگم اکیڈمی شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جو ایک آن لائن جگہ ہے جس میں ان طلبا کے لیے مفت ملٹی میڈیا کورسز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جو سکول نہیں جا سکتے۔
گذشتہ سال اس تعلیمی پلیٹ فارم نے دری اور پشتو زبان میں 8500 سے زائد ویڈیوز فراہم کی ہیں جن میں ساتویں سے بارہویں جماعت تک کے سکولوں کے نصاب کا احاطہ کیا گیا ہے۔
مارچ میں حمیدہ امان نے بیگم ٹی وی کا آغاز کیا، جو ایک تعلیمی چینل ہے جو سیٹلائٹ کے ذریعے بیگم اکیڈمی کے کورسز نشر کرتا ہے۔
اس سے پہلے انھوں نے ایک ریڈیو بیگم منصوبے بنایا جو خواتین کے لیے اور خواتین کی جانب سے سے بنایا گیا سٹیشن ہے جو 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد بنایا گیا تھا۔

سویتلانا انوخینا,
انسانی حقوق کی کارکن
سویتلانا انوخینا نے کئی سال تک گھریلو تشدد کے متاثرین کو روس کے شمالی قفقاز سے فرار ہونے میں مدد کی ہے، جو مشرقی یورپ اور ایشیا سے متصّل ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔
دیگر رضاکاروں کے ساتھ مل کر انھوں نے 2020 میں ماریم پروجیکٹ کی بنیاد رکھی۔ اس سے داغستان، چیچنیا اور شمالی قفقاز کی دیگر ریاستوں سے خطرے سے دوچار خواتین کو انخلا اور عارضی رہائش تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انوخینا نے خود 2021 میں روس چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا جب چیچن اور داغستانی سکیورٹی فورسز نے ان کی خواتین کے لیے بنیائی گئی پناہ گاہ پر چھاپہ مارا تھا۔
گذشتہ سال حکام نے روسی مسلح افواج کو بدنام کرنے کے الزام میں ان کے خلاف فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

یوجینیا بونیٹی, اٹلی
نن
سسٹر یوجینیا بونیٹی نے 100 سے زائد پناہ گاہوں کا انتظام کرنے اور انسانی سمگلنگ اور استحصال کا شکار تارکین وطن خواتین کی مدد کے لیے افریقہ میں راہباؤں کے ساتھ ایک نیٹ ورک قائم کرنے میں مدد کی ہے۔
انھوں نے روم میں سیکس تجارت پر مجبور ہونے والی خواتین کی مدد کرنے میں کئی سال گزرارے اور انسانی سمگلنگ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے والی تنظیم ’سلیو نو مور‘ کی صدر بن گئیں۔
بونیٹی 24 سال سے زیادہ عرصے تک کینیا میں ایک مشنری تھیں اور انھوں نے انسانی سمگلنگ کے خلاف اقدامات کو فروغ دینے کے لیے مختلف ممالک میں حکام کو تربیت دینے میں مدد کی۔
ریٹائرمنٹ سے قبل پوپ فرانسس نے انھیں 2019 کا وے آف دی کراس لکھنے کے لیے کہا تھا، جو کولوسیئم میں گڈ فرائیڈے کے موقع پر کیتھولکس کے لیے ایک اہم سالانہ نذرانہِ عقیدت ہےگ

جوہانا باہمون, کولمبیا
سماجی کارکن
کولمبیا کی ایک جیل کے دورے نے اداکارہ جوہانا باہمون کی زندگی بدل کر رکھ دی اور انھیں ان لوگوں کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی جنہیں ’دوسرا موقع‘ چاہیے تھا۔
سنہ 2012 میں انھوں نے اپنے کیریئر کو اداکاری سے جیل اصلاحات کی وکالت کرنے کی طرف منتقل کیا اور ایک غیر منافع بخش تنظیم فنڈاسیون اکیون انٹرنا کی بنیاد رکھی جو کولمبیا کی جیلوں کے قیدیوں اور رہا ہونے والوں کی مدد کرتی ہے۔
فاؤنڈیشن نے اب تک ملک بھر میں 150،000 سے زیادہ افراد اور 132 حراستی مراکز تک مدد پہنچائی ہے۔
وہ سنہ 2022 کے ’دوسرا موقعہ قانون‘ کی پروموٹر بھی تھیں جسے جوہانا باہمون بل کے نام سے جانا جاتا ہے، جس نے جیل کے بعد لوگوں کے لیے روزگار اور تربیت تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے معاشی ترغیبات قائم کیں۔
مزاحمت مشکل کے بعد اٹھنے اور آگے بڑھنے سے بھی آگے کی چیز ہے۔ یہ فیصلے کو ذاتی ترقی کے موقعے میں تبدیل کرنے کانام ہے۔
جوہانا باہمون

ایڈانیا ڈیل ریو, کیوبا
فیشن انٹرپرینیور
کلانڈیسٹینا کیوبا کا پہلا آزاد فیشن برانڈ ہے جو اپنے کپڑوں کو دنیا بھر کی مارکیٹ میں آن لائن فروخت کرتا ہے جس کی مشترکہ بنیاد گرافک ڈیزائنر ایڈانیا ڈیل ریو نے رکھی ہے۔
یہ کمپنی اس وقت وجود میں آئی تھی جب صدر راؤل کاسترو نے آزاد کاروبار اور تجارت کے قواعد و ضوابط میں نرمی کی تھی۔
ہوانا سے تعلق رکھنے والی خواتین ڈیزائنرز کی اکثریتی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ یہ مصنوعات کیوبا کی ثقافت کو اجاگر کر تی ہیں اور اس کا مقصد جزیرے کی تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ڈیل ریو کمپنی کی پیداواری چین میں اپ سائیکلنگ کو شامل کرتا ہے اور پائیدار طریقوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
وہ ہوانا انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن کی گریجویٹ ہیں۔ اپنا فیشن کاروبار شروع کرنے سے پہلےانھوں نے گیلریوں، تھیٹروں اور فیسٹیولز کے لیے پوسٹر ڈیزائن کیے۔

پوجا شرما, انڈیا
آخری رسومات ادا کرنے والی
پوجا شرما گذشتہ تین سال سے دہلی میں لاوارث لاشوں کی آخری رسومات ادا کر رہی ہیں۔
انھیں اس کی ترغیب ذاتی تجربے سے ملی۔ انھوں نے اپنے بھائی کے قتل کے بعد سب سے پہلے ان کی آخری رسومات ادا کیں اور کوئی بھی ان کی آخری رسومات میں مدد کے لیے نہیں آیا۔
بوجا شرما کو پجاریوں اور ان کی وسیع تر برادری کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ کردار روایتی طور پر ہندو مذہب کے مردوں کے پاس ہے۔
رد عمل کے باوجود انھوں نے مختلف عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے 4،000 سے زیادہ لوگوں کی آخری رسومات ادا کیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے کام کو شیئر کیا اور ہر ایک کو وہ وقار دینے کی وکالت کی جس کے وہ مستحق ہیں۔

ژوان فانگ, ویتنام
فلم ہدایتکار، مصنف، گیلری کی مالک
اپنی 95 ویں سالگرہ کے قریب، مصنفہ اور ہدایت کار ژوان فانگ نے ایک بہت ہی بھرپور زندگی گزاری ہے۔
انھوں نے ویتنام میں دو جنگوں کا تجربہ کیا ہے اور 16 سال کی عمر میں فرانس سے ملک کی آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا۔
ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ ایک کلینک چلاتی تھیں، جنگ کی رپورٹنگ کرنے والی نامہ نگار اور ویتنام ٹیلی ویژن کے لیے ایک فلم ڈائریکٹر رہ چکی ہیں جنھوں نے سیگون کے زوال جیسے تاریخی لمحات کا مشاہدہ کیا ہے۔
62 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کے بجائے انھوں نے لوٹس گیلری شروع کی۔ ہو چی منہ شہر میں پہلی نجی گیلریوں میں سے ایک ویتنامی آرٹ کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی۔ انھوں نے مقامی فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرکے وسیع پیمانے پر شہرت حاصل ہے۔

لیزلی لوکو, گھانا/ برطانیہ
معمار
لیزلی لوکو نے رائل انسٹی ٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس کا 2024 کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے جو ان کے شعبے میں دنیا کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک ہے اور وہ 1848 میں انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے بعد سے یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔
انھوں نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کم نمائندگی والے پس منظر کے لوگوں کو صنعت میں لانے کی وکالت کی ہے۔
وہ گھانا سے تعلق رکھنے والی سکاٹش ماہر تعلیم ایسی پہلی افریقی نژاد خاتون بھی بن گئیں جنہوں نے وینس بائینل آف آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کی، جہاں انھوں نے ڈی کاربنائزیشن اور ڈی کولونائزیشن کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی۔
وہ اکرا میں افریقی فیوچرز انسٹی ٹیوٹ کی بانی ہیں جو فن تعمیر ، شناخت اور نسل کے مابین تعلقات پر کام کرتا ہے۔
مزاحمت بے حسی کے باوجود بھی طویل عرصے تک اپنے راستے پر قائم رہنے کی صلاحیت ہے جسے اکثر مخالفت کے مقابلے میں برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
لیزلی لوکو

یاسمین مجالی, فلسطین
ڈیزائنر
فیشن ڈزائنر یاسمین مجالی کے ڈیزائنزمیں فلسطین کی روایات اور طرز زندگی کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس مغربی کنارے کےعلاقے رام اللہ چلی آئیں جہاں انھوں نے 2020 میں اپنا برانڈ ’نول کلیکٹیو‘ شروع کیا۔
ان کا فیشن برانڈ خاندانی طور پر چلنے والی سلائی کی ورکشاپس اور مسالہ جات کی ان مقامی دکانوں کے ساتھ مل کر کپڑے تیار کرتا ہے جو انھیں قدرتی رنگ کے ایجنٹ فراہم کرتی ہیں۔ درزی، کڑھائی بنائی کرنے والے، روایتی طریقوں کے ذریعے لباس تخلیق کرنے کے فلسطینی فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
یاسمین مجالی نے اپنے کپڑوں کے ڈیزاننز کو فلسطینیوں کی کہانیاں سنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ انھوں نے دنیا بھر کی خواتین کے لیے عام سڑکوں پر ہراساں کیے جانے کی بھی تصویر کشی ٹی شرٹس، ہُڈیز اور ڈینم جیکٹس پر فلسطینی محاورہ ’نوٹ یور حبیبی‘ (میں آپ کی محبوبہ نہیں) لکھا جو بہت پسند کیا گیا۔

ہندا عبدی محمد, صومالیہ
صحافی
کم عمری سے ہی ایک شوقین مصنفہ ہندا عبدی محمد نے صومالیہ میں اپنے آبائی شہر ہارجیسا میں تشدد سے فرار ہونے والے لوگوں کے بارے میں کہانیوں پر مشتمل ایک ڈائری مرتب کر رکھی تھی۔
اب وہ ملک کی پہلی اور واحد خواتین پر مشتمل میڈیا ٹیم بلان کی چیف ایڈیٹر ہیں۔
یہ ٹیم صومالی خواتین کو کام کی جگہوں پر جنسی تفریق اور ہراسانی کی بلند شرح کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ خواتین کو درپیش ان چیلنجز کو اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے۔
بلان کا مقصد صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک میں سماجی مسائل پر روشنی ڈالنا ہے۔ ان مسائل میں ایچ آئی وی کو چھپا کر رہنے والے صومالی باشندے، یتیم بچوں کے ساتھ بدسلوکی، اور البینو افراد کو ان کی کمیونٹی کی طرف سے نظر انداز کرنے جیسی کہانیوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

روکسی مرے, برطانیہ
معذوروں کے حقوق کے وکیل
ملٹی پل سکلیروسس کا شکار ایک پین سیکسول فرد کے طور پر اپنے تجربات کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے، روکسی مرے اپنے پلیٹ فارم کا استعمال دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو بااختیار بنانے اور ان کے طبی، خیراتی اور کارپوریٹ شعبوں میں شامل نہ کیے جانے کو چیلنج کرنے کے لیے کرتی ہیں۔
روکسی مرے اپنے فیشن سے جڑے ماضی کو استعمال کر کے لوگوں کو سٹائل کے ساتھ نقل و حرکت میں مدد کرتی ہیں اور اقلیتوں اور نسلی طور پر متنوع گروہوں سے تعلق رکھنے والے معذور افراد کی نمائندگی کو فروغ دیتی ہے۔
وہ دی سک اینڈ سیکننگ پوڈ کاسٹ کی بانی ہیں جہاں ایسی غیر فلٹر شدہ کہانیاں شیئر کی جاتی ہیں جو معذوری اور بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے درد میں کمی سے لے کر جنسی صحت اور جسم اور جنسی مثبیت کے بارے میں ہوتی ہیں۔
ایک عجیب،غیر سفید فام اور معذور عورت کے طور پر مزاحمت میرے لیے بہت ذاتی بھی ہے اور بہت اجتماعی ہے۔ یہ ان نظاموں کو چیلنج کرنے کی طاقت کے بارے میں ہے جنھوں نے میرے جیسے لوگوں کوپسماندہ بنا دیا ہے۔
روکسی مرے

سُو من, چین
سیاح اور انفلواینسر
50 سال کی عمر میں اور ایک بدسلوکی کی شادی سے بچنے کے بعد سُو من نے صرف اپنی کار ایک خیمہ اور اپنی پنشن کے ساتھ چین بھر میں اکیلے سڑک کے سفر کا آغاز کیا۔
2020 میں آغاز کے بعد سے ان کا یہ سفر انھیں 20 سے زیادہ صوبوں کے 100 سے زیادہ شہروں میں لے گیا ہے۔
انھوں نے اپنے پورے سفر کو دستاویزی شکل دی ہے اور ان کی کہانی نے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کو جنم دیا کیونکہ انھوں نے سٹیٹس کو کے خلاف جانے کی ہمت کرکے دیگر ادھیڑ عمر کی خواتین جنہیں معاشرے میں اکثر ’آنٹی‘ کہا جاتا ہے کو متاثر کیا۔
اب ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 60 لاکھ فالوورز ہیں اور ان کی زندگی پر ایک فلم ’ لائیک اے رولنگ سٹون ‘بنائی گئی ہے جو رواں سال ریلیز ہوئی۔

