افغانستان: مزار شریف کے فوجی اڈے پر حملے کی تصاویر

افغانستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے بلخ میں افغان فوجی اڈے پر طالبان کے ایک حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 130 سے زائد ہو گئی ہے۔

افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمزار شریف میں جس فوجی اڈے پر حملہ ہوا وہ افغان نیشنل آرمی کی 209 ویں کور حصہ کا ہے، یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ بھی شامل ہے۔
افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنموقع پر موجود ایک آرمی کمانڈر کا کہنا تھا کہ جمعے کی شام تک جائے وقوع سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور کم از کم ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے بھی اڑایا۔
افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافغانستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو ہلاک ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔
افغانستان/ مزار شریف

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجس فوجی اڈے پر حملہ ہوا اس کے داخلی دروازے سے کافی پہلے روڈ پر ایک افغان فوجی علاقے کی نگرانی کرتے ہوئے۔
افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغانستان کے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر فوجی اڈے میں داخل ہوئے اور پھر انھوں نے حملہ کردیا۔
افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغان فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوجی اڈے میں قائم مسجد سے جمعے کی نماز پڑھ کر باہر نکلنے والے افراد کے علاوہ ایک کینٹین کو بھی نشانہ بنایا۔
افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق جس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا وہاں جرمنی سمیت متعدد ممالک کے فوجی بھی ہوتے ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا کسی غیر ملکی فوجی کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
افغانستان/ مزار شریف حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعسکری حکام کے مطابق شمالی صوبے بلخ میں فوجی اڈے پر ہونے والے طالبان کے حملے میں اب تک کم سے کم 130 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہو ئے ہیں جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