
پاکستان میں قومی اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہو رہی ہے اور دسویں عام انتخابات کے لیے نگراں حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو گیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ عبوری انتظامیہ کو سکیورٹی سمیت کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
عبوری انتظامیہ کے قیام کے سلسلے میں جمعہ کو پہلے مرحلے میں جسٹس (ر) طارق پرویز کو صوبہ خیبرپختونخوا کے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے اکثرماہرین کہتے ہیں کہ نگراں حکومت کو پہلے تو سکیورٹی کی صورتِ حال اور پھر انتخابات کی شفافیت جیسے اہم مسائل درپیش ہوں گے۔
تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ ’عبوری حکومت کے لیے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا اہم چیلنج ہو گا کیونکہ اگر انتخابات کے دوران اور ان سے پہلے بم دھماکے ہوئے یا گولیاں برسیں تو اس کی ذمہ داری نگراں حکومت پر ہی عائد ہو گی۔‘
ان کا کہنا تھا ’اگر نگراں حکومت سکیورٹی کی صورتِ حال پر قابو پانے میں ناکام ہوئی تو چند اضلاع میں انتخابات کرانے ناممکن بھی ہو سکتے ہیں۔‘
"عبوری حکومت کے لیے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا اہم چیلنچ ہو گا کیونکہ اگر انتخابات کے دوران اور ان سے پہلے بم دھماکے ہوئے یا گولیاں برسیں تو اس کی ذمہ داری نگراں حکومت پر ہی عائد ہو گی"
تجزیہ کار حسن عسکری
خیال رہے گزشتہ منگل کو انتخابات سے وابستہ پہلی ہلاکت واقع ہوئی ہے۔ بلوچستان میں ضلعی الیکشن کمشنر ضیاء اللہ قاسمی کومبینہ طور پر بلوچستان لیبریشن آرمی کے حملہ آوروں نے اس وقت سرعام گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ رکشے میں سوار دفتر سے گھر لوٹ رہے تھے۔
ادھر صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ماہ ہی سے طالبان نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیئر وزیر بشیر احمد بلور کو ایک سیاسی جلسے کے دوران بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایسے واقعات نےآئندہ عام انتخابات کے پرامن انعقاد پر سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔
طالبان کی ’ہٹ لسٹ‘ میں سرِ فہرست عوامی نیشنل پارٹی (اےاین پی ) کے رہنما ہیں جنہیں اس دورِ حکومت میں سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اس سلسلے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل کہتے ہیں ’دہشت گردوں نے کوئی علاقہ کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔ پانچ سال میں تجربہ کار حکومت انہیں لگام نہیں ڈال سکی تو مجھے نہیں پتہ کہ دو ماہ کے لیے آنے والی ایک نئی نگراں حکومت کیسے اس مسئلہ کا حل نکالے گی۔‘
انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ فاٹا کے بہت سے ہمارے نمائندے تو طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے ریلی یا جلسہ منعقد ہی نہیں کر سکتے۔ پشاور میں ہمارے رہنماؤں پر کھلے عام حملے کیے جا رہے ہیں تو کیا انہیں عوام سے رابطہ کرنے کے موقعے پر نگراں حکومت سکیورٹی فراہم کر سکے گی۔‘
"فاٹا کے بہت سے ہمارے نمائندے تو طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے ریلی یا جسلہ منعقد ہی نہیں کر سکتے۔ پشاور میں ہمارے رہنماوں پر کھلے عام حملے کیے جا رہے تو کیا انہیں عوام سے رابطہ کرنے کے موقعے پر نگراں حکومت سکیورٹی فراہم کر سکے گی"
حاجی عدیل، رہنما اے این پی
پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاستدان جرگے کے ذریعے طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔ طالبان نے جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی کے سید منور حسن اور مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف کی طرف سے ضمانت دینے کے شرط پر مذاکرات کا اشارہ دیا تھا۔
ماضی میں ہونے والے نو انتخابات کی شفافیت پر بعض حلقے تنقید کرتے ہوئے ان میں دھاندلی کروانے کا الزام لگاتے ہیں اس لیے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ نگراں حکومت کے لیے دوسرا اہم چیلنچ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرانا ہوگا۔
اس مقصد کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیر الیکشن نیٹ ورک کے چیئرمین زاہد اسلام کہتے ہیں ’اگر اتفاق رائے سے نگراں حکومت بنی تو امکان ہے کہ آئندہ انتخابات کے شفاف ہونے پر کوئی سوال نہ اٹھائے۔‘
دوسری طرف عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید جیسے سیاستدان نگران حکومت کے کردار کو کسی اور تناظر میں دیکھتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں پہلے اللہ ،امریکہ اور فوج تھی مگر اب اس میں میڈیا اور چیف جسٹس بھی شامل ہو گئے۔ اس لیے لولے لنگڑے نگراں وزیر اعظم نے کیا کرنا ہے۔ جو بھی کرنا ہے وہ میڈیا اور سپریم کورٹ کرے گی۔‘
پینسٹھ برسوں میں پہلی بار پاکستان اس قابل ہوا ہے کہ ایک منتخب حکومت جمہوری طریقۂ کار سے دوسرے منتخب عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے جا رہی ہے۔ اس لیے اپنی نوعیت کی اس پہلی نگراں حکومت کے ہر قدم پر سب کی نظریں لگی رہیں گی۔






