ہیلن مولنیوکس, برطانیہ
شریک بانی، مونومینٹل ویلش وومن
سنہ 2021 سے پہلے ویلز میں ویلش خواتین کے نام سے منسوب کوئی مجسمہ نہیں تھا۔
اسی وجہ سے وکیل ہیلن مولنیوکس نے ایک غیر منافع بخش تنظیم مونومینٹل ویلش ویمن کی مشترکہ بنیاد رکھی جس کا مقصد ویلش خواتین کی عوامی نمائندگی کو بہتر بنانا اور ان کی خدمات اور کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔
عوام کی تجاویز کی بنیاد پر مولنیوکس اور ان کی ٹیم نے خواتین کے کل پانچ مجسمے تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی کہانیوں کو فراموش نہ کیا جائے۔
اس گروپ نے اب تک چار مجسمے نصب کیے ہیں جن میں پہلا کارڈف میں ویلز کی پہلی سیاہ فام ہیڈ ٹیچر بیٹی کیمپبیل، اس کے بعد ماؤنٹین ایش میں ایلین مورگن، لینگرانوگ میں کرینوگوین اور نیو پورٹ میں لیڈی روڈا کا مجسمے شامل ہے۔

اولیویا میک ویگ, برطانیہ
میک اپ آرٹسٹ
ایلوپیسیا کی تشخیص کے بعد اولیویا میک ویگ نے وِگوں کی دنیا کو تلاش کرنا شروع کیا۔ نئے سٹائل آزماتے ہوئے اور متبادل بالوں کے ساتھ تجربات کرتے ہوئے انھوں نے بالوں کے جھڑنے کا سامنا کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم بنایا۔
تقریبا پانچ لاکھ فالوورز کے ساتھ، وہ وگ پہننے کو معمول کی چیز بنانے کے ساتھ ساتھ ایلوپیسیا اور خواتین کی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرتی ہیں۔
شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی میک اپ آرٹسٹ اور انفلوئنسر میک ویگ نے اپنی نوجوانی میں ہی اپنے بال کھونا شروع کر دیے تھے۔
اب وہ وگ ورکشاپس منعقد کرتی ہیں اور دوبارہ اعتماد حاصل کرنے کے سفر کو شیئر کرتی ہیں،ان ورکشاپس میں ایلوپیسیا میں مبتلا خواتین کو ایک محفوظ جگہ ملتی ہیں جہاں ایک ساتھ بیٹھ کر وہ اس حالت کے حوالے سے عام انداز میں بات چیت کر سکیں۔
مزاحمت وہ تاج ہے جو ہم خواتین پہنتی ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں ڈھلنے، تبدیل ہونے اور پھلنے پھولنے کے لیے سیکھنے کےاہلیت رکھتی ہیں، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔
اولیویا میک ویگ

لنڈا ڈروفن گنارسڈوٹر, آئس لینڈ
خواتین کی پناہ گاہ کی منیجر
آئس لینڈ کی خواتین کی پناہ گاہ میں لنڈا ڈروفن گنارسڈوٹر ان خواتین کی مدد کرتی ہیں جو گھریلو تشدد کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔
آئس لینڈ ایک ایسا ملک ہے جو بیشتر ’عورتوں کے لیے بہترین جگہ‘ کی درجہ بندی میں سب سے اوپر ہوتا ہے لیکن یہاں صنفی تشدد کی شرح مستقل طور پر زیادہ رہتی ہے۔
خواتین کی پناہ گاہ کی جنرل مینیجر کی حیثیت سے وہ ایک ایسی جگہ بنانے کے منصوبے کی قیادت کر رہی ہیں جس کا مقصد آئس لینڈ میں خواتین کو پناہ دینا ہے۔
ڈروفن گنارسڈوٹر کا کہنا ہے کہ 20 سال قبل پناہ گاہ میں رہنے والی 64 فیصد خواتین کو اپنے استحصال کرنے والوں کے پاس واپس جانا پڑا لیکن بہتر حمایت اور خدمات کے نتیجے میں اب یہ تعداد کم ہو کر 11 فیصد رہ گئی ہے۔

ماریا ٹریسا ہورٹا, پرتگال
شاعرہ
مصنفہ اور صحافی ماریا ٹریسا ہورٹا پرتگال کی سب سے نمایاں فیمنسٹوں میں سے ایک ہیں اور بہت سی ایوارڈ یافتہ کتابوں کی مصنفہ ہیں لیکن وہ شاید بین الاقوامی سطح پر مشہور نواس کارٹس پورٹوگیساس کی شریک مصنفہ کے طور پر مشہور ہیں۔
پرتگال کی آمرانہ حکومت نے 1972 میں افسانوں، شاعری اور شہوت انگیز ادبی مجموعوں پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی تھی اور ہورٹا اور ان کے ساتھی مصنفین کو فحاشی اور ’پریس کی آزادی کا غلط استعمال‘ کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تھری ماریاز کے نام سے مشہور ہونے والے معاملے نے دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بنائی اور مظاہروں کیے گئے۔
ان کا مقدمہ 1974 کے کارنیشن انقلاب کے بعد ختم ہوا اور اس سال اس تاریخی لمحے کی 50 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

مارگریٹا بیرینٹوس, ارجنٹینا
صرف 15 افراد کے لیے سوپ باورچی خانہ شروع کرنے سے لے کر اب روزانہ 5 ہزار سے زائد افراد کو کھانا کھلانے تک مارگریٹا بیرینٹوس ارجنٹائن میں بھوک کے خلاف جنگ کے لیے اپنی لگن کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ وہاں 4 کروڑ 60 لاکھ آبادی کا 53 فیصد اب غربت کی زندگی گزار رہا ہے۔
ملک کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک میں پیدا ہونے والے بیرینٹوس کو کم عمری سے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے 1996 میں اپنے سوپ باورچی خانے ’لاس پائلٹونز‘ کی بنیاد رکھی اور اسے ایک فاؤنڈیشن میں تبدیل کردیا جو اب ڈے کیئر سینٹر ، ہیلتھ سینٹر ، سلائی ورکشاپ اور لائبریری چلاتی ہے۔
ان کی کمیونٹی سروس کو بہت سے کاروباری اداروں اور مشہور شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔ فٹ بالر لیونل میسی نے حال ہی میں انھیں نیلامی کے لیے اپنے دستخط والی ایک شرٹ دی ہے۔

شهرنوش پارسی پور, ایران/امریکہ
ادیبہ اور مترجم
شھرنوش پارسی پورایران کے ممتاز ناول نگاروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ہمیشہ اپنے کام کے ذریعے خواتین پر جنسی جبر، پدرانہ معاشرے کے خلاف بغاوت جیسے ممنوع مسائل کو اجاگرکیا ہے
انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایرانی قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے بطور افسانہ نگار اور پروڈیوسر کے کیا تاہم 1979 کے انقلاب سے قبل دو شاعر کارکنوں کی پھانسی کے خلاف وہ احتجاجاً مستعفی ہو گئیں اور اس کے نتیجے میں پہلی بار انھیں جیل بھی ہوئی۔
انقلاب کے بعد کے دور میں ایران میں ان کے کام پر بڑے پیمانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ پارسی پور کو اپنے ناول ویمن ودآؤٹ مین میں کنوار پن سے متعلق مسائل پر کھلے عام لکھنے پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بعد میں اس ناول پر ایران سے باہر فیچر فلم بھی بنائی گئی۔
شھرنوش پارسی پور نے اپنی تحریروں میں اپنی قید کے تجربات کو بیان کیا ہے۔ وہ 1994 سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

انات ہوفمین, اسرائیل
مذہبی کارکن
انات ہوفمین نے یہودیت کے اندر صنفی مساوات اور مذہبی تکثیریت کے لیے کئی دہائیوں تک مہم چلائی ہیں۔
وہ ’ویمن آف دی وال‘ نامی گروپ کی بانی رکن ہیں جو یروشلم کے قدیم شہر میں مغربی دیوار پر یہودی خواتین کے لیے عبادت کے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے انھوں نے ان قوانین کے خلاف لڑائی لڑی ہے جن کے تحت خواتین کو عبادت کی شال پہننے اور اجتماعی طور پر تورات پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
ہوفمین نے 20 سال تک اسرائیلی مذہبی ایکشن سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں جو اصلاحاتی تحریک کی قانونی اور وکالت کی شاخ ہے جو مساوات اور معاشرتی انصاف کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہے۔
اس سے قبل وہ یروشلم سٹی کونسل کی نشست پر فائز تھیں جہاں انھوں نے الٹرا آرتھوڈوکس پالیسیوں کو چیلنج کیا تھا۔

مہیدر ہیلیسیلاسی, ایتھوپیا
فوٹو گرافر
خشک دریاؤں اور تباہ شدہ فصلوں کے ایک منظر نامے میں کام کرتے ہوئے، ایتھوپیا کی فوٹوگرافر مہیدر ہیلیسیلاسی نے لکھا ہے کہ کس طرح شدید خشک سالی نے ان کے ملک میں خاندانوں کو اپنی بیٹیوں کی کم عمری کی شادی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انھیں اس موضوع پر کام کرنے کی وجہ سے 2023 کا کنٹیمپرری افریقن فوٹوگرافی انعام ملا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ 2050 تک موسمیاتی بحران کے نتیجے میں عالمی سطح پر کم عمری کی شادی کے خطرے سے دوچار لڑکیوں کی تعداد میں ایک تہائی اضافہ ہوگا۔
ہیلیسیلاسی کی فوٹوگرافی میں ان لوگوں کی تاریخ اور تجربات شامل ہیں جن کے ساتھ ان کا ہر روز واسطہ پڑتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی اپنی بھی۔
ان کے کام کو بشمول افریقی بائینل آف فوٹوگرافی بہت سے معتبر مقامات پر نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

دلوروم یلدوشیوا, ازبکستان
درزن اور کاروباری خاتون
دو سال پہلے دلوروم یلدوشیوا نے فصل کی کٹائی کے ایک حادثے میں دونوں ٹانگیں کھو دیں۔ لیکن یہ حادثہ انھیں بڑے خواب دیکھنے سے نہیں روک سکا۔
وہ نوجوان نے صرف نئی مہارتیں سیکھنا چاہتی تھیں بلکہ دیگر ازبک خواتین کو بھی روزگار کے حصول میں مدد کرنا چاہتی تھیں۔ لہٰذا انھوں نے اپنا سلائی کا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے انٹرپرینیورشپ اور ریسورس مینجمنٹ کی بنیادی باتیں سیکھیں اور 40 سے زیادہ شاگروں کو تربیت دی۔ چند مہینوں کے اندر ان کی کمپنی نے نمایاں ترقی کی، مفت ورکشاپس چلائیں اور کارکنوں اور سکول کے بچوں کے لیے یونیفارم تیار کرنے کے ٹھیکے حاصل کیے۔
اس کے بعد سے ان کا کاروبار ان کے اور درجنوں دیگر خواتین کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن گیا ہے۔
اانٹرٹینمنٹ اور کھیل

حدیقہ کیانی , پاکستان
گلوکارہ، نغمہ نگار
پاکستان کی مشہور میوزیکل آئیکون حدیقہ کیانی اپنی متنوع آواز اور انسانی ہمدردی کے لیے ان کی خدمات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔
سنہ 1990 کی دہائی میں شہرت حاصل کرنے کے بعد وہ جنوبی ایشیا میں خواتین کی پاپ موسیقی کے منظر نامے میں ایک مشہور طاقت بن گئیں۔ اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی خیر سگالی سفیر بھی بنیں۔
پاکستان میں سنہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد حدیقہ کیانی نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں متاثرین کی مدد کے لیے وقف اپنے ’وسیلہِ راہ‘ منصوبے کا آغاز کیا۔
انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مدد کریں اور گذشتہ سال انھوں نے متاثرہ علاقوں میں 370 گھر اور دیگر سہولیات تعمیر کیں۔

نوئیلا ویالا نوادی , گھانا
افریقی پاپ مویسقار
گلوکارہ اور نغمہ نگار نوئیلا ویالا نوادی اپنے سٹیج نام ویالا سے مشہور ہیں، جس کا مطلب ان کی سیسلا زبان میں ’کر دکھانے والا‘ ہے۔
اپنے فیشن اور منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جانے والی یہ آرٹسٹ شمالی گھانا میں اپنے آبائی علاقے کی روایات کو ظاہر کرنے کے لیے اپنا لباس اور لوازمات خود ڈیزائن کرتی ہیں۔
ان کے بہت سے گیت افریقی خواتین کے استحصال پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ویالا نے کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور گھانا کے حکام کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔
انھوں نے اپنے آبائی شہر فنسی میں روزگار اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک آرٹس سینٹر، کمیونٹی ریڈیو سٹیشن اور ریستوران بھی تعمیر کیا ہے۔

کِِم یجی , جنوبی کوریا
اولمپک شوٹر
کرشماتی شخصیت اور کھیلوں کی کامیابیوں نے اس سال کم یجی کو دنیا کی توجہ میں لایا۔
پسٹل شوٹر کِم یجی نے جولائی میں اپنے پہلے اولمپکس میں خواتین کی 10 میٹر ایئر پسٹل میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا، انھوں نے چند ماہ قبل ہی خواتین کی 25 میٹر پسٹل کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
جلد ہی ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں جن میں نہ صرف ان کی مہارت کی تعریف کی گئی بلکہ ان کے آئس کول سٹائل، غیر متزلزل ارتکاز اور سائنس فکشن سے متاثر حلیے کی بھی تعریف کی گئی۔
کم یجی ماں بننے کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں کے تئیں کھل کر بات کرتی ہیں۔ وہ اپنی چھ سالہ بیٹی کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کھیل سے وقفہ لے رہی ہیں۔
کھیلوں کے ذریعے، ہم لچک، ٹیم ورک اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسی اقدار جو میری رائے میں وسیع تر معاشرتی تبدیلی کی ترغیب دینے کے لیے کھیل کے میدان سے کہیں آگے تک جاتی ہیں۔
کِِم یجی

