
سروے کے دوران تین سے چھ سے سولہ سال کے چھپن ہزار تین سو پچھہتر طلبا کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال پر مرتب کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں چھ سے سولہ سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔
سکول نہ جانے والوں میں بچوں میں سے اکیس فیصد لڑکیاں اور تیرہ فیصد لڑکے ہیں۔
بلوچستان میں تعلیم کی صورت حال کے بارے میں یہ رپورٹ جمعرات کو کوئٹہ میں ایک سیمینار میں جاری کی گئی جس کا اہتمام محکمۂ تعلیم بلوچستان نے تعلیم و آگاہی بلوچستان کے اشتراک سے کیا تھا۔
تعلیم کی حالت پر سالانہ رپورٹ ’اے ایس ای آر‘ میں بتایا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں بلوچستان میں صرف نو اعشاریہ چھ فیصد سرکاری ہائی سکولوں میں فعال کمپیوٹرلیب موجود ہیں تاہم نجی سکولوں میں اس کی شرح اٹھاون اعشاریہ تین فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جوں جوں بچے تعلیمی مدارج طے کرتے ہیں ان کے سکول جانے کی شرح کم ہوتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے ہر آٹھ میں سے صرف تین دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں۔
سکول جانے کی عمر سے قبل کے چودہ ہزار ایک سو چوہتر بچوں کے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے ستتر اعشاریہ سات فیصد بچے پرائمری سے قبل کی تعلیم حاصل نہیں کرتے۔
رپورٹ کے مطابق گریڈ تین کے قریباً چوراسی اعشاریہ پانچ فیصد بچے نہ اردو اور نہ ہی اپنی مادری زبان کا کوئی جملہ لکھ سکتے ہیں۔
ان کی قابلیت کو جانچنے کے سروے کے دوران یہ معلوم ہوا کہ جماعت پنجم کے چونسٹھ فیصد طلباء دوسری جماعت کی کتابیں نہیں پڑھ سکتے ۔
اس حوالے سے سرکاری سکولوں کی کارکردگی پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر رہی۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری سکولوں کے جماعت پنجم کے چھتیس فیصد طلباء جبکہ پرائیویٹ سکولوں کے بتیس فیصد طلبا دوسری جماعت کی کتاب کا متن پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گریڈ تین کے چوراسی اعشاریہ پانچ فیصد بچے کوئی جملہ نہیں لکھ سکتے ہیں
انگریزی پڑھنے اور سمجھنے کے ٹیسٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جماعت پنجم کے اڑسٹھ اعشاریہ ایک فیصد، جماعت ششم کے انچاس اعشاریہ پانچ فیصد، جماعت ہفتم کے چالیس اعشاریہ نو فیصد طلباء دوسری جماعت کے انگریزی کے جملے نہیں پڑھ سکتے جو طلباء کے سیکھنے کے عمل کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتا ہے ۔
دوسری جانب انگریزی پڑھنے میں پرائیویٹ سکولوں کی صورت حال قدرے بہتر ہے اور پرائیویٹ سکولوں کے اڑتیس فیصد طلباء انگریزی کے جملے پڑھ سکتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں یہ شرح بتیس فیصد ہے۔
سروے کے دوران معلوم ہوا کہ چونتیس فیصد لڑکے اور انیس فیصد لڑکیاں اردو ، سندھی اور پشتو کے جملے پڑھ سکتی ہیں۔
اسی طرح پینتیس فیصدطلباء اور بیس فیصد طالبات انگریزی زبان کے الفاظ اور جملے درست انداز میں پڑھ سکتی ہیں جبکہ اڑتیس فیصد طلباء اور اٹھارہ فیصد طالبات تفریق اور تقسیم کے سوالات حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلباء میں ٹیوشن کا رجحان سرکاری سکولوں کے طلباء کے مقابلے میں زیادہ ہے اور نجی سکولوں کے سولہ فیصد جبکہ سرکاری سکولوں کے ایک فیصد طلباء ٹیوشن پڑھتے ہیں۔
رپورٹ میں لائبریریوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اکتالیس اعشاریہ چھ فیصد پرائیویٹ ہائی سکولوں میں لائبریریاں ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری سکولوں میں اس کی شرح بارہ اعشاریہ نو فیصد ہے ۔
سروے کے مطابق صوبے کے سکولوں کی بڑی تعداد میں بچوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں اور جہاں چھپن فیصد سرکاری اور چودہ فیصد پرائیویٹ پرائمری سکولوں میں قابل استعمال پانی کی سہولت موجود نہیں وہیں اٹھہتر فیصد سرکاری سکولوں اور انیس فیصد پرائیویٹ سکولوں میں بیت الخلاء موجود نہیں۔
رپورٹ کے مطابق تربیت یافتہ رضاکاروں نے سنہ دو ہزار بارہ میں بلوچستان کے اٹھائیس اضلاع میں سولہ ہزار تین سو چار مکانات اور آٹھ سو پچیس دیہاتوں کا سروے کیا۔
اس سروے کے دوران تین سے چھ سے سولہ سال کے چھپن ہزار تین سو پچھہتر طلبا کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں جن میں سے انسٹھ فیصد بچے اور اکتالیس فیصد بچیاں شامل تھیں۔
سروے کے دوران آٹھ سو چون سکولوں کے حالات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں سے آٹھ سو سرکاری جبکہ چون پرائیوٹ سکول شامل تھے اور ان میں سے سٹرسٹھ فیصد پرائیوٹ اور چودہ فیصد سرکاری سکولوں میں مخلوط تعلیم کا انتظام ہے۔






























