کراچی میں ایم کیو ایم کا مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 15:47 GMT 20:47 PST

کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ توہینِ عدالت کے نوٹس پر ایم کیو ایم نے احتجاج کیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ توہینِ عدالت کے نوٹس پرمنگل کو بھی ایم کیو ایم نے احتجاج جاری رکھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے عوامی خطاب کا نوٹس لیا تھا جس میں انہوں نے عدلیہ کے بارے میں ریمارکس دیے تھے۔

سپریم کورٹ نے الطاف حسین کو سات جنوری کو عدالت میں طلب کیا ہے جبکہ پیمرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ الطاف حسین کی تقریر کا متن اگلی سماعت میں پیش کرے۔

اس سلسلے میں الطاف حسین کے علاوہ عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار، وزارتِ خارجہ، چیف سیکریٹری سندھ، اور آئی جی سندھ، کو بھی نوٹس ارسال کیے ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کے زیرِ اہتمام بدھ کو کراچی پریس کلب کے سامنے ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں خاصی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ایسے مظاہرے کب تک جاری رہیں گے؟ ایم کیو ایم کے رہنماء اور رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے سات تاریخ کا نوٹس دیا ہے اور اس سے پہلے اس قسم کے مظاہرے جاری رہیں گے۔

"میں یہاں ایک بات یہ بھی واضح کردوں کہ متحدہ قومی مومنٹ کے تمام ذمہ داران، اراکینِ رابطہ کمیٹی، پارلیمینٹیرینز، ایم کیو ایم کے چاہنے والے لاکھوں افراد قائد تحریک کے جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔"

ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل

ایم کیو ایم کے رہنماء واسع جلیل کا کہنا تھا کہ کراچی بدامنی کیس میں ایم کیو ایم کو ججوں کے چند ریمارکس پر اعتراض تھا اور یہ ہی بات الطاف حسین نے اپنی عوامی تقریر میں کہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس سے اپیل کی تھی کہ فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ریمارکس کو حذف کیا جائے، لیکن اس کی جگہ الطاف حسین کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کردیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اب ایم کیو ایم اس پر صرف سڑکوں پر احتجاج کرے گی یا قانونی جنگ بھی لڑے گی؟ واسع جلیل نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک نظر ثانی کی پٹیشن کا تعلق ہے تو ہاں متحدہ قومی مومنٹ بالکل نظر ثانی کی پٹیشن داخل کرے گی۔

واسع جلیل نے مزید کہا ’میں یہاں ایک بات یہ بھی واضح کردوں کہ متحدہ قومی مومنٹ کے تمام ذمہ داران، اراکینِ رابطہ کمیٹی، پارلیمینٹیرینز، ایم کیو ایم کے چاہنے والے لاکھوں افراد قائد تحریک کے جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے‘۔

متحدہ قومی مومنٹ کے بارے میں یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ وہ انتخابی حلقہ بندیوں کے خلاف ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنماء واسع جلیل نے اس تاثر کی نفی کی اور کہا کہ یہ قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے رہنماء واسع جلیل کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ کس کو منتخب کرتے ہیں اور کس کو نظرانداز کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرنا کسی ادارے کا کام نہیں ہے۔

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>