ٹریسی اوٹو, امریکہ
تیر انداز
سنہ 2019 میں اپنے سابق بوائے فرینڈ کی جانب سے حملے کے بعد ٹریسی اوٹو سینے سے نیچے مفلوج ہو گئیں اور ان کی بائیں آنکھ بھی ضائع ہو گئی تھی۔کبھی فٹنس ماڈل بننے کی خواہشمند ٹریسی پھر سے کچھ کرنا چاہتی تھیں۔
مارچ 2021 میں ٹریسی اوٹو نے ایک ایسا کھیل منتخب کیا جس کی انھوں نے پہلے کبھی کوشش نہیں کی تھی۔ تیر اندازی۔۔۔ انھوں نے اپنے پہلے تیر سے ہدف کو نشانہ بنایا اور یہ صحیح لگا۔
اس سال اوٹو نے پیرس میں حصہ لیا جو ان کا پہلا پیرالمپک کھیل تھا۔ اپنی معذوری کی وجہ سے وہ تیر داغنے کے لیے اپنے منہ کا استعمال کرتی ہیں۔
تقریبا پانچ سال بعد اوٹو اپنے تجربے کو گھریلو تشدد سے بچ جانے والوں کی وکالت کرنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔

ریبیکا اینڈریڈ, برازیل
جمناسٹ
جمناسٹ ریبیکا اینڈریڈ کے مجموعی طور پر چھ تمغے انھیں برازیل کی سب سے زیادہ اعزاز یافتہ اولمپیئن بناتے ہیں۔ وہ نو عالمی ٹائٹل بھی جیت چکی ہیں۔
انھوں نے پیرس 2024 میں فلور ایکسرسائز میں دنیا کی سب سے زیادہ مشہور جمناسٹ سیمون بائلز کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ میڈلز کی تقریب کے دوران بائلز اور ان کے ساتھی امریکی جمناسٹ جورڈن چلیز نے برازیلین کھلاڑی کے سامنے سر جھکایا، یہ عمل وائرل ہوا اور اس سال کے اولمپکس کی علامت بن گیا۔
وہ آٹھ بہن بھائی ہیں، 10 سال کی عمر تک ریبیکا اینڈریڈ ساؤ پاؤلو کے باہر پریکٹس سیشن کے لیے پیدل چل کر جاتی تھیں، جبکہ ان کی تنہا ماں ان کی ٹریننگ کے اخراجات ادا کرنے کے لیے گھروں کی صفائی کرتی تھیں۔
اپنے عروج تک آتے آتے انھوں نے کئی شدید چوٹیں برداشت کیں اور انھوں نے ذہنی صحت کو ترجیح دینے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔
پرعزم ہونے کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے کیسے نمٹتے ہیں اور روشن پہلو کو دیکھتے ہوئے، اپنے ساتھیوں کی مدد کرتے ہیں یہاں تک کہ جب کچھ غلط ہو رہا ہو۔
ریبیکا اینڈریڈ

ذکیہ خدادادی, افغانستان
تائیکوانڈو
پیرالمپکس ریفیوجی ٹیم کی پہلی رکن ذکیہ خدادادی نے 2024 کے پیرس کھیلوں میں تاریخ رقم کی۔
ایک بازو کے بغیر پیدا ہونے والی ایتھلیٹ نے مغربی افغانستان میں اپنے آبائی شہر ہیرات میں ایک خفیہ جم میں 11 سال کی عمر میں چھپ کر تائیکوانڈو کی مشق شروع کی
سنہ 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد انھیں ابتدائی طور پر ٹوکیو میں اپنے پہلے پیرالمپکس میں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔
لیکن بین الاقوامی پیرالمپکس کمیٹی کی مداخلت اور فرانس کی حمایت سے انھیں افغانستان سے بحفاظت نکال لیا گیا اور وہ طالبان کے قبضے کے بعد کھیلوں کے بین الاقوامی ایونٹ میں حصہ لینے والی پہلی افغان کھلاڑی بن گئیں۔
اولمپک میڈل تک کا میرا سفر افغان خواتین، پناہ گزین خواتین اور ہر خاتون کی مزاحمت کی قوت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہار نہ مان کر، ہم یہ دکھانا جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں جو عورت نہیں کر سکتی۔
ذکیہ خدادادی

رے, برطانیہ
گلوکارہ
گلوکارہ اور نغمہ نگار رے نے رواں سال کے برٹ ایوارڈز میں تاریخ رقم کرتے ہوئے سات میں سے چھ انعامات جیتے اور سال کی بہترین نغمہ نگار بننے والی پہلی خاتون بن گئیں۔
سنہ 2021 میں رے نے سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ وہ اپنا البم ریلیز کرنے کے لیے اپنے ریکارڈ لیبل پولی ڈور کے ساتھ سات سال سے لڑ رہی ہیں۔
انھوں نے اپنا پہلا سٹوڈیو البم ’مائی 21 سنچری بلیوز‘ سنہ 2023 میں ایک آزاد آرٹسٹ کے طور پر پیش کیا ، جس نے تنقیدی اور کمرشل کامیابی حاصل کی۔
انھوں نے موسیقی کی صنعت اور باہر دونوں جگہوں پر درپیش جدوجہد کے بارے میں کھل کر بات کی ہے، جس میں جنسی حملے، منشیات کا استعمال، اور باڈی ڈسمورفیا شامل ہیں۔ انھوں نے نغمہ نگاروں کے لیے منصفانہ تنخواہ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ژینگ (تانیہ) زینگ, چلی
چین سے تعلق رکھنے والی چلی کی ٹیبل ٹینس کھلاڑی ژینگ زینگ یا تانیہ نے 58 سال کی عمر میں 2024 کے پیرس اولمپکس میں اپنے اولمپک کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
بہت پہلے اپنی والدہ کی کوچنگ میں وہ 12 سال کی عمر میں ہی پیشہ ور کھلاڑی بن گئی تھیں۔ انھوں نے چین کی قومی ٹیم کے لیے کوالیفائی کیا لیکن بعد میں وہ چلی منتقل ہو گئیں، جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے دیگر معالملات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے 30 سال تک کھیل کو چھوڑ دیا۔
کووڈ 19 وبا نے تانیہ زینگ کو ٹیبل ٹینس میں واپس آنے پر مجبور کیا۔
2023 تک وہ چلی میں کھیلوں کی دنیا میں صف اوّل کی خاتون تھیں، انھوں نے اولمپک کوالیفکیشن کے اپنے خواب کو پورا کرنے سے پہلے جنوبی امریکی چیمپیئن شپ اور پین امیریکن گیمز میں ملک کی نمائندگی کی۔

الٰہ سرور, افغانستان
گلوکار و موسیقار
ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں خواتین کی آواز یں عوامی زندگی سے مٹائی جا رہی ہیں، گلوکارہ الٰہ سرور نے جبر کا مقابلہ کرنے اور حوصلہ افزائی کا پیغام بھیجنے کے لیے ایک نغمہ نان، کار، آزادی (روٹی، کام، آزادی) لکھا۔
اس گانے کا پریمیئر اکتوبر میں البانیہ میں ہونے والی آل افغان ویمن سمٹ میں کیا گیا تھا۔
فلم، تھیٹر اور موسیقی پر محیط کیریئر میں ایوارڈ یافتہ فنکارہ اکثر خواتین کے حقوق کی وکالت کرنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرتی رہی ہیں۔
ہزارہ نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے سرور کو 2009 میں مقبول ٹیلنٹ شو ’افغان اسٹار‘ میں دریافت کیا گیا تھا۔ لیکن انھیں موسیقی میں کیریئر بنانے کی وجہ سے پرتشدد رد عمل کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے 2010 میں ملک چھوڑ دیا۔

شیرون سٹون, امریکہ
اداکارہ
ہالی وڈ سٹار شیرون سٹون نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران سکرین پر اور اس سے باہر دونوں جگہ اپنی پہچان بنائی ہے۔
اداکارہ نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہٹ فلم ’بیسک انسٹکنٹ‘ سے شہرت حاصل کی اور ’ٹوٹل ری کال‘ اور’ کیسینو‘ جیسی بلاک بسٹر فلموں میں اداکاری کی، جس کے لیے انھوں نے گولڈن گلوب جیتا اور آسکر کے لیے نامزد ہوئیں۔
اپنے شاندار کیریئر کے ساتھ ساتھ شیرون سٹون نے بہت سے مقاصد کے لیے فلاحی کام کیے۔ انھیں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی حمایت میں ان کی خدمات کے لیے نوبل انعام یافتہ افراد کی طرف سے پیس سمٹ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
اس سال کے اوائل میں ان کی کامیابیوں کو گولڈن گلوب انٹرنیشنل آئیکن ایوارڈ کے ساتھ مزید سراہا گیا تھا۔
مزاحمت ایک انتخاب ہے۔ آپ کو اپنے بہاؤ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ آپ یا تو زخمی ہونے کا انتخاب کرتے ہیں یا خوشی کا انتخاب کرتے ہیں۔
شیرون سٹون

ہند صبری, تیونس
ادکارہ
اداکارہ ہند صبری کا شمار عرب سنیما کی مشہور ترین خواتین میں ہوتا ہے۔ فیمنسٹ فلم’ دی سائلینس آف دی پیلس‘ (1994) میں ان کا کردار تیونس میں خواتین کو درپیش جنسی اور سماجی استحصال کی عکاسی کرتا ہے۔
وہ 2019 میں وینس فلم فیسٹیول میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پہلی عرب خاتون بنیں۔
حال ہی میں انھوں نے فلم اولفا کی بیٹیوں میں اداکاری کی جسے 2024 میں آسکر کے لیے تیونس کی انٹری کے طور پر منتخب کیا گیا تھا اور اسے بہترین دستاویزی فیچر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
نومبر میں صبری نے غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
یہ صرف زندہ رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ تعمیر نو اور جدوجہد کے ذریعے مقصد تلاش کرنےکا نام ہے۔۔۔ درد کو عمل میں تبدیل کرنا۔
ہند صبری

ایلیسن فیلکس,
ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھیلیٹ
عالمی چیمپیئن شپ کے ریکارڈ 20 تمغوں اور 11 اولمپک تمغوں کے ساتھ ایلیسن فیلکس تاریخ کی سب سے زیادہ اعزاز یافتہ ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ ہیں۔
پری ایکلیمپسیا ہونے اور قبل از وقت اپنی بیٹی کو جنم دینے کے بعد وہ زچگی کی صحت کے حقوق کے لیے ایک زبردست وکیل بن گئیں۔ امریکہ میں سیاہ فام خواتین کے لیے زچگی کی دیکھ بھال کو فروغ کی غرض سے میلنڈا فرنچ گیٹس کی جانب سے انھیں دو کروڑ ڈالر کی گرانٹ ملی ہے۔
وہ اب ریٹائرڈ ایتھلیٹ ہیں انھوں نے پیرس 2024 کے کھیلوں میں پہلی بار اولمپک ولیج نرسری کے افتتاح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس سال بھی، وہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی ایتھلیٹس کمیشن میں شامل ہونے کے لیے منتخب ہوئیں اور اپنی سپورٹس مینجمنٹ کمپنی شروع کی جو صرف خواتین کے کھیلوں پر مرکوز تھی۔
مزاحمت مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہمت اور خوبصورتی کو تلاش کرنےکا نام ہے، اور اس کا مطلب ہر جھٹکے کو آگے بڑھنے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
ایلیسن فیلکس

گیبی مورینو, گوئٹے مالا
موسیقار
لاطینی موسیقی کی دنیا میں ایک مشہور گلوکار اور نغمہ نگار گوئٹے مالا کی گیبی مورینو نے 2024 میں بہترین لاطینی پاپ البم کا گریمی ایوارڈ جیت کر مرکزی دھارے میں جگہ بنائی۔
امریکی تاثر لیے لاطینی علاقائی موسیقی اور جذبات سے بھر پور آواز کے ساتھ دو زبانوں میں کمپوز کی گئی یہ البم ان کے زرخیز ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔
مورینو گوئٹے مالا کی پہلے باشندہ ہیں جو یونیسیف کی خیر سگالی سفیر بنیں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔
انھوں نے حال ہی میں معیاری تعلیمی کٹس تک رسائی بڑھانے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے، ایک ایسے ملک میں جہاں یہ اندازہ ہے کہ 27 لاکھ لڑکے اور لڑکیاں سکول نہیں جاتے۔

اننا موڈجا, مالی
فنکار اور ماحولیات کی کارکن
ماحولیاتی انصاف کی کارکن، موسیقار اور فلم ساز اننا موڈجا ایک ایسی خاتون ہیں جنھوں نے خواتین کے ختنے کے خلاف مہم چلانے سے لے کر ماحولیاتی تحفظ کی حمایت کرنے تک بہت سے چیلنج لیے ہیں۔
انھوں نے ’دی گریٹ گرین وال‘ نامی دستاویزی فلم تیار کی اور اس میں اداکاری کی، جو صحرائی توسیع کو کنٹرول کرنے اور صحرائے صحارا کے جنوب میں 12 ممالک میں پھیلے ساحل میں تباہ شدہ زمینوں کی بحالی کے لیے افریقہ کی پرعزم کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے موڈجا موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والی برادریوں کی آوازوں کو آگے تک پہنچاتی ہیں۔
وہ کوڈ گرین کی شریک بانی بھی ہیں، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور گیمنگ کے امتزاج سے مثبت اقدامات کی ترغیب دیتی ہے۔
مزاحمت خواتین اور لڑکیوں میں تبدیلی کی قیادت کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔
اننا موڈجا

ناؤمی وتنابے, جاپان
کامیڈین
جاپان کی سب سے مشہور بااثر شخصیات میں سے ایک کے طور پر پہچانی جانے والی ناؤمی وتنابے نے اپنے ملک میں خواتین کامیڈین کی ایک نئی نسل کے لیے راہ ہموار کی ہے۔
جاپانی کامیڈی کی دنیا میں جہاں مردوں کا غلبہ ہے انھوں نے رکاوٹیں توڑ کر ایسے ہٹ سکیچ شو بنائے جن میں مرکزی کردار ایک خاتون تھیں۔
وتنابے جاپان میں جسم سے متعلق دقیانوسی تصورات کو تبدیل کرنے میں بھی مدد کر رہی ہیں۔ وہ پوچاکاوائی کے نام سے ایک تحریک کی قیادت کر رہی ہیں جس کا ترجمہ ’بھرا بھرا اور پیارا‘ ہے۔ انھوں نے جاپان کا ایسے اولین برانڈز میں سے ایک لانچ کیا ہے جو پلس سائز کے کپڑے پیش کرتے ہیں۔
جاپانی ٹی وی اور فلم میں زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ اب عالمی کامیڈی سٹیج پر قدم رکھنے کے لیے امریکہ منتقل ہوگئی ہیں۔
آپ مزاحمت کیسے کرتے ہیں؟ میں ہمیشہ سوچتی ہوں، ’آپ مجھے پسند نہیں کرتے، ٹھیک ہے۔ برائے مہربانی مجھے ایک سال دیں اور شاید میں آپ کا ذہن بدل دوں۔‘ میں ہمیشہ ایسے ہی سوچتی ہوں۔
ناؤمی وتنابے

