پاک ٹی ہاؤس دوبارہ آباد کرنے کی تیاریاں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 08:15 GMT 13:15 PST

پاک ٹی ہاؤس کو سنہ دو ہزار میں اس کے مالک نے مالی مسائل کے باعث بند کردیا تھا

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ضلعی حکومت شاعروں اور ادیبوں کے معروف اور پرانی بیٹھک یعنی پاک ٹی ہاؤس کو بارہ برس کے بعد دوبارہ کھولنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے مطابق پاک ٹی ہاؤس کو پچیس اکتوبر کو کھول دیا جائےگا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مال روڈ پر واقع پاک ٹی ہاؤس کو سنہ دو ہزار میں اس کے مالک نے مالی مسائل کے باعث بند کردیا تھا۔ تاہم پنجاب حکومت نے اسے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کی ذمہ داری ضلعی حکومت کے سپرد کی گئی۔

پاک ٹی ہاؤس آنے والی شخصیات میں انتظار حسین، احسان دانش ، حبیب جالب، قتیل شفائی، سلیم شاہد، یونس ادیب ، احمد راہی،اشفاق احمد ،احمد ندیم قاسمی، امجد اسلام امجد، سید اصغر ندیم سید نمایاں ہیں۔

سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ترجمان طارق زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاک ٹی ہاؤس کو بحال کرنے کا کام ضلعی حکومت نے اس سال اپریل میں شروع کیا تھا اور اب تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

"پاک ٹی ہاؤس تقیسم ہند سے پہلے انیس سو چالیس میں انڈیا ٹی ہاؤس کے نام سے قائم کیا گیا تاہم قیام پاکستان کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے پاک ٹی ہاؤس رکھا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد ٹی ہاؤس کی لیز سکھ مالک سے سراج الدین نامی شخص کو منتقل کردی گئی اور ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے زاہد حسین نے پاک ٹی ہاؤس کو چلایا تاہم سنہ دوہزار میں اسے بند کردیاگیا۔ "

عبادالحق

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

’پاک ٹی ہاؤس کی بحالی پر لگ بھگ پینتیس لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے اور اس دو منزلہ عمارت میں ایک ہی وقت میں ساٹھ سے ستر افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔‘

ضعلی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ پاک ٹی ہاؤس کو دوبارہ کھولنے کے لیے ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن یعنی وائی ایم سی اے کی انتظامیہ اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بغیر کسی معاوضے کے اس عمارت کو دس سال کی لیز پر حاصل کیا گیا ہے جہاں پر پاک ٹی ہاؤس قائم تھا۔

ترجمان طارق زمان نے یہ بھی بتایا کہ پاک ٹی ہاؤس صبح سات بجے سے شام غروب آفتاب تک کھلا رہے گا اور یہاں چائے اور کھانے پینے کی اشیاء دستیاب ہوں گی۔

معروف ادیب ڈاکٹر یونس جاوید نے پاک ٹی ہاؤس کے دوبارہ کھلنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک ٹی ہاؤس آدمی سے آدمی کا رشتہ جوڑنے اور مکالمے کا ذریعے تھا اور اب کی اس کی بحالی کے بعد ادیبوں اور شاعروں کو شہر کے وسط میں اکٹھا ہونے کی ایک بہتر سہولت مل جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>