انڈیا کا اگنی 5 میزائل: یورپ و افریقہ تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ خطے پر کیا اثرات ڈالے گا؟

میزائل

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

انڈیا نے بدھ کی شام کو مشرقی ریاست اوڈیشہ کے جزیرہ اے پی جے عبدالکلام سے جوہری صلاحیت کے حامل 5000 کلومیٹر کی رینج والے بیلسٹک اگنی 5 میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

انڈین میڈیا کی اطلاعات کے مطابق یہ ٹیسٹ ’نائٹ آپریشنل موڈ‘ میں کیا گیا جس میں میزائل کی پرواز کی رفتار اور سمت ’بہترین‘ تھی اور اس نے اپنے ہدف کو صرف 15 منٹ میں نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔

پانچ ہزار کلومیٹر کی رینج والا یہ میزائل کسی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے کافی قریب ہے جس کی کم از کم رینج 5500 کلومیٹر ہونی چاہیے، اور اس ٹیسٹ کا مطلب ہے کہ یہ اب استعمال میں لانے کے لیے تیار ہے۔

چین کے ساتھ انڈیا کے موجودہ تعلقات کو نظر میں رکھتے ہوئے ماہرین اسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اگنی 5 میزائل کیا ہے؟

وزارت دفاع کی ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ زمینی سطح پر طویل فاصلے تک حملے کرنے والا ایک بیلسٹک میزائل ہے جو کہ 5000 کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو درست طریقے سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس کی مارک کرنے کی حدود میں تقریباً پورا چین اور افریقہ و یورپ کے کچھ حصے بھی آتے ہیں۔

جوہری صلاحیت رکھنے والا 50 ہزار کلو وزنی یہ میزائل تقریباً 1500 کلوگرام اسلحہ لے جا سکتا ہے جس کی وجہ سے یہ ملک کے طاقتور ترین میزائلوں میں سے ایک ہے۔

میزائل

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ میزائل ’کینسٹرائزڈ‘ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے سڑک اور ریل دونوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے جو اس کی فوری تنصیب اور بلاتاخیر لانچ میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

کینسٹرائزیشن میزائل کو ہر موسم اور حالات میں محفوظ رکھنے اور اسے لانچ کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اگنی 5 کا ابتدائی تجربہ 2012 میں کیا گیا تھا۔ ابھی تک اس میزائل کے تقریباً نصف درجن ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں لیکن حالیہ ٹیسٹ کافی اہم ہے کیونکہ اس کا لانچ ’سٹریٹجک فورس کمانڈ‘ نامی اس سرکاری محکمے نے بغیر کسی بیرونی مدد کے کیا ہے جو کہ انڈیا میں جوہری ہتھیاروں کے لیے ذمہ دار ہے۔

انڈیا نے اگنی سیریز کے میزائلوں کا تجربہ 1989 میں اگنی 1 کے ٹیسٹ سے شروع کیا تھا جو کہ ایک ’انٹرمیڈئیٹ‘ یعنی درمیانی رینج کا بیلسٹک میزائل تھا اور جس کی حد تقریباً 1,000 کلومیٹر تھی۔

اس وقت صرف امریکہ، سابق سوویت یونین، چین اور فرانس جیسے ممالک کے پاس انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل موجود تھے۔

تاحال انڈیا کی دفاعی افواج کے پاس 700 کلومیٹر کی حد والا اگنی-1، 2000 کلومیٹر کی حد والا اگنی-2، 2500 کلومیٹر کی حد والا اگنی-3 اور 3500 کلومیٹر کی حد والا اگنی-4 ہے۔

لمبی دوری تک کی جوہری صلاحیت کی وجہ سے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اگنی-5 کا متوقع ہدف چین ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان جیسے قریبی اہداف کے لیے پرانے اگنی میزائل کافی ہیں۔

اس سے انڈیا اور خطے پر کیا اثر مرتب ہوں گے؟

انڈیا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’اگنی 5 کا کامیاب تجربہ انڈیا کی پالیسی کے مطابق ہے جس کے تحت ’کریڈیبل مینیمم ڈیٹرینس‘ یعنی قابل اعتبار مگر کم سے کم دفاعی صلاحیت کا اہتمام ہے جو ’پہلے استعمال نہ کرنے‘ کے ہمارے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘

چین نے اس موضوع پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے لیکن ستمبر 2021 میں اگنی-5 لانچ کرنے کے انڈیا کے منصوبے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا تھا کہ ’جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنا سبھی کے مشترکہ مفاد میں ہے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ تمام فریق اس کے لیے مثبت کوششیں کریں گے۔‘

میزائل

،تصویر کا ذریعہJUNG YEON-JE

اس میزائل لانچ کا انڈیا میں عام طور پر مثبت ردعمل نظر آیا ہے لیکن چند ماہرین اسے محتاط نظر سے دیکھتے ہیں۔ عسکری اُمور کے ماہر اور ’ڈورسٹیپ: مینیجنگ چائنا تھرو ملٹری پاور‘ کے مصنف پروین ساہنی کہتے ہیں کہ یہ میزائل لانچ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اب اسے سروس میں لایا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چونکہ اس کا بنیادی مقصد چین کے خلاف ’مدافعت‘ فراہم کرنا تھا، کیا اس مقصد میں کامیابی ملی؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوا۔ کیونکہ ہم نے دیکھا کہ مئی 2020 میں چینی فوج آئی اور انڈیا کی سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ وہ بالکل ’ڈیٹر‘ نہیں ہوئے یعنی باز نہیں آئے۔‘

یہ میزائل انڈیا کو ’سیکنڈ سٹرائیک‘ یعنی جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے۔ لیکن ساہنی کہتے ہیں کہ ’ڈیٹیرینس نے کام نہیں کیا ہے۔ جہاں تک سیکنڈ سٹرائیک کی صلاحیت کا تعلق ہے، یہ بھی ایک سادہ سی وجہ سے کام نہیں کرے گا کہ چینیوں کے پاس جوہری میدان میں کافی زیادہ صلاحیتیں ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بات کہ اسے اب سروس میں شامل کیا جائے گا ہمیں خوشی فراہم کرتی ہے، لیکن میری سمجھ میں انڈیا کو بشمول ’ڈیلیوری سسٹم‘ کے اپنی پوری جوہری پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