میڈیسن ٹیولن, کینیڈا
ٹاک شو میزبان اور ماڈل
میڈیسن ٹیولن کی وائرل ویڈیو نے رواں سال ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا افراد کے بارے میں تعصبات کو توڑ کر دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا۔
آگاہی مہم نے 15 کروڑ سے زیادہ ویوز حاصل کیے اور اس کے مثبت اثرات کے لیے ایوارڈ ز جیتے جس میں کانز لائنز فیسٹیول کا ’ گولڈ لائن‘ بھی شامل ہے۔
اداکارہ اور ماڈل ٹیولن نے نیو یارک فیشن ویک میں شرکت کی، کلنٹن گلوبل انیشی ایٹو میں شمولیت پر بات کی، اور کوئنسی جونز غیر معمولی وکالت ایوارڈ حاصل کیا۔
انھوں نے ایوارڈ کے لیے نامزد ٹاک شو ’ ہو یو تھنک ہو آئی ایم‘ اور 21 سوالات پوڈ کاسٹ کی میزبانی کی ہے۔
مزاحمت کبھی ہار نہ ماننا ہے یہاں تک کہ جب مجھے جج کیا جاتا ہے یا نظر انداز کیا جاتا ہے یا کم تر سمجھا جاتا ہے۔۔۔ یہ اس چیز کا نام ہے جس پر میں یقین رکھتی ہوں اور کبھی بھی اپنا یا اپنی کمیونٹی کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔
میڈیسن ٹیولن

وینیش پھوگاٹ, انڈیا
ریسلر
تین بار اولمپیئن رہنے والی وینیش پھوگاٹ انڈیا کی سب سے زیادہ شہرت یافتہ پہلوانوں یعنی ریسلرز میں سے ایک ہیں اور کھیلوں میں خواتین کے تئیں جنسی رویّوں کی سخت ناقد ہیں۔ انھوں نے ورلڈ چیمپیئن شپ، کامن ویلتھ اور ایشین گیمز میں تمغے جیتے ہیں۔
اس سال پھوگاٹ اولمپک فائنل میں پہنچنے والی انڈیا کی پہلی خاتون پہلوان بن گئیں لیکن مطلوبہ وزن کے معیار پر پورا نہ اترنے کے بعد انھیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ بعد میں انھوں نے کھیلوں سے ریٹائرمنٹ لے لی اور سیاست میں شامل ہو گئیں۔
صنف سے متعلق دقیانوسی تصورات کے بارے میں کھل کر بات کرنے والی وینیش پھوگاٹ انڈین ریسلرز کی جانب سے فیڈریشن کے سربراہ برج بھوشن سنگھ کے خلاف کئی ماہ سے جاری احتجاج کا چہرہ تھیں۔ بھوشن پر خواتین ایتھلیٹس کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام تھا۔
یہ احتجاج اس وقت سرخیوں میں آیا جب پولیس نے ایک مظاہرے کے دوران وینیش پھوگاٹ اور دیگر کو حراست میں لیا۔
کام پر برے دن کے بعد خود کو پھر سے اٹھانے اور اپنا وقار بحال کرنے کی صلاحیت دراصل مزاحمت ہے۔
وینیش پھوگاٹ

جون چیلیمو, کینیا/رومانیہ
طویل فاصلےتک دوڑنے والی ایتھلیٹ
کینیا میں پیدا ہونے والی رومانیہ کی اولمپئن جون چیلیمو نے رواں سال یورپین چیمپیئن شپ کی ہاف میراتھن میں چاندی کا تمغہ جیتا۔
کھیل کے علاوہ وہ صنفی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اپنے ذاتی تجربے کو ان خطرات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں جن کا کھلاڑیوں کو اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وہ 2021 میں اپنی ساتھی رنر اور عالمی ریکارڈ ہولڈر ایگنس ٹیروپ کے قتل کے بعد قائم ہونے والی کینیا کے ایتھلیٹس کی ایک تنظیم ’ٹیروپز اینجلس‘ کی شریک بانی ہیں، جو مختلف سرگرمیوں کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔
اس سال اولمپک رنر ریبیکا چیپٹیگی کے ان کے سابق ساتھی کے ہاتھوں قتل کے بعد کینیا میں خواتین کے قتل کے خلاف کارروائی کے مطالبے نے زور پکڑا۔
میرا ماننا ہے کہ حقیقی تبدیلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمارا درد ہماری کہانی کا اختتام نہیں ہے، بلکہ کسی بڑی چیز کا آغاز ہے۔
جون چیلیمو

کلوئی ژاؤ, برطانیہ
فلم ڈائریکٹر
آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ڈائریکٹر اور مصنفہ کلوئی ژاؤ پہلی غیر سفید فام خاتون ہیں اور تاریخ کی صرف تین خواتین میں سے ایک ہیں جنھوں نے بہترین ہدایت کار کا اکیڈمی ایوارڈ جیتا ہے۔
بیجنگ میں پیدا ہونے والی ژاؤ برطانیہ اور امریکہ منتقل ہو گئیں۔ وہ خود کو خانہ بدوش قرار دیتی ہیں اور ان کی ایوارڈ یافتہ فلم ، نومیڈلینڈ (2020) بھی اسی موضوع پر ہے۔
اپنی ابتدائی فلموں میں مقامی برادری کی نمائندگی کرنے سے لے کر مارول یونیورس میں اب تک کی سب سے متنوع کاسٹ کی ہدایت کاری تک، ژاؤ اس بارے میں پرجوش محسوس کرتی ہیں کہ بحیثیت انسان ہمیں کیا چیز جوڑے رکھتی ہے۔
اس سال وہ میگی او فیرل کے شیکسپیئر کے دور کے مشہور ناول ہیمنیٹ پر مبنی فلم کی ہدایتکاری کر رہی ہیں، جو 2025 میں ریلیز ہوگی۔
اگر ہم اس صنعت کے ڈھانچے کو تبدیل نہیں کرتے جس میں ہم کام کر رہے ہیں، تو ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنی قدر حاصل کرنے کے لیے بالکل مردوں کی طرح بننا ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں ہماری طاقت ہے۔
کلوئی ژاؤ

فردا مارسیا کرنیا, انڈونیشیا
ہیوی میٹل بینڈ موسیقار
فردا مارسیا کرنیا صنفی اور مذہبی اقدار کو چیلنج کرتی ہیں۔ وہ حجاب پہننے والےخواتین کے ایک ہیوی میٹل بینڈ ’وائس آف بیسپروٹ‘ میں مرکزی گلوکارہ اور گٹارسٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔
انگریزی اور انڈونیشیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک سنڈانی میں تینوں بینڈ ممبرز کے گیت پدر شاہی کے بارے میں ان کی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔
انھیں قدامت پسند مسلمانوں کی طرف سے اچھا ردِ عمل نہیں ملا جنھیں ان کا ہیوی میٹل میں قدم رکھنا اچھا نہیں لگا تھا۔
لیکن 10 سال پہلے مغربی جاوا کے شہر گروت میں واقع گاؤں کے سکول میں شروع ہونے کے بعد سے بینڈ نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔رواس برس انھوں نے میوزک فیسٹیول کی 54 سالہ تاریخ میں پہلے انڈونیشین بینڈ کی حیثیت سے گلاسٹنبری میں پرفارم کیا۔
سیاست اور وکالت

نادیہ مراد , عراق
نوبل انعام برائے امن
جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کی وکیل، انسانی حقوق کی کارکن اور نوبل امن انعام یافتہ نادیہ مراد نے 2014 میں عراق میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والے گروپ کے ہاتھوں یزیدی نسل کشی کا سامنا کیا۔
انھیں دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے پکڑ لیا، غلام بنا کر ریپ اور استحصال کا نشانہ بنایا۔ نادیہ مراد تین ماہ بعد فرار ہو گئیں اور انھوں نے تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بہادری سے دنیا کو اپنی تکلیف دہ کہانی سنائی ہے۔
انھوں نے دولت اسلامیہ کو جوابدہ بنانے کے لیے انسانی حقوق کے وکیل امل کلونی کے ساتھ مل کر برادریوں کی بحالی میں مدد اور بچ جانے والوں کے لیے معاوضے کی وکالت کی۔
یزیدی قتل عام کے دس سال بعد بھی مراد مزاحمت کی عالمی علامت بنی ہوئی ہیں۔
ہمیں مساوات اور انصاف کے حصول کی لڑائی میں ’حوصلے کے ہتھیار‘ یعنی سچائی، امید اور ہمدردی کا استعمال کرنا چاہیے۔
نادیہ مراد

,
کانگو کے کان کنی کے کاروبار میں ایک خاتون کی حیثیت سے اینی سینانڈوکو نے مونگے صنعت میں عدم مساوات اور جنسی ہراسانی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نچلی سطح کی تحریک کی قیادت کی، جہاں گڑھوں میں کام کرنے والوں میں نصف خواتین ہیں۔
وہ نیشنل ویمن مائننگ نیٹ ورک رینافیم کی رہنما ہیں اور خود کو ’میر باس‘ یا مدر باس کے طور پر پیش کرتی ہیں، مرد ساتھیوں کی جانب سے جنسی استحصال کو روکنے کے لیے وہ خواتین کو کان کنی کے مقامات کی انچارج بناتی ہیں۔
انھیں امید ہے کہ خواتین کو ذریعہِ معاش فراہم کرکے اس شعبے میں چائلڈ لیبر کم ہوگی کیونکہ بجلی سے چلنے والی کاروں جیسی صاف توانائی کی مصنوعات کے لیے کوبالٹ اور دیگر معدنیات کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

ارونا رائے , انڈیا
سماجی کارکن
انڈیا میں غریبوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ارونا رائے نے دیہی برادریوں کے ساتھ براہ راست منسلک ہونے کے لیے سول سروس میں اپنا کیریئر چھوڑ دیا۔
وہ نچلی سطح کی تنظیم’ مزدور کسان شکتی سنگٹھن‘ کی شریک بانی ہیں، جو شفافیت اور منصفانہ اجرت کو فروغ دیتی ہے۔ انھوں نے 2005 کے ایک تاریخی قانون کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس میں شہریوں کو سرکاری احتساب کا مطالبہ کرنے کے قابل بنایا گیا تھا۔
گذشتہ چار دہائیوں سے ارونا رائے عوامی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات میں سب سے آگے رہی ہیں اور انھوں نے ریمن میگسیسے سمیت متعدد اعزازات حاصل کیے ہیں، جنہیں اکثر ’ایشیا کا نوبل انعام‘ کہا جاتا ہے۔
وہ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر ہیں اور اس سال انھوں نے اپنی سوانح حیات ’دی پرسنل از پولیٹیکل‘ شائع کی ہے۔
بڑے بڑے خواب بُننے کے جنون میں مبتلا، ہم اکثر اگلے قدم پر موجود خواب کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔
ارونا رائے

ایمانڈا زوروسکی , امریکہ
تولیدی صحت کے حقوق کی حامی
یہ اگست 2022 کی بات ہے جب امینڈا زوروسکی کو حمل کے دوران وقت سے پہلے ہی بچہ دانی سے تمام پانی خارج ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے انھیں آگاہ کیا کہ ان کا حمل ضائع ہو جائے گا۔
امینڈا زوروسکی ٹیکساس میں رہتی ہیں جہاں ابارشن یعنی اسقاط حمل کی اجازت نہیں ہے۔ دو ماہ قبل ہی سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے ایک فیصلے کے بعد امریکی ریاست ٹیکساس نے اسقاط حمل پر پابندی لگا دی تھی سوائے ان صورتوں میں جہاں مریض کی جان کو خطرہ ہو۔ تین دن بعد انھیں سیپٹک شاک کی وجہ سے انفیکشن ہو گیا۔ اب چونکہ ان کی جان کو خطرہ تھا تو آخرکار انھیں ابارشن کی اجازت دے دی گئی۔
مارچ 2023 میں امینڈا اور انھی کی طرح کے کیسز والی دیگر 19 خواتین نے ریاست کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے روے بمقابلہ ویڈ فیصلے کے بعد اسقاط حمل سے محروم خواتین نے اسے پہلی بار چیلنج کیا تھا۔
اب امینڈا 'ملک میں تولیدی حقوق کی بحالی اور تحفظ' کے لیے جدوجہد جاری رکھنے میں مصروف عمل ہیں۔

, اسرائیل
مغویوں کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی
اسرائیلی خاتون اینو زنگاؤکر ایک سنگل مدر اور مغویوں کی رہائی کے لیے مہم چلانے والی وہ خاتون ہیں جن کے اپنے 24 سالہ بیٹے متان کو سات اکتوبر کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں میں یرغمال بنایا گیا تھا۔ ان کے بیٹے کی ساتھی الانا کو الگ سے اغوا کر لیا گیا اور بالآخر قیدیوں کے تبادلے میں واپس لایا گیا۔
اس کے بعد سے انھوں نے مسلسل یرغمالیوں کے بحران کی طرف توجہ مبذول کراوانے کا عزم کر رکھا ہے اور اس دوران رہنماؤں سے کارروائی کرنے پر زور د ینے کے لیے لوگوں کو ہفتہ وار احتجاج کرنے کی ترغیب دی ہے۔
حماس کی قید سے یرغمالیوں کو واپس لانے میں ناکامی کے بعد سے اینو زنگاؤکر اسرائیلی حکومت کی کھلم کھلا ناقد بن گئی ہیں باوجود اس کے کہ اس سے قبل اانھوں نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکمران جماعت کو ووٹ دیا تھا۔
وہ بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کی خواہاں ہیں۔

این چوماپورن (وڈاؤ), تھائی لینڈ
ایل جی بی ٹی کیو کے حقوق کی کارکن
جب تھائی لینڈ نے اس سال شادی کی مساوات کا بل منظور کیا اور ہم جنس پرستوں کو تسلیم کرنے والا جنوب مشرقی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا، تو این وڈاؤ‘ چوماپورن کے لیے یہ جشن کا سماں تھا۔
انھوں نے اس بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرانے کی کوششوں کی قیادت کی تھی اور ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں قانونی جائزہ کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔
بنکاک پرائڈ کی شریک بانی اور جنوبی تھائی لینڈ کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ہم جنس پرست کارکن، چوماپورن ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے انسانی حقوق اور ایل جی بی ٹی کیو کے لیے خاندان کے حقوق کی وکالت کر رہی ہیں۔
تھائی لینڈ کے 2020 کے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران، وہ جمہوریت نواز فیمنسٹ لبریشن فرنٹ میں ایک رہنما کے طور پر ابھریں۔ انھیں آٹھ سیاسی الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

