چھرے کی بندوق سے کشمیری مظاہرین زخمی

چھرے کی بندوق سے کشمیری مظاہرین زخمی

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز اب بھارت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف غیر مہلک ہتھیاروں، جیسے چھرے والی بندوق استعمال کرتی ہے۔ لیکن ان بندوقوں سے اکثر مظاہرین اور عام لوگ بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ تصاویر: عابد بھٹ
،تصویر کا کیپشنبھارتی زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز اب بھارت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف غیر مہلک ہتھیاروں، جیسے چھرے والی بندوق استعمال کرتی ہے۔ لیکن ان بندوقوں سے اکثر مظاہرین اور عام لوگ بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ تصاویر: عابد بھٹ
چھروں والی بندوق، جو ہائیڈرالک طاقت کے استعمال سے تیزی سے سینکڑوں چھرروں پمپ کرتی ہے جسم بھر میں بڑے پیمانے پر چوٹوں کا سبب بن سکتی ہے.
،تصویر کا کیپشنچھروں والی بندوق، جو ہائیڈرالک طاقت کے استعمال سے تیزی سے سینکڑوں چھرروں پمپ کرتی ہے جسم بھر میں بڑے پیمانے پر چوٹوں کا سبب بن سکتی ہے.
اس بندوق سے آنکھوں کو سنگین چوٹ بھی پہنچ سکتی ہے۔ یہ شخض، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کو سنہ 2011 میں سرینگر میں ایک واقع کے دوران انکی دائیں آنکھ میں چھرے کی گولی لگی۔
،تصویر کا کیپشناس بندوق سے آنکھوں کو سنگین چوٹ بھی پہنچ سکتی ہے۔ یہ شخض، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کو سنہ 2011 میں سرینگر میں ایک واقع کے دوران انکی دائیں آنکھ میں چھرے کی گولی لگی۔
چھروں کی گولیاں 2010 کے موسم گرما میں بھارت مخالف احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی تھیں۔ سرینگر کے معروف ہسپتال کے مطابق ان چار مہینوں کے دوران کم از کم چھ افراد ہلاک اور 198 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنچھروں کی گولیاں 2010 کے موسم گرما میں بھارت مخالف احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کی گئی تھیں۔ سرینگر کے معروف ہسپتال کے مطابق ان چار مہینوں کے دوران کم از کم چھ افراد ہلاک اور 198 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
 ان کے مطابق مزید پانچ افراد نے آنکھوں کی روشنی کھودی۔ ان میں ایک چھ سالہ لڑکا اور 54 سالہ آدمی شامل تھے۔
،تصویر کا کیپشن ان کے مطابق مزید پانچ افراد نے آنکھوں کی روشنی کھودی۔ ان میں ایک چھ سالہ لڑکا اور 54 سالہ آدمی شامل تھے۔
اکیس سالہ امیر کبیر بیگ کے سر کے ایکس رے بتاتی ہے کہ ان کی کھوپڑی میں سینکڑوں چھررے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناکیس سالہ امیر کبیر بیگ کے سر کے ایکس رے بتاتی ہے کہ ان کی کھوپڑی میں سینکڑوں چھررے ہیں۔
امیر کبیر ستمبر 2010 میں شمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبے میں ایک واقعہ کے دوران زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گھر واپس جا رہے تھے جب ان پر چھرروں کا حملہ ہوا۔ وہ اپنی دونوں آنکھوں کی نظر کھو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنامیر کبیر ستمبر 2010 میں شمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبے میں ایک واقعہ کے دوران زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گھر واپس جا رہے تھے جب ان پر چھرروں کا حملہ ہوا۔ وہ اپنی دونوں آنکھوں کی نظر کھو چکے ہیں۔
سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے گروپوں اور کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کی جانب سے مخالفت کے باوجود پولیس اور نیم فوجی دستے چھروں والی بندوق کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے گروپوں اور کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کی جانب سے مخالفت کے باوجود پولیس اور نیم فوجی دستے چھروں والی بندوق کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
انیس سالہ فیضان اشرف تانترے بارہمولہ قصبے میں اپنے گھر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فروری 2011 میں جب وہ اپنے دوست سے بات کر رہے تھے تو ان پر چھروں کا حملہ ہوا۔ اس سے ان کی بائیں آنکھ میں 70 فیصد وژن کم ہو گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنانیس سالہ فیضان اشرف تانترے بارہمولہ قصبے میں اپنے گھر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فروری 2011 میں جب وہ اپنے دوست سے بات کر رہے تھے تو ان پر چھروں کا حملہ ہوا۔ اس سے ان کی بائیں آنکھ میں 70 فیصد وژن کم ہو گئی ہے۔
سری نگر میں رہنے والے مشتاق احمد نجر کہتے ہیں کہ وہ سبزیاں خریدنے کے لیے مارکیٹ گئے تھے جہاں ایک معمولی احتجاج جاری تھا۔ فوجیوں کی فائرنگ کرنے کے تحت ان کی دائیں آنکھ زخمی ہوئی اور اب وہ اس آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔
،تصویر کا کیپشنسری نگر میں رہنے والے مشتاق احمد نجر کہتے ہیں کہ وہ سبزیاں خریدنے کے لیے مارکیٹ گئے تھے جہاں ایک معمولی احتجاج جاری تھا۔ فوجیوں کی فائرنگ کرنے کے تحت ان کی دائیں آنکھ زخمی ہوئی اور اب وہ اس آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔
انیس سالہ طارق احمد گوجری کہتے ہیں کہ گزشتہ سال وہ اپنے ہمسائے کے گھر دودھ لینے جا رہے تھے جب راستے میں ایک احتجاج میں پھنس گئے۔ چھرے کی گولی سے ان کی دائیں آنکھ کی روشنی چلی گئی۔
،تصویر کا کیپشنانیس سالہ طارق احمد گوجری کہتے ہیں کہ گزشتہ سال وہ اپنے ہمسائے کے گھر دودھ لینے جا رہے تھے جب راستے میں ایک احتجاج میں پھنس گئے۔ چھرے کی گولی سے ان کی دائیں آنکھ کی روشنی چلی گئی۔