بلوچستان کے رکنِ اسمبلی کا اغوا

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 13:02 GMT 18:02 PST

سلطان ترین دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں پی بی 22 سے رکن اسمبلی بنے تھے

پاکستان کی صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کے رکن اور سابق وزیر سلطان ترین کو نامعلوم افراد نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ہرنائی جاتے ہوئے راستے میں اغوا کر لیا ہے۔

سلطان ترین کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اغوا کی یہ واردات پیر کی شب اس وقت ہوئی جب سلطان ترین کوئٹہ سے اپنے آبائی علاقے کی جانب سفر کر رہے تھے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع پشین کی حدود میں بوستان کے علاقے میں ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں ڈرائیور اور محافظ سمیت اغوا کر لیا۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے رکنِ اسمبلی کے ڈرائیور اور محافظ کو کچھ دیر بعد اتار دیا اور سلطان ترین کو ساتھ لے کر فرار ہوگئے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا ہے کہ اغوا کاروں نے سلطان ترین کی رہائی کے بدلے پانچ سو ملین روپے تاوان طلب کیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سلطان ترین دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں پی بی 22 ہرنائی / سبی کی نشست سے رکن اسمبلی بنے تھے اور بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ تک وزیرِ جیل خانہ جات کے طور پر کام کر رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>