نیجلہ اشک, ترکی
گاؤں کی سربراہ اور تحفظِ جنگلات کی کارکن
حال ہی میں مغربی ترکی کے علاقے اکیزکی کی سربراہ کے طور پر منتخب ہونے والی کسان نیجلہ اشک گذشتہ پانچ سالوں سے جنگلات کی کٹائی کے خلاف جدوجہد کی قیادت کر رہی ہیں۔
جب مجوزہ کوئلے کی کانوں کی وجہ سے قریبی اکبیلن فاریسٹ خطرے میں آ گیا، تو نیجلہ اشک اور دیگر مقامی خواتین نے کان کنی کے منصوبوں کے لیے زمین کو صاف کرنے والی کٹائی کو روکنے کے لیے مقدمات قائم کیے اور احتجاج کیا۔
بعض اوقات ان کی ماحولیاتی تحفظ کی مہم کے نتیجے میں پولیس اور جنگل کے دفاع کے لیے محافظ بن کر کھڑے مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، لیکن اشک اور دیگر دیہاتیوں نے چیلنجوں اور دھمکیوں کے باوجود ثابت قدم رہنے کا عہد کیا۔ انھیں روکنے کے لیے اجازت کے بغیر جنگل میں داخل ہونے پر جرمانہ بھی شامل تھا جسے بعد میں منسوخ کردیا گیا تھا۔
عورتیں چاہے وہ گھر پر ہوں، کھیتوں میں، سڑکوں پر، یا جدوجہد میں۔۔۔ وہ ہیں جو دنیا کو خوبصورت بناتی ہیں اور بلاشبہ وہ ہی اسے بچائیں گی۔
نیجلہ اشک

فوزیہ العتیبی, سعوری عرب/ برطانیہ
خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانے والی
فوزیہ العتیبی نے سعودی عرب میں طویل عرصے سے رائج سرپرستی کے مردانہ نظام کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلائی اور اس کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔
لیکن جب انھیں حکام کی جانب سے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تو انھوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ان کی بہن مناہل العتیبی بھی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں جنھیں رواں سال کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق مناہل کوان کے لباس کے انتخاب اور آن لائن اپنے خیالات کے برملا اظہار کرنے کے الزام میں سزا سنائی تھی۔
فوزیہ العتیبی نے اپنی بہن کی رہائی کے لیے انتھک مہم چلائی ۔سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر اختلاف رائے کرنے کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن میں بہت سے لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا ہے۔

ہالہ اکریب, سوڈان
جنگ میں جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی کارکن
قرنِ افریقہ میں خواتین کے لیے سٹریٹجک انیشی ایٹو کی علاقائی ڈائریکٹر کی حیثیت سے معروف کارکن اور مصنف ہالا الکریب ایسے اقدامات کی قیادت کرتی ہیں جو خطے میں صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو اجاگر کرتے ہیں۔
اپریل 2023 میں سوڈان میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایس آئی ایچ اے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد پر نظر رکھے ہوئے ہے اور خواتین اور لڑکیوں کو مدد فراہم کر رہا ہے۔
اکتوبر 2024 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اس مسئلے کے ’حیرت انگیز‘ پیمانے کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز پر ’ظالمانہ جرائم‘ کا الزام لگایا گیا تھا لیکن آر ایس ایف نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

لورڈیس باریٹو, برازیل
سیکس ورکرز کے حقوق کی کارکن
لورڈیس باریٹو نے اپنی زندگی برازیل میں سیکس ورکرز کے بہتر حقوق کی وکالت کرتے ہوئے گزاری ہے۔
سنہ 1980 کی دہائی میں انھوں نے برازیل کے طوائفوں کے نیٹ ورک کی مشترکہ بنیاد رکھی جو لاطینی امریکہ میں سیکس ورکرز کی پہلی منظّم تحریکوں میں سے ایک ہے۔
باریٹو جو اب 80 سال کی عمر میں ہیں، کئی دہائیوں سے تعصب کو چیلنج کر رہی ہیں۔
انھوں نے ملک میں ایچ آئی وی کی روک تھام کی پالیسیاں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور سونے کی کان کنی کرنے والی برادریوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مہم چلائی۔ 2023 میں انھوں نے اپنی سوانح حیات شائع کی۔
ہماری کہانیوں کی قدر کی جائے اور انھیں خاموش نہ کیا جائے۔ دنیا بھر کی خواتین میں خواب دیکھنے، حاصل کرنے، سوچنے، معاشرے کو تبدیل کرنے بے پناہ صلاحیت ہے۔
لورڈیس باریٹو

ماہ رنگ بلوچ, پاکستان
ڈاکٹر اور سیاسی کارکن
پاکستان بھر میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے والی سینکڑوں خواتین میں سے ایک صوبہ بلوچستان میں مبینہ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ماہ رنگ بلوچ بھی ہیں۔
انھوں نے انصاف کا مطالبہ اس وقت کیا جب ان کے والد کو مبینہ طور پر 2009 میں سکیورٹی سروس کے افسران نے حراست میں لے لیا تھا اور دو سال بعد تشدد کے نشانات کے ساتھ مردہ پائے گئے تھے۔
سنہ 2023 کے اواخر میں ماہ رنگ بلوچ نے سینکڑوں خواتین کی قیادت میں دارالحکومت اسلام آباد تک 1000 میل کا مارچ کیا تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ سفر کے دوران انھیں دو بار گرفتار کیا گیا۔
صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے انسداد بغاوت کی کارروائی کے دوران اغوا کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس کے بعد سے یہ ڈاکٹر اپنے ہی انسانی حقوق کے گروپ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بینر تلے ایک نمایاں کارکن بن گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے میدان میں ان کے کام کو ابھرتے ہوئے رہنماؤں کی ٹائم 100 نیکسٹ 2024 کی فہرست میں تسلیم کیا گیا تھا۔

کیمی بیڈنوچ, برطانیہ
کنزرویٹو پارٹی کی رہنما
نومبر میں کنزرویٹو پارٹی کی رہنما منتخب ہونے والی کیمی بیڈنوچ برطانیہ کی کسی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں
وہ اس وقت نارتھ ویسٹ ایسیکس کی رکن پارلیمان ہیں اور اس سے قبل بزنس سیکریٹری اور خواتین اور عدم مساوات کی وزیر تھیں۔
وہ لندن میں نائجیریئن والدین کے ہاں پیدا ہوئیں لیکن لاگوس، نائیجیریا اور امریکہ میں پلی بڑھیں۔ نائجیریا میں بگڑتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورتحال کی وجہ سے وہ 16 سال کی عمر میں برطانیہ واپس آئیں اور کمپیوٹر انجینئرنگ اور قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔
اپنے سیاسی کیریئر سے پہلے وہ نجی بینک کوٹس کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور دی سپیکٹیٹر میگزین کی ڈیجیٹل ڈائریکٹر تھیں۔

گورلائن ایم جوزف, ہیٹی
تارکینِ وطن کے حقوق کی کارکن
امریکہ میں سیاست اور نسلی تفریق کے دوراہے پر کام کرتے ہوئے گورلائن ایم جوزف تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔
وہ خواتین پر مبنی ہیٹی برج الائنس نامی تنظیم کی بانی ہیں جو افریقی نسل کے لوگوں کے لیے کام کرتی ہے۔
ان کی رہنمائی میں الائنس نے رواں سال ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد کیے تھے کیونکہ انھوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران اوہائیو کے شہر سپرنگ فیلڈ میں ایک تقریر کے دوران ہیٹی کے تارکین وطن کے ’پالتو جانور کھانے‘ کے بارے میں بے بنیاد دعوے کیے تھے۔
جوزف طویل عرصے سے ہیٹی کے شہریوں کی جاری جلاوطنی کی سخت ناقد رہی ہیں۔ ان کی تنظیم نے حال ہی میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ ان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنا بند کرے جو اپنے آبائی جزیرے پر گینگز کے تشدد سے فرار ہو کر امریکہ آتے ہیں۔

ہوانگ جی, تائیوان
صنفی مساوات کی وکالت کرنے والی ہوانگ جی نے رواں سال جنوری میں تاریخ رقم کی تھی جب انھوں نے پارلیمنٹ میں ایک نشست حاصل کی اور تائیوان کی پہلی ایل جی بی ٹی کیو قانون ساز بنیں۔
انھوں نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران بڑی اصلاحات متعارف کروائیں جن میں تنہا خواتین اور ہم جنس پرست جوڑوں کے حقوق کو محفوظ بنانا اور کم آمدنی والی اور معذور خواتین کے لیے حیض کی مصنوعات پر سبسڈی حاصل کرنا شامل ہے۔
سنہ 2023 میں عوامی سطح پر سامنے آنے کے بعد انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ڈیپ فیک پورنوگرافی کا شکار ہونے کے بعد وہ ڈیجیٹل جنسی تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے موجودہ قوانین کو مضبوط بنانے کی وکالت کرتی ہیں۔
حقیقی مزاحمت تنوع کو اپنانے میں مضمر ہے۔ ہم جتنی زیادہ آوازیں شامل کرتے ہیں اتنا ہی ہم مضبوط ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ جو کبھی کمزور سمجھے جاتے تھے، خواتین اور ایل جی بی ٹی کیو
ہوانگ جی

اینجلا رینر, برطانیہ
نائب وزیر اعظم
برطانیہ کی سیاست میں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز انجیلا رینر جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد نائب وزیر اعظم بن گئیں۔
سٹاک پورٹ میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رینر کم عمری سے ہی اپنی والدہ کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور 16 سال کی عمر میں حاملہ ہو کر سکول چھوڑ دیا تھا۔ انھوں نے مقامی کونسل کے لیے سماجی دیکھ بھال کے شعبے میں کام کیا اور ترقی کے زینے چڑھتے ہوئے ٹریڈ یونین کی نمائندہ بن گئیں۔
رینر پہلی بار 2015 میں ایشٹن انڈر لین کے لیے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کے طور پر منتخب ہوئی تھیں اور اس حلقے کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور بعد میں انھوں نے دیگر ذمہ داریوں کے علاوہ خواتین اور عدم مساوات کی شیڈو وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
وہ اس وقت ہاؤسنگ، کمیونٹیز اور لوکل گورنمنٹ کی وزیر مملکت ہیں۔

یومی سوزوکی, جاپان
جبری نس بندی کے مقدمے میں مدعی
دماغی فالج کے ساتھ پیدا ہونے والی یومی سوزوکی کے ساتھ کم عمری سے ہی امتیازی سلوک کیا جاتا تھا۔ جب وہ صرف 12 سال کی تھیں تو ایک آپریشن کے بعد ان کی بچہ دانی کو نکال دیا گیا۔
سنہ 1950 کی دہائی سے1990 کی دہائی تک سوزوکی جیسے کچھ معذور افراد کی جاپان میں یوجینیکس قانون کی وجہ سے زبردستی نس بندی کی گئی یہ قانون 1996 میں منسوخ کیا گیا تھا۔
سوزوکی اور 38 دیگر مدعیوں نے حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور کئی سال بعد انھوں نے اپنا مقدمہ جیت لیا۔ جولائی میں جاپان کی سپریم کورٹ نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کو متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکام نے تسلیم کیا ہے کہ 16500 افراد کی نس بندی رضامندی کے بغیر کی گئی تھی۔

روتھ لوپیز, ایل سلواڈور
وکیل
قانون اور انصاف کے بارے میں پرجوش روتھ لوپیز ’کرسٹوسل‘ نامی تنظیم کی چیف لیگل آفیسر ہیں۔ یہ تنظیم وسطی امریکہ میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہے۔
وہ ایل سلواڈور میں انسداد بدعنوانی، انتخابی قانون اور انسانی حقوق کے تحفظ پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔
وہ حکومت اور اداروں کی سخت ناقدہیں۔ انھوں نے سیاسی شفافیت اور عوامی احتساب خود شہریوں کی نگرانی میں دینے کے لیے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر مہم چلائی ہے۔
اس سال کے اوائل میں ایل سلواڈور نے دوسری مدت کے لیے صدر نائف بوکیلے کو دوبارہ منتخب کیا جس کے بعد ان کا کام زیادہ نمایاں ہو گیا۔ جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اپنی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے والے بوکیلے نے خود کو ’دنیا کا سب سے اچھا ڈکٹیٹر‘ قرار دیا ہے۔

کیتھرین مارٹنیز, وینز ویلا
انسانی حقوق کی وکیل
وینز ویلا کے شہر کراکس میں واقع ہوزے مینوئل ڈی لاس ریوس چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج بہت سے مریضوں کا تعلق کم آمدنی والے اور اکیلے والدین والے گھرانوں سے ہے۔
کیتھرین مارٹنیز کی قائم کردہ ایک غیر سرکاری تنظیم پریپارا فیمیلیا انھیں ضروری سامان، کپڑے ، طبی سامان اور خوراک اور نفسیاتی مدد فراہم کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل کی حیثیت سے کیتھرین مارٹینز ہسپتال میں بچوں اور خواتین کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھتی ہیں تاکہ متاثرین معاوضہ حاصل کرسکیں۔
وینزویلا میں غذائی قلت کی بلند شرح کا سامنا کرتے ہوئے پریپارا فیمیلیا نے بچوں اور حاملہ خواتین کو غذائی سپلیمنٹ سپلیمنٹس اور وٹامنز مفت فراہم کرنے کے لیے ایک مرکز بھی کھولا۔

