برصغیر کا تصویری خزانہ

برصغیر کی تقسیم کے 70 برس کے موقع پر تصویری خزانے کی کچھ جھلکیاں

تاج محل

،تصویر کا ذریعہFelice Beato / Hulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنفیلس بیٹو کا شمار دنیا کے ابتدائی جنگی فوٹوگرافروں میں ہوتا ہے۔ کرائمیا کی جنگ کی کوریج کے بعد فلیس بیٹو 1857 میں انڈیا کی جنگ آزادی کی جسے برطانوی حکومت بغاوت سے تعبیر کرتی ہے، کوریج کے لیے انڈیا پہنچے ۔ تاج محل کی یہ تصویر آگرہ کی جنگ کے دو سال بعد بنائی گئی تھی۔
مہاراؤ راجہ رام سنگھ صاحب بہادر آف بندی کی تصویر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنمہاراؤ راجہ رام سنگھ صاحب بہادر آف بندی کی تصویر کے ساتھ ایک نوٹ لکھا ہے ’وائلڈ فیلو‘۔ یہ تصویر ملکہ وکٹوریہ کی فوٹو البم کا حصہ ہے۔
ممبئی گرگام روڈ

،تصویر کا ذریعہPhotoglob Co. via Hulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنبمبئی جو اب ممبئی کے طور پر جانا جاتا ہے کی گرگام روڈ کی تصاویر اس دور کی یاد دلاتی ہے جب کلر فوٹو گرافی ابھی ابتدائی مراحل میں تھی۔ بڑی مقدار میں تصاویر کو چھاپنے کے لیے ٹنٹ سٹون کے ذریعے بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹو کو ایکسپوز کیا جاتا تھا اور ٹنٹ سٹون کے ذریعے تصویر کو ایکسپوز کرنے کا طریقہ ہاتھوں سے نیگیٹو کو ایکسپوز کرنے سے بہتر سمجھا جاتا تھا۔
راجہ صاحب آف لنہیری

،تصویر کا ذریعہHulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنیہ راجہ صاحب آف لنہیری کی تصویر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ راجہ صاحب کی پگڑی انگور کی بیل سے بنائی گئی ہے۔ انگریزوں کے دور میں راجہ صاحب آف لنہیری جیسے راجوں کی طاقت تو کم ہو گئی تھی لیکن ان کے ظاہری رکھ رکھاؤ کو برقرار رکھا گیا جس سے تاثر دیا گیا کہ انڈیا کی حکومت برطانوی حکومت سے الگ ہے۔
ممبئی بندرگاہ

،تصویر کا ذریعہHulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر 1856 میں ممبئی کی بندرگاہ کی ہے۔ ایسٹ انڈیا کے جہازوں کی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مقامی کشتیوں سے کتنے بہتر تھے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کس حد تک انڈیا پر غلبہ حاصل کر چکی تھی۔ اس دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی فوٹو گرافروں کو ملک کے مختلف علاقوں اور نوادارات کی تصاویر بنانے کے لیے بھیج رہی تھی۔ برطانیہ کے فوجیوں کو بھی کیمرے دیے گئے تھے۔
جے پور محل

،تصویر کا ذریعہHulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنجوں جوں فوٹوگرافی کی تکنیک بہتر ہو رہی تھیں تو اس طرح کے پورٹریٹ بنانا آسان ہو چکا تھا۔ لیکن فوٹو گرافی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی جو سرخی نما سنگ مرمر سے بنے جے پور محل کی اصل تصویر کو سامنے لا سکے۔
دریائے گنگا کرنگا گھاٹ

،تصویر کا ذریعہSamuel Bourne / Hulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشناس تصویر کو انیسویں صدی کے انڈیا کی بہترین تصویر تصور کیا جاتا ہے۔ سیموئیل بورن کی یہ تصویر دریائے گنگا کے منی کرنگا گھاٹ کی ہے۔
بدھ مت موسیقار

،تصویر کا ذریعہRobert Philips / Hulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے تصویری سروے کے دوران سرکاری فوٹوگرافروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ انڈین لوگوں کی تصویر کشی کریں۔ دارجیلنگ کے بدھ مت موسیقاروں کی یہ تصاویر اسی سلسلے میں بنائی گئی تھیں تاکہ مقامی قبائل کی شناخت اور روایت کو ریکارڈ کیا جائے۔
ترنچولی کی چٹان

،تصویر کا ذریعہSamuel Bourne / Hulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنتامل ناڈو میں ترنچوپولی کی یہ چٹان کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بہت قدیم ہے۔ فوٹو گرافر سیموئیل بورن کو اس چٹان میں بہت دلچسپی تھی کیونکہ انڈیا میں برطانوی راج کا ابتدا اسی علاقے سے ہوا تھا اور برطانوی فوج کو پہلی فتح اسی علاقے میں حاصل ہوئی تھی۔
Sri Ranganathaswamy Temple, Srirangam

،تصویر کا ذریعہSamuel Bourne / Hulton Archive / Getty Images

،تصویر کا کیپشنتامل ناڈو کا رنگا ناتھا سوامی ٹیمپل دنیا کا سب سے بڑا مذہبی کمپلیکس ہے۔ فوٹوگرافر سیموئیل بورن کی تصاویر انگریزوں میں بہت مقبول تھیں کیونکہ یہ انڈیا کی ثقافتی ورثے کو اجگار کرتی تھیں۔