وزرائے خارجہ سطح پر ملاقات کی منسوخی،’انڈیا کا بیان مہذب دنیا اور سفارتی روابط کے منافی‘

مذاکرات

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہم بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں: شاہ محمود قریشی

پاکستان نے انڈیا کے ساتھ وزرائے خارجہ سطح پر ہونے والی مجوزہ ملاقات کو انڈیا کی جانب سے منسوخ کرنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انڈیا کا بیان مہذب دنیا اور سفارتی روابط کے منافی ہے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں مجوزہ ملاقات کی منظوری کے اعلان کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ انڈین وزارت خارجہ کی جانب ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ’ملاقات کے اعلان کے بعد رونما ہونے والے بعض واقعات سے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کا اصلی چہرہ سامنے آگیا اور اب نیو یارک میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی، کیونکہ اس ملاقات کا کوئی مطلب باقی نہیں رہ جاتا۔‘

دلی نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’(اس اعلان کے بعد) ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان سے سرگرم عناصر نے بربریت کے ساتھ قتل کیا ہے اور پاکستان نے دہشت گردی اور دہشت گرد کے اعزاز میں 20 ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔۔۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہیں سدھرے گا۔‘

جمعے کی رات پاکستانی دفتر خارجہ نے اس پر تحریری بیان جاری کیا اور کہا کہ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ ہلاکت کا واقعہ ملاقات کے لیے انڈیا کی آمادگی سے دو دن پہلے کا ہے۔ اور پاکستان نے انڈین باڈر سکیورٹی حکام کو بتایا تھا کہ پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان اس کی مشترکہ تحقیقات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے ڈاک کے ٹکٹ 25 جولائی سے قبل جاری کیے گئے تھے اور عمران خان کی حکومت اس کے بعد آئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان ٹکٹس میں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے جس کے بارے میں رواں برس جون میں اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ بھی جاری کی تھی۔

واہگہ سرحد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ہمارے پاس شواہد موجود ہیں‘

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ (انڈیا) خود کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔‘

’ہمارے پاس بھی شواہد موجود ہیں کہ بلوچستان میں کچھ عناصر بدامنی پھیلا رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہم عوام کے لیے آگے بڑھنا اور بات کرنا چاہتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب یہ لگ رہا ہے کہ بات چیت کی اس تجویز کے پیچھے پاکستان کے ناپاک ارادے ہیں جو اب سامنے آگئے ہیں۔۔۔ نئے وزیراعظم کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے، وہ بھی ان کے دور اقتدار کے ابتدائی دور میں ہی۔`

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نجی ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امن ہونا چاہیے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انڈیا داخلی دباؤ کا شکار ہے اور اندرونی دباؤ کے نتیجے میں مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

انڈیا کا موقف یہ رہا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے۔

ملاقات کے اعلان کے بعد سے ہی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ حزب اختلاف کے رہنما اور ٹی وی چینل یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ باہمی رشتوں میں آخر کیا بدلا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کا دعوی کرنے والی بی جے پی کی حکومت اب اس ملاقات کے لیے تیار ہوگئی ہے۔

عمران خان اور نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہMEA/INDIA

،تصویر کا کیپشنعمران خان اور نریندر مودی (2015)

دوسری جانب وادی کشمیر کے شوپیاں میں جمعے کو ہی تین پولیس والوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ منگل کو جموں سیکٹر میں سرحد کےقریب بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک حوالدار کو ہلاک کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق ان کی لاش کو مسخ کیا گیا تھا۔ لیکن اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 14 ستمبر کو وزیراعظم مودی کو ایک خط لکھا جو دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے 17 ستمبر کو حکومت کے سپرد کیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیر خارجہ کا بھی ایک خط تھا جو وزیر خارجہ سشما سواراج کے نام تھا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندونوں وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے بعد ملاقات متوقع تھی

عمران خان نے اپنے خط میں تین اہم باتیں کہیں۔ پاکستان سارک سربراہی اجلاس کی بحالی چاہتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان جانے کا موقع ملے گا، پاکستان دہشتگردی کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے اور بات چیت کیسے شروع کی جائے اس بارے میں بات کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کو نیو یارک میں ملاقات کرنی چاہیے۔

اس سے پہلے وزیراعظم مودی نے بھی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کے بعد انھیں ایک خط لکھ کر ’تعمیری اینگیجمنٹ‘ کی پیش کش کی تھی۔ عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ بھی وزیراعظم مودی کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’تعمیری اینگیجمنٹ‘ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

جمعرات کو اور اس تعمیری اینگیجمنٹ کی پیش کش کے بعد بھی انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ یہ نہ بات چیت کے عمل کا آغاز ہے اور نہ جامع مذاکرات بحال کرنے کی پیش کش۔

اس ملاقات میں کسی ٹھوس پیش رفت کی توقع نہیں تھی لیکن ملنے کے فیصلے کو ہی ایک بڑی کامیابی مانا جارہا تھا۔