کاشا جیکلین ناباگیسیرا, یوگینڈا
تنوع اور شمولیت کی کارکن
یوگنڈا میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے جس کی سزا قید ہے اور ایل جی بی ٹی کیو وکیل کاشا ناباگیسیرا ان جابرانہ قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں۔
ایک کھلے عام ہم جنس پرست خاتون کی حیثیت سے انھوں نے افریقہ بھر میں ایل جی بی ٹی کیو کو برا سمجھے جانے کے خلاف مہم چلانے میں بڑا کردار ادا کیا۔
ناباگیسیرا نے اخبارات اور یوگنڈا کی حکومت پر ایل جی بی ٹی کیو مخالف بیانات پر کامیابی کے ساتھ مقدمہ دائر کیا ہے۔ وہ دو بار یوگنڈا کی عدالتوں میں ہم جنس پرستی کے خلاف قوانین کو چیلنج کر چکی ہیں اور اس وقت انھوں نے 2023 کے قانون کو چیلنج کر رکھا ہے۔
ان کے تعلیمی سفر میں یوگنڈا کی نکمبا یونیورسٹی سے بزنس کی ڈگری اور سٹینفورڈ یونیورسٹی سے فیلوشپ شامل ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ اور افریقی کمیشن جیسے اعلیٰ سطحی فورمز پر تنوع کے موضوع کو اجاگر کیا۔

روزمیری وائڈلر ولٹی, سوئٹزر لینڈ
استاد اور ماحولیاتی کارکن
کلائمیٹ پروٹیکشن کے لیے سینئر ویمن کی شریک صدر کی حیثیت سے روزمیری وائڈلر ولٹی نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں سوئس حکومت کے خلاف نو سالہ لڑائی کی قیادت کی اور پہلا ماحولیاتی مقدمہ جیتا۔
چھوٹے بچوں کی ٹیچر اور کاؤنسلر وائڈلر ولٹی اور 2000 دیگر خواتین کا موقف تھا کہ گلوبل وارمنگ سے منسلک ہیٹ ویو پر سوئس حکومت کا ردعمل ان کے صحت کے حق کو متاثر کرتا ہے اور ان کی عمر اور جنس نے انھیں خاص طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
اپریل میں عدالت نے فیصلہ سنایا کہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ملک کی کوششیں ناکافی تھیں۔
اگرچہ سوئس پارلیمنٹ نے بعد میں اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا لیکن اس کیس نے ماحولیاتی قانونی چارہ جوئی کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔

جزیل پیلیکوٹ, فرانس
ریپ کا شکار اور انسانی حقوق کی کارکن
گمنام نہ رہتے ہوئے اپنی کہانی کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت دے کر جزیل پیلیکوٹ ہمت اور لچک کی علامت بن گئی ہیں۔
ان کے سابق شوہر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب وہ ان کی بیوی تھیں تو اس نے انھیں نشہ دیا اور ریپ کیا، اور ان کے ریپ کے لیے درجنوں دیگر مردوں کو بلایا۔ زیادہ تر مبینہ ریپ کی فلم بندی کی گئی تھی۔
قانون کے مطابق پیلیکوٹ نام ظاہر نہ کرنے کی حقدار تھیں لیکن اس کے بجائے انھوں نے مقدمے کی سماعت کو عام کرنے اور ویڈیوز دکھانے کا مطالبہ کیا، تاکہ ’شرمندگی‘ کو دوبارہ ملزم پر منتقل کیا جا سکے۔ اس معاملے میں شامل دیگر 50 مردوں میں سے کچھ نے ریپ کا اعتراف کیا ہے لیکن اکثریت کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف جنسی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔
ایک ایسے وقت میں جب مقدمہ اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے، دنیا بھر کی خواتین فرانسیسی خاتون سے متاثر ہیں، جنہیں امید ہے کہ ان کے کیس سے فرانسیسی قانون اور ریپ اور رضامندی کے بارے میں رویے بدل جائیں گے۔

لیلیا چنیشیوا, روس
سابق قیدی اور سیاسی کارکن
رواں برس اگست میں بین الاقوامی قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں رہا کیے جانے والے 26 قیدیوں میں سے ایک سیاسی کارکن لیلیا چنیشیوا نے رہائی کے بعد روس چھوڑ دیا تھا۔
چنیشیوا روس کے علاقے بشکورتوستان میں حزب اختلاف کے سیاست دان الیکسی نوالنی کے دفتر کی سربراہ تھیں۔ ان کے کام میں بدعنوانی کی تحقیقات اور منصفانہ انتخابات اور اظہار رائے کی آزادیکے لیے کام کرنا شامل تھا۔
نوالنی کے لیے کام کرنے سے پہلے وہ ایک کامیاب فنانسر تھیں، انھوں نے ماسکو میں بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ٹیکس کنسلٹنسی کی۔
2021 میں انھیں انتہا پسندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ساڑھے نو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم وہ دو سال اور نو ماہ جیل میں گزار کر رہا ہوئیں۔

لتیشا میک کروڈن, آئر لینڈ
آئرش ٹریولر موومنٹ کی کارکن
وہ صرف 20 سال کی ہیں لیکن لتیشا میک کروڈن نے پہلے ہی خود کو آئرش مسافر برادری کے لیے ایک زبردست وکیل کے طور پرمنوایا ہے۔
ایک رکن کی حیثیت سے وہ آئرلینڈ میں نسلی اقلیتوں سے جڑی ممنوع چیزوں کا مقابلہ کرنا چاہتی ہیں اور خود گھریلو تشدد کا شکار رہنے کے باعث وہ دوسری خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی آواز کا استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
یونیورسٹی آف گالوے میں قانون کی طالبہ میک کروڈ آئرش ٹریولر موومنٹ نیشنل یوتھ فورم، آئرلینڈ کی قومی خواتین کونسل، اور ٹریولرز سپورٹ گروپ، مینسیرس ویڈن کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔
انھیں امید ہے کہ وہ 2029 میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گی اور آئرلینڈ کے مستقبل کے لیے تبدیلی لائیں گی۔

ہانا روہیتی میپی کلارک, نیوزی لینڈ
سیاستدان
22 سال کی عمر میں ہانا روہیتی میپی کلارک نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والی سب سے کم عمر ماوری خاتون بن گئیں۔
اپنی پہلی تقریر کے دوران انھوں نے ہکا، ایک ماوری رسمی رقص پیش کیا جو کافی مشہور ہوا، اور مقامی آوازوں کی نمائندگی میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے حال ہی میں ایک اور ہکا کی قیادت کی جو ایک متنازعہ بل کے خلاف بطور احتجاج تھا، اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی روک گئی۔
میپی کلارک ماوری حقوق، ثقافتی تحفظ اور ماحولیاتی مسائل کی پرجوش وکالت کرتی ہیں۔ 17 سال کی عمر میں انھوں نے ماوری قمری کیلنڈر کے بارے میں اپنی پہلی کتاب شائع کی۔
اس سال انھیں سیاست میں نوجوان مقامی آوازوں کو فروغ دینے کی کوششوں کے لیے سال کی بہترین نوجوان سیاست دان کا ایوارڈ ملا۔
خواتین کو ان تمام جگہوں کے دروازے بند کرنے ہوں گے جہاں وہ جانتی ہیں کہ وہ مدعو نہیں ہیں، چاہے وہ مقامی، قومی یا عالمی سیاست میں ہوں۔
ہانا روہیتی میپی کلارک

سوسن کولنز, امریکہ
سینیٹر
سوزین کولنز پانچویں بار ریاست مین کی نمائندگی کر رہی ہیں، یہ سب سے طویل مدت ہے کہ کسی رپبلکن خاتون نے امریکی سینیٹ میں خدمات انجام دیں۔
انھوں نے تاریخی قانون سازی کے لیے اکثر پارٹی سے بالاتر ہو کر کام کیا ہے۔ وہ ان چھ سینیٹرز میں سے ایک ہیں جنہوں نے مینوپاز اور مڈ لائف ویمنز ہیلتھ ایکٹ پاس کرنے میں مدد کی، جو مینوپاز کے بارے میں تحقیق، علاج اور عوامی تعلیم میں اگلے پانچ سالوں میں 275 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے بارے میں ہے۔
کولنز نیشنل الزائمر پروجیکٹ ایکٹ کی خالق بھی ہیں، جو الزائمر کی بیماری کی روک تھام اور علاج کے لیے ایک قومی منصوبے کو مربوط بناتا ہے۔ انھوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا کہ اس منصوبے کو 2035 تک فنڈز فراہم کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس میں وسیع تر غیر محفوظ آبادی، بشمول ڈاؤن سنڈروم والے لوگ شامل ہوں

ڈینیئل کینٹر, اسرائیل و فلسطینی علاقے
کلچرل ایکٹیوسٹ
ڈینیئل کینٹر نے ’وبائی امراض میں لوگوں کی مدد کے لیے کلچر آف سولیڈریٹی‘ کا ایک پراجیکٹ شروع کیا تھا اور اب اسی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے تل ابیب میں مقامی خاندانوں کو خوراک اور امداد فراہم کر رہی ہیں۔
تنظیم میں اپنی شریک بانی الما بیک کے ساتھ مل کر وہ ہاؤس آف سولیڈیریٹی چلاتی ہیں۔ ایک ایسی جگہ جہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے ، بات چیت کرنے اور ثقافتی تقریبات اور ورکشاپس میں حصہ لینے کا بہترین موقع ملتا ہے۔
انھوں نے حال ہی میں ’اسپریڈز‘ نامی آرٹ کی ایک کتاب لکھی ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں کھانوں ثقافت کا استعمال کرتے ہوئے کمیونٹیز کی شناخت اور سیاست کی باریکیوں کی منظر کشی کی گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور دیرپا امن معاہدے کا مطالبہ لیے وہ خواتین کے امن دھرنے میں دیگر شرکا کے ساتھ مظاہروں میں شامل ہیں۔
جب خواتین اپنی فطری سمجھ بوجھ کا سہارا لیں گی تب ہی ہم صحیح معنوں میں ناانصافی کے نظام کو پہچان سکتی ہیں اور اپنے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
ڈینیئل کینٹر

زینا مودرس گرجی, ایران
خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن
کرد صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن زینا مودرس گرجی نے 2019 میں زیوانو وومن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی ۔ یہ تنظیم خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ تشدد سے نمٹنے کے خلاف احتجاج کرتی اور مدد فراہم کرتی ہے۔
ایران میں اپنی تحریک ’خواتین، زندگی، آزادی‘ کے آغاز کے بعد سے وہ دو مرتبہ گرفتار ہو چکی ہیں۔ مودرس گورجی کو ابتدائی طور پر ’حکومت کے خلاف پروپیگنڈے‘ کے الزام میں 21 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم ان کی سزا کم کرکے دو سال چار ماہ کر دی گئی۔
مودرس گورجی ایران میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والے قوانین میں اصلاحات کے لیے عوامی حمایت کو متحرک کرنے کی 10 لاکھ دستخطوں کی مہم کا بھی حصہ رہی ہیں۔ ۔
وہ کرد خواتین کے فوٹوگرافی گروپ اور خواتین کی پوڈ کاسٹ سے وابستہ ہونے کے ساتھ بچوں کی کتاب کے لیے کام کرتی ہیں جس سے کرد خواتین بہت متاثر ہیں۔

فینگ یوان, چین
حقوق نسواں کی کارکن
چین میں خواتین کے حقوق کے دیرینہ حامی فینگ یوان’ایکویلٹی بیجنگ‘ کی بانی ڈائریکٹر ہیں۔ 2014 میں قائم ہونے والی یہ تنظیم ایک ہیلپ لائن کے ذریعے قانونی اصلاحات، استعداد کار بڑھانے اور صنفی تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے وقف ہے۔
حالیہ برسوں میں وہ چین کے می ٹو متاثرین کی حمایت کر رہی ہیں اور آجروں کو کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کی روک تھام کے لیے تربیت فراہم کر رہی ہیں۔
فینگ نے 1986 سے 2006 تک خواتین کے مسائل اجاگر کرنے والی صحافی کے طور پر کام کیا۔
سنہ 1990 کی دہائی کے وسط سے انھوں نے خواتین اور میڈیا، ایچ آئی وی/ ایڈز ، قیادت، اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے موضوعات پر مختلف غیر سرکاری اقدامات کرنے میں مدد کی ہے۔ انھوں نے چین اور اس سے باہر کئی پبلیکیشنز لکھیں اور ایڈٹ کیں۔
سائنس، صحت اور ٹیکنالوجی

, برطانیہ/اریٹریا
سائنس کٹس کی ڈیزائنر
سوڈان میں پیدا ہونے والی اور لندن میں پرورش پانے والی سارہ برکائی اپنے خاندان کی پہلی خاتون تھیں جنھوں نے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھوں نے بچوں کی نشوونما سے متعلق تعلیم حاصل کی۔
وہ امبیسا پلے کی بانی ہیں جو ایک سماجی انٹرپرائز ہے جو بچوں کے لیے ڈی آئی وائی تعلیمی کٹس ڈیزائن کرتی ہے اور انھیں کھلونے کے ڈیزائن میں حصہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔
سارہ برکائی کا کام مختلف ممالک میں سکول نہ جانے والے بچوں کو کھیل کے ذریعے تعلیم تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے یہ تصور 2019 میں ایتھوپیا اور اریٹریا میں بے گھر بچوں کو سٹم ورکشاپس میں پڑھاتے ہوئے پیش کیا تھا۔
ان کے اختراعی خیالات کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں فوربز کی 30 انڈر 30 فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔
مزاحمت عملی طور پر امید ہے۔ ایک بہتر مستقبل کے لیے ایک ثابت قدم عزم، جس کی جڑیں محبت میں گڑی ہیں۔

شیلشیلا آچاریہ, نیپال
پائیداری کی صنعت کار
شیلشیلا آچاریہ نیپال میں پلاسٹک ری سائیکلنگ کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک چلاتی ہیں۔ ’اونی وینچرز‘ کے نام سے کچرے کے انتظام کا یہ کاروبار پسماندہ برادریوں کے لوگوں کو ملازمت دیتا ہے اور اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو شامل کرنے پر توجہ دیتا ہے۔
شیلشیلا آچاریہ نے 2014 میں ’شکریہ میرے پاس اپنا بیگ ہے‘ کے نام سے مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
کوہ پیماؤں کی جانب سے چھوڑے گئے کچرے کو ہٹانے کے لیے ہمالیہ میں سالانہ صفائی کے ایک بڑے پروگرام کے پیچھے بھی ان کا ہاتھ ہے جس میں 2019 سے اب تک 119 ٹن کچرا اٹھایا گیا۔
اپنے کام کے ذریعے اس فضلے میں سے کچھ کو مقامی کاریگر ٹوکریاں، چٹائیاں اور زیورات بنانے کے لیے دوبارہ استعمال کرتی ہیں تاکہ کچھ اضافی آمدنی ہو سکے۔

