چین: دفاعی اخراجات کے لیے دس کھرب یوان کا بجٹ

Chinese military parade in Inner Mongolia (file image)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحالیہ برسوں میں چین دنیا کی سب سے بڑی فوج کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے

چین نے آئندہ سال کے لیے دفاعی بجٹ کی مد میں دس کھرب یوان سے زیادہ یا 175 ارب ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ رقم گذشتہ برس سے آٹھ فیصد زیادہ ہے۔

یہ اعلان بیجنگ میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا۔

چین نے آئندہ سال کے لیے اپنی شرح نمو کا ہدف بھی 6.5 فیصد مقرر کیا ہے۔

اس اجلاس میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی جانب سے ملک کے صدر کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی منظوری کا بھی امکان ہے۔

کانگریس کی جانب سے اس تجویز کی منظوری کے بعد صدر شی جن پینگ چیئرمین ماؤ کے بعد سب سے طاقتور چینی رہنما بن جائیں گے۔

اس بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

پیر کو ہونے والے اس اجلاس میں ہزاروں قانون سازوں نے صدارتی ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کو سراہا۔

چین کی نیشنل پیپلز کانفرنس ایک طرح کی 'ربر پارلیمنٹ' ہے جو عوماً کیمونسٹ پارٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتی ہے۔

نیشنل پیپلز کانفرنس کے ممبران کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے اور اُس میں چین کے تمام صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ان افراد کو بظاہر الیکشن کے ذریعہ چنا جاتا ہے لیکن انھیں نامزد کیمونسٹ پارٹی ہی کرتی ہے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔

Ethnic minority delegates outside Great Hall of the People in Beijing (5 March 2018)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپیپلز نیشنل کانفرنس میں موجود اراکین اپنے علاقائی لباس میں ملبوس تھے

بڑھتے ہوئے قرضوں کا خطرہ

حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ سال میں حکومت کے تین اہم اہداف ہیں۔ جن میں چین کے لیے مالیاتی خطرہ کو کم کرنا، آلودگی کو لگام دینا اور بڑھتی ہوئی غربت کو کم کرنا شامل ہیں۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم لی نے دفاعی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو 'پتھر کی مانند مضبوط' ہونا چاہیے۔

چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافہ کو سٹریٹجک عزائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ چین دنیا کی سب سے بڑی فوج کو جدید بنا رہا ہے، ہمالیہ کے سرحدی علاقوں اور جنوبی چینی سمندر جیسے علاقوں میں انفراسٹرکچر تعمیر کررہا ہے۔

چین کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے بعد امریکہ سمیت خطے کے دیگر حریف ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور کئی سالوں سے ہونی والی اقتصادی ترقی کی وجہ سے ملک میں غربت کم ہوئی ہے اور متوسط طبقہ بڑھا ہے۔

چین میں سوسے زیادہ افراد ارب پتی ہیں اور اُن کی اکثریت سیاسی مشاورتی کونسل کی رکن ہے۔ اس کونسل کا شمار اہم مشاورتی گروہ کے طور پر ہوتا ہے۔

قرض پر زیادہ انحصار سے چین پر سیاسی سطح خدشات بڑھے ہیں۔

چین نے آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی شرح نمو کا ہدف 6.5 فیصد مقرر کیا ہے جو 2017 کی اقتصادی شرح نمو کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔

Delegates and security at the Great Hall of the People in Beijing (5 march 2018)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپارلیمینٹ کے اجلاس کے دوران سکیورٹی انتہائی سخت تھی

چین کا امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس تاریخ کی بلند ترین سطح 276 ارب ڈالر پر ہے۔

چین نے تنبیہ کی ہے کہ اگرچہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ نہیں چاہتا تاہم اگر اس کی معیشت کو نقصان پہنچا تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے ترجمان ژینگ یسوئی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلومینم کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے کے منصوبے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

ژینگ یسوئی کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارت کا حجم جو کہ گذشتہ سال 580 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا، اسے دیکھتے ہوئے دونوں ممالک میں 'تھوڑا بہت ٹکراؤ تو ہوگا'۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر چینی مفادات کو نقصان پہنچا تو 'ضروری اقدامات' کیے جائیں گے۔