’اسلام مخالف فلم غیرمہذب اور شرمناک ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 02:28 GMT 07:28 PST

آزادئ اظہار کا حق اشتعال انگیزی یا دوسروں کے عقائد کی بے حرمتی کے لیے نہیں: بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اسلام مخالف فلم غیرمہذب اور شرمناک ہے اور اس کے خالق نے آزادئ اظہارِ رائے کا غلط استعمال کیا ہے۔

بدھ کی رات نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس میں بان کی مون کا کہنا تھا کہ آزادئ اظہارِ رائے کو اس وقت یقینی بنایا جانا چاہیے اور تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے جب وہ ’عام انصاف‘ اور ’عام لوگوں کے مقاصد‘ کے لیے استعمال ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب کچھ لوگ اس حق کو اشتعال انگیزی یا دوسروں کے عقائد کی بے حرمتی کے لیے استعمال کریں تو ایسے موقع پر ان کے اس حق کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری طرف پیغمبر اسلام کے بارے میں بننے والی اسی متنازع فلم کی ایک اداکارہ نے فلمساز کے خلاف امریکی عدالت میں دھوکہ دہی کا مقدمہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھی اداکاروں کو یہ بتایا گیا تھا کہ وہ قدیم مصر کے بارے میں بننے والی ایک ایڈونچر فلم حصہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فلم میں اسلام مخالف مکالموں کی ڈبنگ بعد میں کی گئی ہے اور یہ کہ فلم کے سکرپٹ میں پیغمبر اسلام کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اس توہین آمیز فلم کے خلاف اسلامی ممالک میں شدید احتجاج جاری ہے اور اب تک ہونے والے مظاہروں میں ایک درجن کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور حکومتِ پاکستان نے جمعہ یعنی اکیس ستمبر کو ’یومِ عشقِ رسول‘ منانے کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کو تقریباً پانچ سو وکلاء نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے ریڈ زون میں واقع ڈپلومیٹک انکلیو کی جانب مارچ کیا اور پہلے دو حفاظتی گیٹ توڑنے میں کامیاب رہے۔ تاہم وکلاء کا یہ احتجاج ڈپلومیٹک انکلیو کے دوسرے گیٹ پر رک گیا جہاں وکلاء رہنماؤں نے تقاریر کیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وکلاء رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ امریکی کی خوشنودگی حاصل کرنے کی پالیسی کو ترک کرے اور امریکی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے۔

دوسری جانب لاہور میں مذہبی جماعت جمیعت علماءِ اسلام نے مظاہرے کیے۔ مظاہرین کی کوشش تھی کہ وہ لاہور میں امریکی قونصلیٹ کی جانب مارچ کریں لیکن پولیس نے قونصلیٹ کی جانب جانے والے تمام راستے کنٹینر رکھ کر بند کر دیے۔

اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے قونصلیٹ کی سکیورٹی کے لیے اضافی پولیس تعینات کی گئی تھی۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیرِاعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کی مذمت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اس فلم کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی عائد کردی ہے۔

جمیعت علماء اسلام کا احتجاج

لاہور میں جمیعت علماءِ اسلام بھی لاہور میں مظاہرے کر رہی ہے۔ مظاہرین کی کوشش ہے کہ وہ لاہور میں امریکی قونصلیٹ کی جانب مارچ کرے لیکن پولیس نے قونصلیٹ کی جانب جانے والے تمام راستے کنٹینر رکھ کر بند کردیے ہیں۔

اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر برائے داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف اعلان کردہ مظاہروں میں شریک ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کو مذہبی تنظیموں نے اس فلم کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا ہوا ہے اور پی پی پی بھی ان مظاہروں میں شریک ہو گی۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بارے میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا یو ٹیوب کی جانب سے متعلقہ کلپ نہ ہٹانے پر حکومت نے اس ویب سائٹ پر ملک میں پابندی لگائی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں کہ صرف قابل اعتراض فلم کو روک سکے اور اس بارے میں پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی عالمی قوانین کے مطابق اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے صدرِ پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز فلم کا معاملہ اٹھائیں اور اقوام عالم پر زور دیں کہ وہ ایسی قانون سازی یا اقدامات کریں کہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔

"یو ٹیوب کی جانب سے متعلقہ کلپ نہ ہٹانے پر حکومت نے اس ویب سائٹ پر ملک میں پابندی لگائی ہے۔ حکومت کے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں کہ صرف قابل اعتراض فلم کو روک سکے اور اس بارے میں پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی عالمی قوانین کے مطابق اقدامات کر رہی ہے۔"

قمر زمان قائرہ

ان کے بقول حکومت سوچ رہی ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس بلایا جائے اور اس طرح کے واقعات کے سد باب کے لیے دیرپا اقدامات تجویز کیے جائیں۔ انہوں نے پیغمبر اسلام کے متعلق بننے والی فلم کے خلاف احتجاج میں دیگر مذاہب کے لوگوں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے خلاف حکومت کسی کو احتجاج سے نہیں روک رہی لیکن تمام جماعتوں اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پرامن احتجاج کریں اور کسی کی جان یا مال کو نقصان پہنچانا نامناسب عمل ہے۔

انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ پرتشدد مظاہروں کی برارہ راست کوریج سے گریز کریں کیونکہ اس سے دیگر لوگ بھی اشتعال میں آتے ہیں یا ایسا کرنا اشتعال دلانے کے زمرے میں آتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>