انس الغول, فلسطین
ایگریکلچرل انجینیئر
جب جنگ کے باعث غزہ میں پانی کی شدید قلت ہو گئی تو انس الغول نےٹھان لی کہ انھیں اس کا حل تلاش کرنا ہے۔
زرعی انجینئر ہونے کے باعث انس الغول نے شمسی توانائی سے چلنے والی ایک ’ڈی سیلینیشن ڈیوائس‘ بنائی جو سمندری پانی کو پینے کے پانی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نظام میں لکڑی، شیشہ اور ترپال جیسے ماحول دوست اورری سائیکل مواد شامل کیے گئے۔
پانی کی دستیابی کا یہ نظام غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس کے خیموں میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے نئی زندگی کا باعث بنا۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2023 یعنی جنگ کے آغاز سے غزہ میں پانی اور صفائی کی سہولیات تباہ ہو گئی ہیں۔
انس الغول بے گھر فلسطینیوں کی مدد کے لیے پر عزم رہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر انھوں نے شمسی توانائی سے چلنے والا ککر بھی بنالیا۔ انھوں نے گدے اور بیگ جیسی چیزیں بنانے کے لیے مواد کو ری سائیکل کرنا بھی سیکھ لیا ہے۔

نور امام, مصر
فیم ٹیک انٹرپرینیور
جنسی صحت کے ماہر نور امام حیض کی حفظان صحت، تولیدی صحت اور جنسی بیداری جیسے موضوعات پر کام کرتی ہیں۔ یہ ایسے موضوعات جنہیں اکثر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں خواتین کے لیے ممنوع سمجھا جاتا ہے۔
نور امام قاہرہ میں ایک کلینک اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ہائبرڈ خدمات فراہم کرنے والی ایک فیم ٹیک کمپنی ’مدر بینگ‘ کی شریک بانی اور سی ای او ہیں، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
ان کا مقصد خواتین کو ان کے جسم کے بارے میں شواہد پر مبنی معلومات کے ساتھ بااختیار بنانا ہے، جبکہ مانع حمل کے بارے میں قابل اعتماد معلومات تک رسائی کو آسان بنانا اور شرمندگی کے خوف کے بغیر حساس معاملات کو حل کرنے میں ان کی مدد کرنا ہے۔

اولگا اولیفرینکو, یوکرین
کسان
2015 میں جب ان کے والد کی وفات ہوئی تو اولگا اولیفرینکو نے اپنے والد کا خواب پورا کرنا چاہا۔ چنانچہ انھوں نے مویشی خرید کر کاروبار شروع کیا لیکن جلد ہی انھیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور نقصان کے باعث تمام مویشی بیچنے پڑے۔
تاہم وہ اپنے والد کی خواہشات کو ادھورا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔ ان کے والد بحریہ کی خصوصی ٹارگٹ فورسز کے کمانڈر کی حیثیت سے ڈیوٹی کے دوران ڈونباس میں فرنٹ لائن پر مارے گئے تھے۔
گذشتہ سال انھوں نے یوکرین ویٹرنز فنڈ کی مدد سے ایک کاروبار شروع کیا جو کامیاب رہا
اولگا اولیفرینکو نے کاشتکاری کی نئی تکنیک کا استعمال کیا اور مقامی کمیونٹی کے لیے روزگار کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنا فارم دوبارہ شروع کیا۔ ان کے اس اقدام اور قیادت کی صلاحیت کو ایک تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

روزا واسکس ایسپینوسا, پیرو
کیمیائی حیاتیات دان
اپنی طبیب دادی کی دانشمندی سے متاثر ہو کر سائنسدان روزا واسکس ایسپینوسا نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے نے اپنا کیریئر پیرو کے ایمازون میں جدید سائنس اور روایتی علم کو یکجا کرنے میں گزارا ہے۔
ایمازون ریسرچ انٹرنیشنل کی بانی کی حیثیت سے وہ جنگل کی غیر استعمال شدہ حیاتیاتی تنوع کو تلاش کرنے کے لیے مقامی برادریوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
کُرہِ ارض پر دور دراز ماحولیاتی نظاموں کے سفر کے دوران ایسپینوسا نے ایمازون کے مشہور ابلتے ہوئے دریا میں نئے بیکٹیریا کی دریافت کی اور پیرو میں بغیر ڈنک کے شہد کی مکھیوں اور ادویاتی شہد کے پہلے کیمیائی تجزیے کی قیادت کی۔
وہ جنوبی امریکہ کے سب سے بڑے مقامی گروہوں میں سے ایک آشانینکا لوگوں کی بین الاقوامی سفیر بھی ہیں۔

رکتا اختر بانو, بنگلہ دیش
شمالی بنگلہ دیش کے دور افتادہ علاقے میں جہاں نرس رکتا اختر بانو رہتی ہیں، آٹزم کا شکار یا معذور بچے کی پیدائش کو ایک لعنت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
جب ان کی اپنی بیٹی جو آٹسٹک ہے اور دماغی فالج کا شکار ہے اسے مقامی پرائمری سکول میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا تو انھوں نے اپنی زمین بیچ دی اور خود اپنا سکول بنایا۔
رکتا اختر بانو لرننگ ڈس ایبلٹی سکول میں اب 300 طلبہ ہیں اور انھوں نے معذوری کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو مثبت انداز میں بدلا ہے۔
اگرچہ یہ سکول ابتدائی طور پر ان بچوں کے لیے بنایا گیا تھا جو آٹزم کا شکار ہیں یا سیکھنے کی معذوری رکھتے ہیں لیکن اب یہاں مختلف قسم کی ذہنی اور جسمانی معذوریوں کا شکار طلبہ ہیں۔

برجیٹ بٹیسٹ, کولمبیا
ماہر ماحولیات
ایک ٹرانس وومن بائیولوجسٹ کی حیثیت سے برجیٹ بٹیسٹ حیاتیاتی تنوع اور صنفی شناخت کے مابین مشترکہ پیٹرن کی کھوج کرتی ہہیں۔
وہ ماحولیاتی نظام کی بہتر حفاظت کے لیے ’فطرت‘ کے تصور کو وسعت دینے کے لیے لینڈ سکیپ اور انواع کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک منفرد نظریہ پیش کرتی ہیں۔ اپنی 2018 کی ٹی ای ڈی ایکس گفتگو میں انھوں نے کولمبیا کے قومی درخت کوئنڈیو ویکس پام کو ایک ایسے جاندار کی مثال کے طور پر استعمال کیا جو اپنی زندگی میں اپنی جنس کو نر سے عورت میں تبدیل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔
مشہور ماہر تعلیم بٹیسٹ نے الیگزینڈر وان ہمبولٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے 10 سال گزارے اور اس وقت بوگوٹا میں یونیورسیڈ ای اے این کی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں، جو پائیدار انٹرپرینیورشپ پر توجہ مرکوز کرنے والا ایک اعلی تعلیمی ادارہ ہے۔
انھوں نے زیادہ سے زیادہ ایل جی ٹی بی کیو لوگوں کو اعلیٰ تعلیم میں لانے کے لیے بہتر فنڈنگ کے لیے بھی مہم چلائی ہے۔

اولگا روڈنیوا, یوکرین
سپر ہیومن سنٹر کی بانی
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد اولگا روڈنیوا نے محسوس کیا کہ انھیں اس تنازع میں زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔
جن لوگوں نے میدان جنگ میں اپنے اعضا کھو دیے تھے انھیں بہت سے لوگ متاثرین کے طور پر دیکھتے تھے لیکن روڈنیوا کے لیے وہ ’سپر ہیومن‘ تھے جو ہر طرح کی مدد کے مستحق تھے۔
انھوں نے لویو میں سپر ہیومنز ٹراما سینٹر قائم کیا جسے وہ ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ بحثیت سی ای او چلاتی ہیں۔ یہ مرکز مریضوں کو مصنوعی اعضا فراہم کرتا ہے اور اس نے حال ہی میں ایک بحالی مرکز شروع کیا ہے۔
ان کے کام شروع کرنے کے پہلے دو سالوں کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد ان کی خدمات سے مستفید ہوئے ہیں۔
مزاحمت یہ ہے کہ ہر روز آپ سائرن کی آواز کے ساتھ جاگیں اور اپنے ملک کے لیے لڑتے رہیں۔ یہ ’میں ہی کیوں ؟ پر پھنسنے کے بجائے ’کس لیے‘ تک کی دوبارہ دریافت ہے؟ یہ زیادہ سے زیادہ کوشش کرنے کے طریقے تلاش کرنے اور ہر روز کم ملنے کا نام ہے۔
اولگا روڈنیوا

سنیہا ریونور, امریکہ
مصنوعی ذہانت کی ماہر
صرف 20 سال کی عمر میں سنیہا ریونور بہت آگے نکل چکی ہے۔ وہ محفوظ، مساوی مصنوعی ذہانتکے لیے نوجوانوں کی ایک عالمی تحریک انکوڈ جسٹس کی بانی ہیں جس کے 30 ممالک میں 1،300 سے زیادہ ارکان ہیں۔
ریونور اپنے کام سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے اور نوجوانوں کو تنقیدی گفتگو میں شامل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور سینٹر فار اے آئی اینڈ ڈیجیٹل پالیسی میں سمر فیلو ہیں۔
وہ حال ہی میں ٹائم میگزین کی مصنوعی ذہانت میں 100 سب سے زیادہ بااثر آوازوں کی پہلی فہرست میں سب سے کم عمر فرد بن گئیں۔
ہمارے پاس مصنوعی ذہانت کے خطرات سے آگے بڑھنے کا موقع ہے اس سے پہلے کہ وہ اس کی انقلابی صلاحیت کو گہنا کریں۔ میرے لیے مزاحمت یہ ہے: مستقبل کا دوبارہ تصور کرنے کے لیے ماضی سے اوپر اٹھنا۔
سنیہا ریونور

سامعہ, شام
سائیکولوجی کاؤنسلر
ماہر نفسیات سامعہ (ان کی سکیورٹی کے پیش نظر بی بی سی ان کی اصل شناخت ظاہر نہیں کر رہا) برسوں سے جاری تنازعات کی وجہ سے صدمات میں گھرے شامی افراد کی مدد کر رہی ہیں۔
شام میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کے باعث لاکھوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ زندہ بچ جانے والے بہت سے لوگ اکثر سنگین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس دوران وہ ڈپریشن اور اضطراب جیسے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔
سامعہ ایک بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے زیر انتظام دماغی صحت کے کلینک میں کام کرتی ہیں اور شمال مشرقی شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں بے گھر افراد کی کاؤنسلنگ کے سیشن کرتی ہیں۔
محدود وسائل کے باوجود وہ لوگوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور بحران کے باوجود اس حوالے سے آگاہی پھیلانے میں کوشاں ہیں۔

سلوانا سانتوس, برازیل
حیاتیات دان
معروف ماہر حیاتیات سلوانا سانتوس جینیات کے شعبے میں اپنی شاندار دریافت کو مکمل طور پر اتفاق سے قرار دیتی ہیں۔ وہ اسی سڑک پر ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا خاندان سے ملی تھیں جہاں وہ رہتی تھیں۔
انھوں نے ایس پی او اے این سنڈروم (سپاسٹک پیراپلیجیا، آپٹک اٹروفی، اور نیوروپیتھی) کی نشاندہی کی، جو ایک نایاب جینیاتی نیوروڈیجینریٹو ڈس آرڈر ہے جو شمال مشرقی برازیل میں وقت کے ساتھ بڑھنے الے فالج کا سبب بنتا ہے۔
سرینا ڈوس پنٹوس نامی قصبے میں اپنی تحقیق شروع کرنے کے بعد 20 سالوں میں سانتوس نے اس حالت سے متاثرہ افراد کو تشخیص کرنے میں مدد دی۔
وہ نایاب جینیاتی بیماریوں کے وقوع پذیر ہونے اور دیہی برازیل کے غریب علاقوں میں قریبیرشتے داروں کے درمیان شادیوں کے ساتھ ان کے تعلقات کا مطالعہ کرتی ہیں۔
ہم مزاحمت کی طاقت کا مظاہرہ کیسے کرتے ہیں؟ یہ محسوس کرنا کہ زندگی ایک چکر ہے۔ خشک سالی میں ہم صرف زندہ رہتے ہیں۔ برسات کے موسم میں ہم پھلتے پھولتے ہیں اور پھل اگاتے ہیں۔
سلوانا سانتوس

شیریں عابد, فلسطینی علاقے
ماہر اطفال
غزہ میں ہونے والی شدید بمباری اور وسائل کی بے حد کمی بھی شیریں عابد کو نومولود بچوں کی دیکھ بھال سے نہ روک سکی۔
2023 میں اسرائیل اورغزہ جنگ کے آغاز کے بعد (بمباری میں) ان کا فلیٹ تباہ ہو گیا اور وہ بے گھر ہو گئیں۔ تاہم شیریں عابد نے قریبی پناہ گزین کیمپوں میں بچوں کی دیکھ بھال جاری رکھی۔
غزہ کے بڑے ہسپتالوں میں نوزائیدہ بچوں کے یونٹس میں برسوں کے تجربے کے ساتھ حال ہی میں شیریں عابد نے الشفا میڈیکل کمپلیکس میں میٹرنٹی سینٹر کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے ایمرجنسی پروٹوکول قائم کیے تاکہ ڈاکٹرز انتہائی محدود وسائل کے ساتھ زندگی بچانے والے علاج فراہم کر سکیں۔ انھوں نے دوسرے ڈاکٹروں کو تربیت دینے کا مشن بھی جاری رکھا۔
اس سال کے شروع میں شیریں عابد کو حالات کی پیش نظر اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ غزہ چھوڑنا پڑا تاہم وہ دور رہ کر بھی ڈاکٹروں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صفا علی محمد یوسف, سوڈان
زچگی کی ماہر
گذشتہ سال جب سوڈان میں ان کے ہسپتال کے قریب شدید لڑائی شروع ہوئی تو ڈاکٹر صفا علی محمد یوسف نے مسلسل گولہ باری کے باوجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔
فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے درمیان انھوں نے رضاکار عملے اور حاملہ خواتین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مدد کی۔
اس وقت وہ السعودی میٹرنٹی ہاسپٹل میں سیزیرین سیکشن کرتی ہیں اور جاری تنازعات کی وجہ سے خواتین کی صحت کو درپیش کے مسائل کا علاج کرتی ہیں۔
وہ طبی عملے کی کمی کو دور کرنے میں مدد دینے کے لیے تقریبا 20 نئی گریجویٹ خواتین ڈاکٹروں کو زچگی کی تربیت بھی دے رہی ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ خواتین کی مزاحمت سے ہی وہ شفا، انصاف اور مستقبل ملے گا جہاں ہمیں خوف میں نہیں رہنا پڑے گا۔ یہ ان کی طاقت ہے جو مجھے یاد دلاتی ہے کہ امید اب بھی موجود ہے، یہاں تک کہ تاریک ترین لمحات میں بھی۔
صفا علی محمد یوسف

