
میرے من میں اس ریاستی ڈھانچے کا تب تک نہایت رعب، دبدبہ اور احترام رہا جب تک مجھ پے دسویں روز پرشکوہ دربار، سنگی ستونوں، جھاڑ فانوس کی چمک دمک، چمچماتی تلواروں سے مسلح لش پش سپاہیوں اور جڑواں موروں والے تختِ طاؤس کی زرق برق اوقات نہیں کھلی۔
میں سکتے کے عالم میں دیکھ رہا تھا کہ ایک مزدور دس بارہ فٹ کا سنگی مرمریں ستون ایک ہاتھ سے اکھاڑ کر مزے سے کندھے پر رکھے لے جارہا تھا۔ دوسرے نے چمچماتی تلواروں کو گٹھے کی شکل میں رسی سے باندھا اور ٹرک میں پھینک دیا اور چھن کے بجائے ٹھک کی آواز آئی۔ لکڑی کی تلواروں سے چھن کی آواز کیسے آتی؟ ایک اور صاحب تختِ طاؤس کے جڑواں موروں پر منڈھی ہری اور سنہری پنیاں چھیل رہے تھے اور ان پنیوں کے پیچھے سے سستے لوہے کا فریم مجھ پر بتیسی نکال رہا تھا۔
پھر ایک موٹی سی عورت کار سے اتری اور اکبر بادشاہ کو اپنے جیسی ہی گالی دیتے ہوئے شہزادہ سلیم سے کہا کہ اگر آج شام تک مجھے تیرے مغلِ اعظم اور اس کے چمچوں کے کاسٹیومز کرائے سمیت واپس نہ کیے گئے تو کل سے سپلائی بند اور ڈیکوریشن کے سامان کا کانٹریکٹ بھی کینسل۔۔۔
مجھے واقعی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ موٹی عورت شہزادہ سلیم کو ایسے کیوں لتاڑ رہی ہے اور شیخو گستاخ عورت کا سر تن سے جدا کرنے کے لیے تالی بجانے کے بجائے سر جھکائے کیوں کھڑا ہے۔
آخر آٹھ نو برس کے بچے کو ایک ساتھ کتنی باتیں سمجھ میں آسکتی تھیں؟؟؟
اگلے روز دوپہر تک اس جگہ سے ریاستی ڈھانچہ بالکل صاف ہوچکا تھا اور شہزادہ سلیم، مغلِ اعظم اور بیربل گنڈیریاں چوستے ہوئے ایک موٹر سائیکل پر ٹرپلنگ کررہے تھے۔۔۔
کہتے ہیں زمانہ بہت بدل گیا ہے۔ کیا خاک بدلا کہ آج بھی مجھ جیسے کروڑوں سادہ دل فلمی اور اصلی میں تمیز نہیں کر پاتے۔
کوئٹہ کی علمدار روڈ پر سب کو صرف چھیاسی تابوت نظر آرہے ہیں حالانکہ وہاں ایک ستاسیواں تابوت بھی پڑا ہے۔ پھر بھی جانے کیوں سب کورس میں گا رہے ہیں کہ حکومتِ بلوچستان کو برطرف کرو۔ یہ تو وہ بات ہوئی کہ اس لاش کو قتل کردو۔۔۔
ان سب کا یہ بھی خیال ہے کہ نجات دہندہ مائع اور گیس کو نہیں بلکہ کسی ایسی ٹھوس شے کو کہتے ہیں جو ایک سفید براق پر خیرہ کرنے والی شمشیر لہراتے ہوئے آتی ہے اور ظلم کو کاٹ ڈالتی ہے۔۔۔
خوش فہمی
ان کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ جرنیل، سیاستداں، جج، جاسوس، پراپرٹی ڈیلر، دھشت گرد، علاقائی دلال اور بین الاقوامی سیاست کے مہرے وہ سیارے ہیں جو اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے رہتے ہیں اور اگر ایک سیارہ دوسرے کے مدار میں نہ گھسے تو دوسرا تیسرے کے مدار میں نہیں گھسے گا۔
وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عدالت کا مطلب قانون کی حکمرانی ہے۔
ان کو یہ بھی یقین ہے کہ مارشل لاء کی خرابیاں جمہوریت سے اور جمہوریت کی خرابیاں مارشل لاء سے دور ہوجاتی ہیں۔
ان کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ جرنیل، سیاستداں، جج، جاسوس، پراپرٹی ڈیلر، دہشت گرد، علاقائی دلال اور بین الاقوامی سیاست کے مہرے وہ سیارے ہیں جو اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے رہتے ہیں اور اگر ایک سیارہ دوسرے کے مدار میں نہ گھسے تو دوسرا تیسرے کے مدار میں نہیں گھسے گا۔
ان کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ نیت صاف ہو تو اژدھے کو بھی دلیل سے قائل کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ افغانستان چھوڑ دے تو پاکستان میں بھی دہشت گردی خود بخود ختم ہوجائے گی۔ کیونکہ شدت پسندی کو آکسیجن نہیں ملے گی چنانچہ ریاستی وسائل دہشت گردی و شدت پسندی سے نبرد آزمائی کے بجائے ملکی ترقی پر خرچ ہوں گے لہٰذا لوگ شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کے بجائے اپنے دنیاوی مستقبل کو بہتر بنانے پر توجہ کریں گے یوں لوگوں کا دھیان فرقہ واریت، نسلی سیاست و علاقائی تعصبات کی طرف سے ہٹ جائے گا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے جیسے امریکہ کے آنے سے پہلے رہتے تھے۔۔۔
جیسے افغانستان میں سوویت یونین کے گھسنے سے پہلے ہنسی خوشی رہتے تھے۔ جیسےظاہر شاہ سے پہلے رہتے تھے۔۔۔ جیسے انگریزوں کی مداخلت اور احمد شاہ ابدالی سے پہلے، جیسے مغلیہ دور اور محمود غزنوی سے بھی پہلے، جیسے ساسانیوں، اشوکوں، کنشکوں اور ہنوں سے بھی پہلے، جیسے سکندرِ اعظم کی آمد یا آریاؤں کے افغانستان میں داخلے یا جیسے کرہِ ارض وجود میں آنے سے بھی پہلے خوش باش رہتے تھے ۔۔۔ یوں افغانستان اور پاکستان میں سب کچھ بالکل ویسے ہی کشل منگل ہوجائے گا اگر امریکہ آج ہی افغانستان چھوڑ دے تو۔۔
وا حسرتا، ہائے سادگی، اف بھولپن، اوہ معصومیت، آہ خود فریبی۔۔۔






























