
صوبائی نگران سیٹ اپ میں ٹیکنوکریٹس بھی ہوسکتے ہیں: علی مدد جتک
بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما علی مدد جتک نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی 19 مارچ کو تحلیل کر دی جائے گی۔
اس بات کا اعلان انہوں نے صوبائی وزیر اطلاعات محمد یونس ملازئی کے ہمراہ اتوار کی سہ پہر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی کی آئینی مدت چھ اپریل کو ختم ہونی ہے لیکن سنیچر کو اسلام آباد میں وزیراعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ایک ہی دن انعقاد پر اتفاقِ رائے ہوا تھا۔
اس اتفاقِ رائے کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ چاروں صوبائی اسمبلیاں انیس مارچ کو تحلیل کرنے پر اتفاق بھی ہوا ہے۔ تاہم بعدازاں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور پنجاب اسمبلی کی مدت نو اپریل کو مکمل ہوگی۔
تاہم اب بلوچستان حکومت کی جانب سے اسی تاریخ کو اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک غیر جانبدار نگران سیٹ اپ لایا جائے گا تاکہ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ تمام سیاسی جماعتوں سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو قابل قبول ہو۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ صوبائی نگران سیٹ اپ میں ٹیکنوکریٹس بھی ہوسکتے ہیں اور صحافی بھی لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ تمام اتحادیوں اور اپوزیشن کی مشاورت کیا جائے گا ۔
انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ سنیچر کی شب حکومت سے مستعفی ہو کر اپوزیشن میں جانے والے وزراء کو 40 سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

’پانچ سال تک وزارتوں کا مزہ لینے والے اب کیوں اپوزیشن میں جا رہے ہیں‘
علی مدد جتک نے کہا کہ ’اگر واقعی ان وزراء کو 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے تو وہ اپنی تعداد ظاہر کریں اور واقعی ایسا ہے تو نگران سیٹ اپ میں ان کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔‘
انہوں نے استفسار کیا کہ ’پانچ سال تک وزارتوں کا مزہ لینے والے اب کیوں اپوزیشن میں جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے اراکین اسمبلی نے پارٹی قیادت سے مشاورت کے بغیر اپوزیشن میں جانے کا اعلان کر کے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ صوبے میں حکومت پیپلزپارٹی کی ہے اور پیپلزپارٹی کے اراکین کا اپوزیشن میں جانا عجیب سی بات ہے۔
علی مدد جتک نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے جن اراکین نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے اور مستعفی ہوئے ہیں ان کے خلاف پارٹی قیادت بھی تادیبی کارروائی کرے گی اور ان کے خلاف الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کیا جائے گا ۔
ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی صدر مملکت سے ملاقات میں تمام امور طے پا گئے ہیں اور صوبائی کابینہ کا اجلاس جلد طلب کرلیا جائے گا۔






























