دہلی میں مرزا اسد اللہ خان غالب کا مزار: تصاویر

دہلی میں اردو کے بڑے شاعروں میں سے ایک مرزا اسد اللہ خان غالب کا مزار چادریں اور پھول فروخت کرنے والوں، بریانی کی ریڑھیوں، قصائیوں اور نان بائیوں کی دکانوں کے درمیان موجود ہے۔

مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشناپنے وقت کے اور شاید اب تک کے بڑے شاعروں میں سے ایک، مرزا اسد اللہ خان غالب کا مزار چادریں اور پھول فروخت کرنے والوں، بریانی کی ریڑھیوں، قصائیوں اور نان بائیوں کی دکانوں کے درمیان موجود ہے۔ غالب دیکھتے تو شاید کہتے، ’عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا۔۔!‘ (تصاویر جگدیش تالُری)
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشنمزرا غالب اپنی شاعری میں مذہب سے متعلق خیالات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنے۔ جیسے، ’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر، کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے۔۔‘
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشنجشنِ غالب میں ساحر نے غالب کے مزار کو تشبیہ کے طور پر استعمال کر کے اردو کے بدتر حالات بیان کیے ہیں۔
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشنغالب کے ویران مزار پر کھڑے ہو کر ساحر کی وہ باتیں یاد آ جاتی ہیں جو انھوں نے تقریباً 50 سال پہلے جشن غالب کے موقع پر کہی تھیں۔ ’سو سال سے جو تربت چادر کو ترستی تھی، اب اس پہ عقیدت کے پھولوں کی نمائش ہے، اردو کے تعلق سے کچھ بھید نہیں کھلتا، یہ جشن، یہ تماشا، خدمت ہے کہ سازش ہے۔۔!‘
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشنغالب اُس دور میں مشہور ہوئے تھے جب دلی کے تخت پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر براجمان تھے، حالانکہ انہیں انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے وظیفہ ملتا تھا۔ اِس کے باوجود اُن کے دور میں اردو شاعری عروج پر تھی۔
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشناردو شاعری غالب کی سرپرستی میں اپنے عروج پر پہنچی۔ غالب اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اکثر اردو شاعری کے روایتی قوانین کو بالائے طاق رکھ دیتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی مخالفت کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھی۔ بقول غالب، ’گنجینہ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے، جو لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوے۔۔‘
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشنمزار ِغالب کے سرہانے لگے پتھر کی جالیوں سے چھن کر جب مزار پر سورج کی روشنی گرتی ہے تو غالب کے شاگرد میر مہدی مجروح کا لکھا یہ مصرعہ نظر آتا ہے۔۔ ’گنجِ معنی ہے تہہِ خاک۔۔‘
دہلی

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشنمرزا اسد اللہ خان غالب کو ان کی زندگی میں شہرت تو ملی لیکن کچھ تنازعوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ خط کا جواب لکھنے کے لیے پتہ پوچھنے پر ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ ’صرف دہلی لکھ کر میرا نام لکھ دیا کیجیے، خط پہنچنے کا میں ضامن‘
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشن’غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں، روئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟‘
مرزا غالب

،تصویر کا ذریعہJAGDEESH TALURI

،تصویر کا کیپشن’ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے، وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا؟‘