
ایک فوجی آمر نے بلوچستان کو ریاست کا دشمن بنا دیا۔ بلاول بھٹو زرداری
پاکستان کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ نے انصاف کی فراہمی میں دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔
انہوں نے یہ بات امریکی شہر نیو یارک میں پارٹی کنونشن سے خطاب میں کہی۔
بلاول بھٹو زرداری نے چیف جسٹس افتخار محمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے بیٹے کے مقدمے کی تحقیقات کا ایک طریقہ جبکہ دوسروں کے مقدمات کے لیے الگ طریقہ اپنا رکھا ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر عدلیہ اصلاحات نہیں کرے گی تو پاکستان کے عوام عدلیہ میں اصلاحات لائیں گے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں۔‘
دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت یہ جنگ اپنی شرائط پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انھوں نے بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان میں لوگ گم ہو رہے ہیں۔ ماؤں کو لاشیں مل رہی ہیں۔ ہم بلوچستان کو لہولہان نہیں رہنے دیں گے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ایک فوجی آمر نے بلوچستان کو ریاست کا دشمن بنا دیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سابق آمر (پرویز مشرف) کے دورِ حکومت میں لوگوں کو ملک بدر کرنا صحیح نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مشرف دور کے غیر آئینی اقدامات سے ملک کو پاک کیا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے منشور کے مطابق انیس سو تہتر کے آئین کو بحال کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزاد الیکشن کمیشن کا قیام پیپلز پارٹی کا بڑا کارنامہ ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی حکومت نے پانچ سے کم عرصے میں جمہوری اقدار کا فروغ یقینی بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام نے تابناک جمہوری مستقبل کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر حکومتی فلاحی پروگراموں کا ذکر کیا۔






























