انڈیا میں ٹرین میں سفر کے دوران مسافروں کے رویوں کی عکاسی

شانو بابر کو ریل کا سفر اتنا پسند ہے کہ انھوں نے اس کی تصاویر کو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنا شروع کیا اور پھر جلد ہی کئی اور لوگ بھی اس میں شامل ہو گئے۔

بابر اپنے دوستوں کے ساتھ ٹرین میں سیلفی لیتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہShanu Babar

،تصویر کا کیپشنشانو بابر نے جب پہلی بار ریل میں سفر کیا تو وہ صرف پانچ برس کے تھے۔ بچپن میں ہی انھیں ٹرین کے سفر سے لگاؤ پیدا ہو گیا تھا اور کالج کے زمانے میں ایک ریسرچ کے دوران انھوں نے پورے انڈیا کا ٹرین سے سفر کیا۔ فروری 2015 میں اس سیلفی کو انھوں نے ریاست کیرلا کے دارالحکومت تریوندرم میں لیا تھا۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہShanu Babar

،تصویر کا کیپشن21 جولائی 2015 سے بابر نے 'ونڈو سیٹ پروجیکٹ' کے نام سے ریل گاڑی پر سفر کی تصویریں ڈالنا شروع کیں۔ کھڑی کے ساتھ والی سیٹ نمبر 21 ان کی سب سے پسندیدہ سیٹ ہے۔ وہ جنوبی انڈیا میں چلنے والی معروف ٹرین 'ارناڈ ایکسپریس' کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کی ہر ایک بوگی میں ایک الگ برانڈ کا اشتہار دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہSevik Kole

،تصویر کا کیپشناگست 2015 میں انسٹاگرام استعمال کرنے والے صارفین نے @windowseatproject کو ٹیگ کرتے ہوئے اپنے ریل کے سفر کی تصاویر کو شیئر کیا۔ اس تصویر میں ٹرین میں کھڑے ہو کر سفر کرنے والے مزدوروں اور بعض فرش پر بیٹھے لوگوں کو اونگھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہManprit singh

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر ایک شخص نے ونڈو سیٹ پروجیکٹ پر پوسٹ کی تھی۔ بابر کہتے ہیں کہ 'انڈیا میں ڈیری صنعت سے وابستہ بہت سے لوگ دور دراز دیہات سے شہروں میں دودھ اسی طرح پہنچاتے ہیں، کیونکہ اتنے زیادہ دودھ کی بالٹیوں کو بوگی میں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہWajahat Mirza

،تصویر کا کیپشنبابر کے مطابق اس تصویر کو دوبارہ پوسٹ کیا گیا ہے۔ یہ تصویر ٹرین میں سفر کے دوران مسافروں کے رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک سیٹ کو دو دو مسافر استعمال کرتے ہیں۔ اس تصویر میں دو مسافر ایک ہی برتھ پر سو رہے ہیں۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہShradha Gosavi

،تصویر کا کیپشنبابر کا کہنا ہے کہ ٹرین میں سفر کرنے والے مسافر عموماً گھر سے کھانا لے کر آتے ہیں اور ریل میں سفر کے دوران اس طرح کھانا کھانا ایک عام بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہاڑوں پر اپنے خاندان کے ساتھ سفر پر جاتے ہوئے وہ اپنے ساتھ سالن، چاول، روٹی، مسالا پوری لے جایا کرتے تھے۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہHarshita Mahajan

،تصویر کا کیپشنفوٹو گرافر ہرشتا مہاجن یاد کرتی ہیں کہ نظام الدین ریلوے سٹیشن پر یہ افراد ٹرین کا انتظار کر رہے تھے، وہ کیمرے لیے وہاں سے گزر رہی تھیں، جسے یہ لوگ گھور رہے تھے۔ ان کے مطابق: 'ان کی قاتل نگاہوں نے ہی میری توجہ اپنی طرف کھینچی تھی۔' دو برس بعد ہرشتا نے اس تصویر کو ونڈو سیٹ پروجیکٹ پر پوسٹ کیا تھا۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہShanu Babar

،تصویر کا کیپشنوقت کاٹنے کے لیے تاش کھیلنے سے اچھا طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ بابر کہتے ہیں: 'یہ لوگ ہنستے مسکراتے ہیں اور بڑی منظق کے ساتھ تاش کھیلتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے تک ایک دوسرے سے نا واقف تھے، ایک دوسرے سے نام تک نہیں پوچھا لیکن پھر دوستوں کی طرح تاش کھیلا۔'
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہPrince Mandal

،تصویر کا کیپشنایکسپریس ٹرین میں لی جانے والی اس تصویر میں ایک خاتون اپنے سٹیشن کے انتظار میں ڈبے سے باہر جھانکتی ہیں۔ بابر کا خيال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ بزرگ مسافر فکر مند ہیں کیونکہ اکثر ایسے غریب لوگ ریل کے نظام الوقات اور پلیٹ فارم وغیرہ کا نام نہیں پڑھ پاتے ہیں۔
ٹرین میں کتے کے ساتھ سفر

،تصویر کا ذریعہDivya Duggar

،تصویر کا کیپشناس تصویر کو لینے والی دیویہ ڈوگر کہتی ہیں: 'ہم اپنے پیارے بچوں کے ساتھ فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں۔' ان کے مطابق پالتو جانوروں کے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کو فرسٹ کلاس میں دونوں برتھ یا پھر پورے کیبن کا ہی ریزرویشن کروانا پڑ تا ہے۔ دیویہ اپنے کتے کے ساتھ چار بار ٹرین میں سفر کر چکی ہیں۔ ان کے سب سے طویل سفر میں 30 گھنٹے لگے تھے۔
ٹرین کا سفر

،تصویر کا ذریعہShanu Babar

،تصویر کا کیپشنبابر مارچ 2017 میں گجرات کی 'شیو پور کالنا ایکسپریس' کی چھت پر سوار ہوئے۔ یہاں مسافر ریل کی چھت پر سفر کر رہے تھے۔ ان کے لیے ریل کے اندر ذرا سی بھی جگہ نہیں تھی۔ یہ لوگ یہاں اخبار پڑھتے، سوتے اور جب ریل کسی سرنگ کے پاس پہنچتی تو یہ سب ایک ساتھ اپنے سر جھکا لیتے۔ بابر کے مطابق: 'یہ عجیب بات ہے کہ لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔'