
عدالت بیس تاریخ کو اس کیس کا فیصلہ سنائے گی
سپریم کورٹ نے کاروباری شخصیت ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اٹارنی جنرل عرفان قادر کو بطور استغاثہ کام جاری رکھنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں اٹارنی جنرل استغاثہ کا کردار ادا کرنے کی بجائے وکیِل صفائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کے روز بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل کی طرف سے اس مقدمے میں چھ گواہوں کو طلب کرنے سے متعلق فہرست پیش کی گئی۔
اس فہرست میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حیسن اور چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار سمیت چھ افراد کے نام تھے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ کے سربراہ نے اس فہرست سے متعلق اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ان افراد کا ریاض ملک کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے سے کیا تعلق ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چونکہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس سے چیف جسٹس متاثر ہوئے ہیں اس لیے ملک ریاض کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے چیف جسٹس کو بطور گواہ عدالت میں طلب کرنا بہت ضروری ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے بطور گواہ عدالت میں پیش ہونے سے عدلیہ مزید مضبوط ہوگی۔
بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو شہادتیں پیش کر رہے ہیں وہ استغاثہ کی کم اور وکیل صفائی کی زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ وہ غیر جانبدار لاء افسر ہیں اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں بھی اُن کا کردار غیر جانبدارانہ تھا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اُن کے اس کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز چوہدری نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اُن پر عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا الزام ہے اور اس ضمن میں اُنہیں عدالت کی طرف سے دو نوٹس بھی مل چکے ہیں۔
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اُن پر متعصب ہونے کا الزام ڈاکٹر ارسلان افتخار نے عائد کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے اُنہیں دوبار نوکری سے نکلوایا جبکہ متعصب ہونے کا الزام مجھ پر (اٹارنی جنرل) پر عائد کیا جا رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراض کر دیا جس کی حمایت ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں استغاثہ کو تبدیل کرنے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کے خلاف کوئی معاملہ ہے تو اس کی سماعت سپریم کورٹ کا سینئیر ترین جج کر سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس بطور گواہ عدالت میں پیش نہ ہوئے تو اُن کے موکل اس مقدمے سے بری ہو جائیں گے۔
جسٹس اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اٹارنی جنرل ملک ریاض کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور اب عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ اس مقدمے میں بطور استغاثہ ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں یا نہیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس مقدمے سے الگ کر دیا جائے تو بہتر ہوگا۔






























