چین میں کم جونگ ان کی مصروفیات تصاویر میں

کئی روز کی افواہوں کے بعد اب باضابطہ طور پر تصدیق کر دی گئی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے چین کا دورہ کیا اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکئی روز کی افواہوں کے بعد اب باضابطہ طور پر تصدیق کر دی گئی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے چین کا دورہ کیا اور اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمقامی میڈیا پر یہ خبر چلی کہ سفارتی ٹرین پر ہائی پروفائل شخصیت بیجنگ پہنچی ہے جبکہ جاپانی میڈیا کا کہنا تھا کہ وہ شخصیت شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان ہیں۔
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناب کم جونگ کے اس دورے کی تصدیق چین اور شمالی کوریا دونوں نے کر دی ہے
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچینی خبر رساں ایجنسی شن ہوا کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایجنسی کے مطابق غیر سرکاری دورے کے دوران کم جونگ ان نے اپنے چینی ہم منصب کو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عزم پر قائم رہنے کی یقین دہانی کرائی
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکم جونگ ان نے کہا کہ’ جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اگر جنوبی کوریا اور امریکہ ہماری کوشش کا خیر سگالی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے امن اور استحکام کا ماحول تیار کریں جس میں امن کی تکمیل کے لیے ترقی پسند اور ہم عہد اقدامات اٹھائے جائیں۔‘
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کا 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس دورے کو امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی دیے جانے کے تناظر میں بہت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے شمالی کوریا اور چین کے اعلیٰ حکام ایک ملاقات کر سکتے ہیں۔
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کی جانب سے ملنے والی دعوت کو قبول کیا تھا۔
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ چین شمالی کوریا کا اقتصادی طور پر اتحادی ہے اور رواں ہفتے کے آغاز میں مقامی میڈیا کی جانب سے یہ خبر دیے جانے پر کہ کوئی اعلیٰ شخصیت بیجنگ آئی ہے یہ افواہ تیزی سے پھیل گئی تھی کہ یہ کم جونگ ان ہیں۔
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے اپنے قائد اور ان کی اہلیہ کی بیجنگ میں لوگوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے تصویر جاری کی ہے
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکم جونگ ان کے لیے یہ دورہ فرقین بہت اہمیت کا حامل ہے
چین اور شمالی کوریا کے رہنما

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچین شمالی کوریا کا سب سے قریبی اتحادی ہے
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکم جونگ ان بیجنگ میں عشائیے کے دوران چینی رہنما کے ساتھ خوشگوار موڈ میں بات کر رہے ہیں
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبیجنگ میں شمالی کوریا کے رہنما کا پرتپاک استقبال کیا گیا
کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجس ٹرین میں کم جونگ ان چین پہنچے اس ٹرین کی نیلی بوگی پر پیلی لکیریں ہیں۔ اس طرح کی بوگی کا استعمال کم کے والد نے 2011 میں بیجنگ کے دورے کے دوران کیا تھا کیونکہ وہ ہوائی سفر سے خوفزدہ تھے۔