جارجینا لانگ, آسٹریلیا
میڈیکل آنکولوجسٹ
ٹارگٹڈ تھیراپیز اور امیونو آنکولوجی کے ذریعے جارجینا لانگ ایک ایسی دنیا دیکھنا چاہتی ہیں جو کینسر سے ہونے والی اموات سے پاک ہو۔
میلانوما انسٹی ٹیوٹ آسٹریلیا کی شریک ڈائریکٹر کی حیثیت سے جارجینا لانگ نے 2024 میں اس وقت شہرت حاصل کی جب انھوں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے اور دوست رچرڈ اسکولر کے دماغ کے کینسر کے لیے دنیا کا ایسا پہلا علاج تیار کیا جس سے انھیں جارحانہ قسم کے کینسر سے نجات مل گئی۔
لانگ اور ان کی ٹیم نے جس میں خود مریض بھی شامل تھے دریافت کیا کہ امیونوتھراپی اس وقت بہتر کام کرتی ہے جب سرجری سے پہلے ٹیومر کو ہٹانے کے لیے ادویات کے امتزاج کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا جدید ترین کام میلانوما پر کئی سالوں کی تحقیق سے اخذ کیا گیا ہے جس کے سر جِلد کے کینسر کی تشخیص کے ساتھ ہزاروں مریضوں کی زندگیاں بچانے کا سہرا بھی ہے۔
مستقبل کے رہنماؤں کو ہمدردی اور مشترکہ انسانیت کی حمایت کرنی چاہیے، لوگوں کو فرسودہ نظاموں کو چیلنج کرنے اور مسائل کے جدید حل تلاش کرنے کے لیے بااختیار بنانا چاہیے۔
جارجینا لانگ

ساشا لوکیونی, کینیڈا
کمپیوٹر سائنٹیسٹ
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو اپنانے والی دنیا میں صنعت کے کاربن فٹ پرنٹ کو اکثر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی معروف سائنسدان ساشا لوکیونی نے ایک ایسا ٹول بنانے میں مدد کی ہے تاکہ ڈویلپرز کوڈ چلاتے وقت اپنے کاربن اخراج کی پیمائش کرسکیں گے، جسے 13 لاکھ سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔
لوکیونی ایک عالمی سٹارٹ اپ ہگنگ فیس کے لیے ماحولیاتی تحفظ کی قیادت کر رہی ہیں جو اوپن سورس اے آئی ماڈلز کے ساتھ کام کرتا ہے اور ’اچھی مشین لرننگ کو جمہوری بنانا‘ چاہتا ہے۔
ان کی توجہ مصنوعی ذہانت کی پائیداری کو بہتر بنانے پر ہے اور وہ ایک ’انرجی سٹار ریٹنگ سسٹم‘ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جسے اے آئی سٹارٹ اپ ماحولیات پر اپنے اثرات کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

کاونا مالگوی, نائجیریا
کاونا ملگوی مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں کارکنوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ کاونا ایک ماہر نفسیات ہیں جو نائجیریا میں نہ صرف کانٹینٹ ماڈریٹرز یونین کی قیادت کرتی ہیں بلکہ اے آئی ٹیکنالوجی کے پس پردہ کام کرنے والوں کو ان کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرتی ہیں۔
کاؤنا کے مطابق جب وہ اس سے قبل فیس بک کی آؤٹ سورس کنٹینٹ ماڈریٹر کی ذمہ داری نبھاتی تھیں تو اس دوران ریپ، خودکشی، اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز کے باعث بے خوابی کا سامنا کیا اور خود کو سہما ہوا محسوس کیا
وہ فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا اور کینیا میں کمپنی کے ذیلی کنٹریکٹرز پر غیر قانونی طور پر برطرفی کے لیے مقدمہ دائر کرنے والے کے خلاف 184 سابق ناظمین میں سے ایک ہیں۔ کمپنی نے یہ فیصلہ اس وقت کیا تھا جب کام کے خراب حالات کے بارے میں بات کی گئی تھی۔
انھوں نے یورپی پارلیمنٹ میں کانٹینٹ ماڈریٹر کے حقوق کی حمایت میں بھی آواز اٹھائی ہے۔
خواتین تکنیکی ترقی اور ذہنی صحت دونوں کو اہمیت دینے والا ایک مکمل نقطہ نظر پیش کر کے ہماری بکھری ہوئی دنیا کی حقیقتوں کو تبدیل اور چیلنج کر سکتی ہیں۔
کاونا مالگوی

سنیتا ولیمز, امریکہ
خلا باز
جب ناسا کی خلا باز سنیتا ولیمز 5 جون کو بوئنگ سٹار لائنر خلائی جہاز پر سوار ہوئیں تو وہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے آٹھ روزہ مشن پر روانہ ہونے والی تھیں۔
لیکن جہاز میں متعدد تکنیکی خرابیوں کے بعد سنیتا ولیمز اور ان کے ساتھی بیری ولمور کو مطلع کیا گیا تھا کہ وہ فروری 2025 تک زمین پر واپس نہیں آسکیں گے۔
نیوی کی ریٹائرڈ ہیلی کاپٹر پائلٹ اور خلا میں سب سے زیادہ چہل قدمی کا ریکارڈ رکھنے والی خاتون سنیتا ولیمز 2007 میں خلا میں میراتھن دوڑنے والی پہلی خاتون بیں۔
زمین سے 400 کلومیٹر کی بلندی پر دوستوں اور اہل خانہ سے دور ہونے کے باوجود انھوں نے خلائی جہاز کو اپنی خوش رہنے کی جگہ قرار دیتے ہوئے یہاں اپنے قیام کو مزاحمت اور پرجوش رویّے کے ساتھ قبول کیا ہے۔

اڈینیکی ٹیٹلوپ اولاڈوسو, نائجیریا
ماحولیاتی انصاف کی وکیل
نائجیریا کی ایکوفیمنسٹ اڈینیکی ٹیٹلوپ اولاڈوسو’ آئی لیڈ کلائمیٹ ایکشن ‘کی بانی ہیں، جو آب و ہوا کی تبدیلی سے لڑنے کے لیے خواتین اور نوجوانوں کی ایک نچلی سطح کی تنظیم ہے۔
انھوں نے نائجیریا، نائجر، چاڈ اور کیمرون کے سنگم پر واقع جھیل چاڈ کو متاثر کرنے والے ماحولیاتی بحران کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کام کیا ہے جہاں آبی وسائل کے سکڑنے سے تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اولاڈوسو ماحولیاتی اور سماجی دونوں مسائل کو حل کرتی ہیں خاص طور پر ایسے جو افریقی خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ خواتین کو ان علاقوں میں پائیدار کاشتکاری کی مہارت سکھاتی ہیں جہاں صحرا میں بدلتی زمینیں براہ راست غذائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
سنہ 2019 کے بعد سے موسمیاتی تبدیلی سےمتعلق اقوام متحدہ کی متعدد کانفرنسوں میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ افریقہ میں موحولیاتی مزاحمت کو ترجیح دیں۔
آب و ہوا کا بحران ایک مزاحمت کا مسئلہ ہےجس میں ہمارے پاس جیتنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ اس بحران سے بچنے کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی اور ایجادات میں اہم سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
اڈینیکی ٹیٹلوپ اولاڈوسو

ناؤمی چنڈا, زیمبیا
کسان اور ٹرینر
ایک تدریسی فارم میں زرعی گائیڈ کے طور پر ناؤمی چنڈا اپنی برادری کو ایسے طریقے سکھانے کے مشن پر ہیں جن سے زمین کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے۔
وہ ’ماحولیات سے متعلق سمارٹ‘ مہارتوں کو اجاگر کرتی ہیں جیسے ڈرپ آبپاشی جس میں کم پانی استعمال ہوتا ہے، یا مختصر مدت میں تیار ہونے والی فصلیں ، وہ ماحولیاتی تبدیلی کے حل میں خواتین کو مرکزی حیثیت دیتی ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والی این جی او کیمفیڈ کے ساتھ، چنڈا تقریباً 150 نوجوان خواتین کو یہ سکھانے میں مدد کرتی ہیں کہ کس طرح کھیتی کی تکنیک کو اپنایا جائے اور انھیں زیمبیا کے شمال مشرق میں ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے کس طرح لچکدار بنایا جائے، جہاں طویل خشک سالی اور ڈرامائی موسمی تبدیلیوں نے چھوٹے کاشتکاروں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔

کیٹلین کریکو, ہنگری
نوبل انعام یافتہ حیاتیات دان
ہنگری کی بائیو کیمسٹ کیٹلین کریکو کی ترمیم شدہ میسنجر آر این اے پر مشہور تحقیق کو بائیو این ٹیک / فائزر اور موڈرنا نے کووڈ 19 ویکسین بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔
اس کی وجہ سے انھیں اور ان کے ساتھی ڈریو ویسمین کو مشترکہ طور پر نوبل انعام دیا گیا۔ یہ انعام انھیں جدید دور میں انسانی صحت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک کے دوران ان کی کوششوں کے صلے میں دیا گیا۔
ایم آر این اے، ہمارے ڈی این اے کو پروٹین میں ٹرانسلیٹ کرنے کا ذمہ دار مواد ہے، یہ انتہائی نازک ہوتا ہے جس پر کام کرنا مشکل ہے لیکن کریکو کو یقین تھا کہ یہ طب میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی وبائی مرض سے پہلے تجرباتی تھی لیکن اب دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو کووڈ 19 سے بچانے کے لیے دی گئی ہے۔
ہمیشہ اس بات پر توجہ مرکوز رکھیں کہ آپ کیا کرسکتے ہیں نا کہ یہ سوچیں کہ دوسروں کو کیا کرنا چاہیے اور ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کام کریں۔ اگر آپ ناکام ہو جاتے ہیں، تو اس سے سیکھیں۔ اٹھیں اور اسی جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھیں۔
کیٹلین کریکو

گیبریلا سالاس کیبریرا, میکسیکو
پروگرامر اور ڈیٹا سائنٹیسٹ
گیبریلا سالاس کیبریرا کی مادری زبان ناہواتل گوگل کے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے ترجمہ پلیٹ فارم پر دستیاب نہیں تھی اس لیے انھیں خود اس معاملے میں شامل ہونا پڑا۔
انجینیئر نے اس اور میکسیکو کی دیگر مقامی زبانوں کو گوگل ٹرانسلیٹ میں ضم کرنے کے لیے لسانیات کے منصوبوں پر ٹیکنالوجیفرم گول کے ساتھ مل کر کام کیا۔ ناہواتل مترجم اس سال کے اوائل سے عوام کے لیے دستیاب ہے۔
سالاس اپنے کام کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی طاقت کو استعمال کر کے کم نمائندگی والی زبانوں کی ترویج اور تکنیکی صنعت میں مقامی خواتین کی موجودگی کو فروغ دے رہی ہیں۔
وہ آبجیکٹ پر مبنی پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت میں مہارت رکھتی ہیں اور میڈرڈ، سپین میں ڈیٹا سائنس کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
عورت کی مزاحمت وہ شعلہ ہے جو کبھی نہیں مرتا، درد کو مقصد میں بدل دیتا ہے اور پیروی کرنے والوں کے لیے راہوں کو روشن کرتا ہے۔
گیبریلا سالاس کیبریرا
100 خواتین کیا ہے؟
بی بی سی 100 خواتین ہر سال دنیا بھر کی 100 بااثر اور متاثر کن خواتین کو نامزد کرتی ہے۔ ہم دستاویزی فلمیں، فیچرز، نیوز مضامین اور انٹرویوز تیار کرتے ہیں۔ ایسی کہانیاں جن کا مرکز خواتین ہوتی ہیں اور بی بی سی کے تمام پلیٹ فارمز پر شائع اور نشر کی جاتی ہیں۔
انسٹاگرام اور فیس بک پر بی بی سی 100 خواتین کو فالو کریں۔ #BBC100Women کا استعمال کرتے ہوئے گفتگو میں شامل ہوں۔
بی بی سی 100 خواتین کیسے چُنی جاتی ہیں؟
بی بی سی 100 خواتین کی ٹیم نے بی بی سی کی 41 ورلڈ سروس لینگویجز ٹیموں کے نیٹ ورک اور بی بی سی میڈیا ایکشن کی جانب سے جمع کیے گئے ناموں کی بنیاد پر ایک فہرست تیار کی۔
ہم ایسے امیدواروں کی تلاش میں تھے جنھوں نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہو یا اہم کہانیوں کو متاثر کیا ہو، اور ساتھ ہی وہ لوگ بھی جن کے پاس بتانے کے لیے متاثر کن کہانیاں ہیں یا انھوں نے کچھ اہم حاصل کیا ہے اور اپنے معاشروں کو متاثر تو کیا لیکن خبروں میں نہیں آئیں۔
اس سال مزاحمت کے موضوع پر ناموں کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔ ہم اس بات کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں کہ اس سال دنیا بھر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان خواتین کا انتخاب کیا گیا ہے جو اپنی مزاحمت کے ذریعے کمیونٹی یا عالمی سطح پر تبدیلی لانے اور زندگیوں کو بہتر بنانے پر زور دے رہی ہیں۔ ہم نے ماحولیاتی کی تبدیلی کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے ناموں کا بھی جائزہ لیا، جن میں سے ماحولیات کے بانیوں اور دیگر ماحولیاتی رہنماؤں کے ایک گروپ کا انتخاب کیا گیا تھا۔
ہم نے تمام سیاسی حلقوں اور معاشرے کے تمام شعبوں کی آوازوں کی نمائندگی کی ہے اور رائے کو تقسیم کرنے والے موضوعات کے جڑے ناموں کی تلاش کی ہے۔
حتمی ناموں کے انتخاب سے قبل علاقائی نمائندگی اور مناسب غیر جانبداری کے لیے بھی فہرست کی پیمائش کی گئی تھی۔ تمام خواتین نے فہرست میں شامل ہونے کے لیے اپنی رضامندی دے دی ہے۔

