انڈیا میں قبائلیوں کا بدلتا طرِزِ زندگی: تصاویر میں

انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے بیگا اور گونڈ قبائل کے بدلتے طرز زندگی کو فوٹوگرافر رونی سین نے اپنے کیمرے میں قید کیا ہے۔

قبائل

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنمدھیہ پردیش کے بیگا اور گونڈ قبائل جنگلوں میں رہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان قبائل کی نئی نسلیں اپنے پرانے رسم رواج کو ترک کر رہی ہیں
پدھاريا گاؤں کے سربراہ پریم

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنپدھاريا گاؤں کے سربراہ پریم کہتے ہیں کہ ان کے گاؤں کے کچھ گھروں میں ٹی وی سیٹ پہنچ چکے ہیں، جس سے گاؤں کے لوگ نئے فیشن، گیت موسیقی اور فلموں سے روشناس ہو رہے ہیں
بیسوكھا

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشن70 سالہ بیسوكھا (درمیان میں) اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ گھر میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گاؤں کے بزرگ دھوتی اور بنڈي پہنتے تھے جبکہ آج کل کے بچے پتلون قمیض پہننے لگے ہیں
اجيارو بائی

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشناجيارو بائی کے پورے جسم پر ٹیٹو بنے ہوئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ٹیٹو بیگا قبیلے کی شناخت ہے، لیکن اب لڑکیاں اسکول جانے لگی ہیں اور ٹیٹو گدوانے سے انکار کرتی ہیں۔ آج کل کی لڑکیوں کو ان روایتی ٹیٹوز سے شرم محسوس ہوتی ہے
اتواری سنگھ

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشناتواری سنگھ جنگلی جانوروں کے شکار کے لیے تیر کمان کا استعمال کرتے تھے لیکن اب بیگا کمیونٹی میں شکار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اتواري کے بیٹے رام ناتھ بتاتے ہیں کہ وہ اب گوشت کے لیے مرغ اور بکرے پالتے ہیں۔
سرسوتی

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشن13 سالہ سرسوتی سکول جانے کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ ان کے گھر میں اب ٹوائلٹ بھی بن گیا ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ پہلے انہیں رفعِ حاجت کے لیے کھلے میں جانا پڑتا تھا اور انہیں بہت ڈر لگتا تھا۔
سنتوشی

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنسکول میں بچوں کو پڑھانے والی سنتوشی۔ ان کے سکول میں 90 بچے پڑھتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ مون سون کے وقت بہت بچے بیمار پڑ جاتے ہیں اور سکول نہیں آ پاتے۔
سمترا

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنسمترا کہتی ہیں کہ بہت سے بچے سکول میں فیل ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ سکول جانے کے ساتھ ساتھ گھر کا کام بھی کرتے ہیں۔ 25 سالہ سمترا کہتی ہیں کہ جب ان کے بچے ہوں گے تو وہ انھیں ضرور سکول بھیجیں گی
سیتا اور کوٹا

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنسیتا اور کوٹا جڑواں بہنیں ہیں۔ دونوں گھر میں کھانا بنانے اور پینے کے لیے پانی لا رہی ہیں۔ سیتا کہتی ہے کہ انھیں پانی لانے کے لیے روزانہ دو سے تین چکر لگانے پڑتے ہیں۔
بدری اور انیتا

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنبدری بائی (بائیں طرف) اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ انیتا ان 15 سالہ بیٹی ہے۔ بدری کہتی ہیں کہ گھر میں بہت کام ہوتا ہے اور انیتا سکول جانے لگے گی تو گھر میں ان کا ہاتھ کون بٹائےگا؟
قبائل

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنپربھا صبح اٹھ جاتی ہے اور سکول جانے سے پہلے گھر کے لیے پانی بھر کر لاتی ہے۔ موسم گرما میں اسےگاؤں کے کنویں تک جانا پڑتا ہے کیونکہ اس وقت دستی پمپ خشک ہو جاتے ہیں۔
قبائل

،تصویر کا ذریعہRonny sen

،تصویر کا کیپشنبیگا قبیلے کے یہ خواتین راشن کی دکان کے سامنے بیٹھی ہیں. یہاں سرکاری نرخوں پر چاول، چینی، نمک اور مٹی کا تیل ملتا ہے۔ کئی مرتبہ دو دو دن تک راشن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