
عدالت نے کیس کی سماعت اکیس ستمبر تک ملتوی کر دی ہے
لاہور ہائی کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے دو عہدوں سے متعلق توہین عدالت کیس میں وفاقی حکومت کی باضابطہ متاثرہ فریق بننے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
جمعہ کو سماعت کے موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت سے استدعا کی کہ صدر وفاق کا حصہ ہیں اس لیے وفاقی حکومت کو کیس میں فریق بنانے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صدر کے سیاسی کردار کے متعلق پہلی بار سوالات اٹھائے گئے ہیں جس کی وجہ سے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے پہلے فیصلہ کیا جائے۔
اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو کیس کی سماعت میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس معاملے میں کئی اہم آئینی نکات حل طلب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کو بھی ایسے کیسز عدالتوں میں دائر نہیں کرنے چاہیں جس سے عدالتیں سیاسی معاملات میں ملوث ہوں۔
میرٹ پر کوئی بحث نہیں
عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا کہ وفاقی حکومت کے وکلاء توہین عدالت کی درخواست کے میرٹ پر کوئی بحث نہیں کر سکتے صرف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات اٹھا سکتے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ کیس صدر آصف علی زرداری کے خلاف ذاتی حیثیت سے دائر کیا گیا ہے لہذٰا وفاقی حکومت فریق نہیں بن سکتی۔
عدالت نے کیس کی سماعت اکیس ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا کہ وفاقی حکومت کے وکلاء توہین عدالت کی درخواست کے میرٹ پر کوئی بحث نہیں کر سکتے صرف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات اٹھا سکتے ہیں۔
اس سے پہلے رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بینچ نے صدر آصف علی زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواستوں پر دوبارہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کو بیک وقت دو عہدے رکھنے کے معاملے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے دی گئی مہلت بدھ پانچ ستمبر کو ختم ہو گئی تھی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے صدر آصف زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ تشکیل دیا تھا تاہم بینچ کے ایک رکن جسٹس منصور علی شاہ کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے چار رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔






























