گاندھی کو نکل جانے کے حکم کے 100 سال

انڈیا کی آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے گاندھی جی کو چمپارن کے ضلع مجسٹریٹ نے 16 اپریل سنہ 1917 کو آج سے ٹھیک 100 سال قبل پہلی ٹرین سے اپنے علاقے سے نکل جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ تصویر و پیشکش مرزا اے بی بیگ۔

گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی آزادی میں مہاتما گاندھی کا چمپارن کا سفر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج سے سو سال قبل یعنی 16 اپریل سنہ 1917 کو وہ چمپارن کے ضلع ہیڈکوارٹر موتیہاری میں تھے۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنگاندھی جی اپنے روایتی کاٹھیاواری لباس میں چمپارن آئے تھے لیکن انھوں نے وہاں کے کسانوں کی حالت دیکھ کر اس لباس کو ترک کر دیا اور صرف دو کپڑوں میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور پھر بعد میں صرف ایک کپڑے پر آ گئے تھے۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنجس جگہ آج سے 100 سال قبل ضلعی عدالت تھی وہاں آج گاندھی جی کے نام پر ایک میوزیم ہے اور وہاں مختلف قسم کے پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنانگریز ضلع کلکٹر ڈبلیو بی ہیکوک نے 16 اپریل سنہ 1917 کو گاندھی جی کو نوٹس دیتے ہوئے پہلی ٹرین سے ضلع چھوڑنے کا حکم جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی موجودگی امن و امان کے لیے خطرہ ہے۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنگاندھی جی نے ضلع مجسٹریٹ کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے دو دن بعد اپنا جواب دیا تھا جس میں کہا گیا: 'میں اس خطے میں قومی اور انسانی خدمت کے لیے آيا ہوں۔'
نیل کا پودا

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنگاندھی میوزیم میں نیل کا پودا لگایا گیا ہے جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ گاندھی جی کو نیل کی کاشت میں لگے کسانوں کی خستہ حالت کو دیکھنے کے لیے چمپارن آنے کی دعوت دی گئی تھی اور انھوں نے اسے قبول کیا تھا۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنگاندھی میوزیم سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر گاندھی پارک بنایا گیا ہے جس میں گاندھی جی کے اقوال کو پتھروں پر کندہ کیا گیا ہے۔ یہ پارک اس جگہ کے پاس بنایا گیا جہاں معروف مصنف جارج اورویل پیدا ہوئے تھے۔
ستیہ گرہ پارک

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشناس پارک کا نام ستیہ گرہ شتابدی یعنی صدی پارک رکھا گیا ہے جو کہ مقامی صحافی وشواجیت مکھرجی کے مطابق تنازع کا شکار ہے۔
افیون کا پیڑ

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشناس علاقے میں نیل کے علاوہ افیون کی بھی کاشت ہوتی تھی اور وہاں لوگوں سے جبری مزدوری لی جاتی تھی۔ گاندھی جی نے اس کے خلاف بھی مہم چلائی تھی۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنپارک میں جگہ جگہ گاندھی کے قول ہندی زبان میں لکھے ہیں۔ اس تصویر میں گاندھی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ’انتقام کا جذبہ دنیا کو اندھا بنا سکتا ہے‘۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنیہ یادگاری ستون اس جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں گاندھی جی مقدمے کے دوران کھڑے تھے۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنگاندھی جی نے چمپارن ستیاگرہ کے دوران چمپارن میں جن علاقوں کا سفر کیا ان کے سفر کو ایک نقشے کے تحت گاندھی میوزیم کی دیوار پر پیش کیا گیا ہے۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنیہ وہ میز ہے جو گاندھی جی کے مقدمے کے دوران ضلع مجسٹریٹ کے استعمال میں تھی اور آج اس کے گرد اجلاس ہوتے ہیں۔ ایک مقامی فلم ساز اور صحافی وشوا جیت مکھرجی نے بتایا کہ اس میوزیم میں اس میز کے سوا کوئی بھی چیز اصل نہیں ہے تاہم اس کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
گاندھی

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig

،تصویر کا کیپشنمیوزیم کی دیوار پر گاندھی جی کی تصویر کے ساتھ ان کا آخری جملہ 'ہے رام' لکھا ہوا ہے جو گولی لگنے پر مبینہ طور پر ان کے منہ سے نکلا تھا۔