ہانگ کانگ جوخائے پل: سمندر پر بنایا جانے والا دنیا کا طویل ترین پل

ہانگ کانگ کو مکاؤ ہوتے ہوئے چین کی سرزمین (مین لینڈ) سے جوڑنے والے 55 کلومیٹر طویل پل کا کئی سال کی تاخیر کے بعد حال ہی میں افتتاح ہوا ہے۔

ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل پرل ریور یعنی نہرالولو کے ڈیلٹا پر تعمیر ہونے والا دنیا کا طویل ترین پل ہے۔ اس کی لمبائی 55 کلو میٹر سے زیادہ ہے جو اپنے آپ میں بےمثال انجینیئرنگ کا نمونہ ہے۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک سرے سے دوسرے سرے تک بشمول دو لنک سڑکوں کے اس پل کی لمبائی سین فرانسسکو کے گولڈن گیٹ برج کی تقریبا 20 گنا ہے۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس کا ڈیزائن زلزلوں، علاقے کو تہ و بالا کر دینے والے موسمی سمندری طوفانوں اور حادثاتی طور پر جہازوں کی ٹکر کو برداشت کرنے کی صلاحت کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔
ساحل سے ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل کا منظر جو سمندری سرنگ نظر آتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجہازوں کو سمندر کے مدوجزر سے گزرنے کے لیے یہ پل دو مصنوعی جزائر سے ہوتے ہوئے 7۔6 کلو میٹر تک زیر آب ہے۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ پل ہانگ کانگ کے بین الاقومی ایئرپورٹ سے بھی گزرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انجینیئروں کے پیش نظر پل کی بلندی کی بھی حد رہی ہوگی۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس پل کی تعمیر کا کام سنہ 2009 میں شروع ہوا تھا اور یہ حفاظتی خدشات کے پیش نظر تاخیر کا شکار رہا۔ اس کی تعمیر میں بجٹ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی اور بالآخر اس میں 20 ارب ڈالر کا خرچ آیا۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل پر ٹول بوتھ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس کے افتتاح کی تاریخ پہلے سنہ 2016 طے کی گئی تھی لیکن رواں ماہ بھی اس کے افتتاح کی تارخ اس وقت تک طے نہیں تھی جب تک کہ اس کا واقعی افتتاح نہ ہوا۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپل پر نہ صرف بجٹ سے زیادہ خرچ آیا اور زیادہ وقت لگا بلکہ اس میں مزدوروں کی جانیں بھی گئیں۔ اس پورے پروجیکٹ کے درمیان چین اور ہانگ کانگ کے حکام کے مطابق نو مزدوروں کی جانیں گئيں۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس پل کے ذریعے چین کے تین مختلف حصے مکاؤ اور ہانگ کانگ کے دو مخصوص انتظامی علاقے چین کے مین لینڈ سے جڑ گئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پل مختلف قانونی اور سیاسی حصے پر محیط ہے۔
ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس پل سے کمرشیئل اور مسافر بردار بسیں اور ٹرکس گزریں گے۔ مقامی ٹیکسیوں کو اس پل سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ بہت ہی کم نجی کاروں کو اس پر سے گزرنے کا پرمٹ حاصل ہوگا۔
ہانگ کانگ کا خالی امیگریشن ہال

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ سے چین کے مین لینڈ جانے کے لیے پاس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پل کا استعمال کرنے والوں کے لیے دو امیگریشن مراکز بھی بنائے گئے ہیں۔
ہانگ کانگ مکاؤ ایکسپریس وے کی سرنگ میں داخل ہونے کا راستہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ پل کیوں تعمیر کیا گيا ہے؟ وقت بچانے کے لیے کیونکہ سمندر کے اس مثلث نما دہانے کو عبور کرنے کے لیے چار گھنٹے لگتے تھے جبکہ اس پل کی مدد سے اب صرف 30 منٹ میں یہ فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے۔
رات میں ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل کا منظر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلیکن بعض لوگوں نے ہانگ کانگ میں اس پل کے مقاصد پر سوال اٹھایا ہے کہ اس پل کی کسی کو ضرورت نہیں تھی لیکن ہانگ کانگ کو چین کے مین لینڈ سے قریب تر لانے کے لیے اس پل کی تعمیر کی گئی ہے۔