
فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی گروہوں نے قومی شیرازہ بکھیر دیا ہے: مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمیعت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں مذہبی جماعتوں کا نہیں بلکہ حکومتوں اور سیکورٹی اداروں کا ہاتھ رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کی شام گئے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت تب بڑھتی ہے جب سیکورٹی ادارو اور حکومتوں کو اپنی سیاسی ضروریات کے لیے اس کی ضرورت پڑتی ہے اور وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے بقول ملک میں دہشتگردی تب بڑھی جب پاکستان کے حکمران فوجی ڈکٹیٹر نے امریکہ کی جنگ میں ان کے شراکت دار بنے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں امن و امان کی خرابی کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں مختف سیاسی گروہوں نے اپنے علاقے بنا لیے ہیں اور ملک میں فرقہ وارانہ، لسانی، علاقائی گروہوں نے قومی شیرازہ بکھیر دیا ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق امن و امان جیسے حساس معاملے پر جب بحث شروع ہوئی تو تین سو بیالیس اراکین والے ایوان میں ایک سو سے بھی کم اراکین موجود تھے اور حکومتی اتحاد ہو یا اپوزیشن ان کی عدم دلچسپی واضح نظر آ رہی تھی۔
بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کی غیر موجودگی کی وجہ سے خواجہ سعد رفیق نے کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور یہ کسی ایک جماعت کے بس سے باہر ہے کہ وہ اس پر ضابطہ لائے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، عسکری اور عدلیہ کی قیادتوں سے مشاورت کرکے طویل المدتی پالسیی بنانی چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے حزب مخالف کے خواجہ سعد رفیق کی تقریر کی تائید کی اور کہا کہ ماضی میں خارجہ اور داخلہ کی پالیسیاں ’مقدس گائے‘ بنی رہیں اور ان کے بارے میں بحث تک نہیں ہوتی تھی۔ لیکن ان کے بقول آج کل اس بارے میں کھل کر بحث ہوتی ہے اور پارلیمان کا اس میں عمل دخل بھی ہے جو سیاسی قیادت بدلی ہوئی سوچ کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ’بھارت ہمارا دشمن ہے‘ والی پالیسی تھی لیکن آج ہندوستان سے دوستی کی باتیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے تو ’دفاع پاکستان کونسل‘ بن جاتی ہے یا بنوائی جاتی ہے لیکن وہ قوتیں فرقہ وارانہ فسادات روکنے کے لیے کوئی کونسل نہیں بناتیں۔ انہوں نے تمام مدہبی جماعتوں کو خدا کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ فرقہ واریت کی روک تھام کے لیے کردار ادا کریں ورنہ کل یہاں مساجد اور امام بارگاہیں تو ہوں گی لیکن نمازی نہیں ہوں گے۔
امن و امان کی مخدوش صورتحال پر قومی اسمبلی میں بحث جاری تھی کہ مزید کارروائی جمعرات کی شام تک ملتوی کردی گئی۔






























