
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرکاری سکولوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورمیں مسلح افراد نے لڑکوں کے ایک سرکاری پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا ہے۔
دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
ایک پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا یہ واقعہ اتوار اور پیر کے درمیانی شب پشاور شہر سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور بڈہ بیر کے علاقے ماشو پکے میں پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ماشو پکے پرائمری سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے سکول کے دوکمرے مکمل طور پر تباہ جبکہ چار دیواری کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرنسپل کے دفتر کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔
بڈہ بیر کے علاقے میں گزشتہ ایک عرصے سے تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارات پر حملہ کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بیس کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
ان دھماکوں کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں سرکاری سکول اور نجی تعلیمی ادارے حملوں کے خوف کے باعث بند پڑے ہیں۔
اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ تحریک طالبان وقتاً فوقتاً سکولوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
کلِک پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور
ان کا موقف ہے کہ جب تک ان کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کی جاتی وہ تعلیمی اداروں پر حملے جاری رکھیں گے۔
حکومت کی طرف سے ابھی تک ان سکولوں کو کسی قسم کی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے جہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہے۔
بڈہ بیر اور مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف محدود پیمانے پر کئی بار کارروائیاں کی ہیں۔لیکن ابھی تک شدت پسندوں کو ختم نہیں کرسکا۔






























