پشاور میں لڑکوں کا سکول تباہ

آخری وقت اشاعت:  پير 25 فروری 2013 ,‭ 12:18 GMT 17:18 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرکاری سکولوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورمیں مسلح افراد نے لڑکوں کے ایک سرکاری پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا ہے۔

دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا یہ واقعہ اتوار اور پیر کے درمیانی شب پشاور شہر سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور بڈہ بیر کے علاقے ماشو پکے میں پیش آیا۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ماشو پکے پرائمری سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے سکول کے دوکمرے مکمل طور پر تباہ جبکہ چار دیواری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرنسپل کے دفتر کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔

بڈہ بیر کے علاقے میں گزشتہ ایک عرصے سے تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارات پر حملہ کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بیس کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

ان دھماکوں کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں سرکاری سکول اور نجی تعلیمی ادارے حملوں کے خوف کے باعث بند پڑے ہیں۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ تحریک طالبان وقتاً فوقتاً سکولوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

کلِک پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور

ان کا موقف ہے کہ جب تک ان کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کی جاتی وہ تعلیمی اداروں پر حملے جاری رکھیں گے۔

حکومت کی طرف سے ابھی تک ان سکولوں کو کسی قسم کی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے جہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہے۔

بڈہ بیر اور مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف محدود پیمانے پر کئی بار کارروائیاں کی ہیں۔لیکن ابھی تک شدت پسندوں کو ختم نہیں کرسکا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>