حالیہ دہشت گردی: طالبان کی حکمتِ عملی؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 14:13 GMT 19:13 PST
طالبان

حالیہ دھماکوں سے عسکریت پسند تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ اب مضبوط ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تحریکِ طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کی خبریں آنے کے بعد طالبان کی جانب سے بھی یکے بعد دیگرے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی خبریں صرف خبروں تک محدود ہیں لیکن جبکہ عملی طور فوجی کارروائی کا کچھ خاص امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی ایک دن ضرور ہوگی البتہ فی الحال علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں جہاں بھی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ملتی ہیں وہاں فوج ضرور کارروائی کرے گی۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے اس وقت وزیرستان میں افغان سرحد کے قریبی علاقوں کے علاوہ کسی بھی علاقے میں نہ تو طالبان قابض ہیں اور نہ ہی ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب خیبر پختونخوا کے صدر مقام پشاور اور قبائلی علاقوں میں حالیہ دھماکوں اور حملوں سے عسکریت پسند پھر سے تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ قبائلی علاقوں کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی مضبوط ہیں۔

پشاور شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو دھماکے ہوچکے ہیں۔ایک دھماکہ متنی میں جبکہ دوسرا یونیورسٹی ٹاون میں ہوا تھا۔ ادھر قبائلی علاقوں میں فوجی چوکیوں پر حملے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ چند دن پہلے سب سے بڑا حملہ جنوبی وزیرستان میں ہوا تھا جس میں ایک فوجی چوکی پر حملے کے دوران نو فوجی مارے گئے تھے۔

اس کے علاوہ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سلارزئی میں شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کیے ہیں جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ان جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔

شدت پسندوں کے حملوں سے عام شہریوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید طالبان اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر حالیہ حملوں میں اضافہ طالبان کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے انہوں نے بتایا کہ جس طرح فوج طالبان کے خلاف ایک حکمت عملی کے تحت کارروائی کرنے میں مصروف ہے اس طرح طالبان شدت پسندوں کا بھی اپنا مخصوص طریقۂ کار ہوتا ہے۔

"اگر فوج وزیرستان میں تحریکِ طالبان کے خلاف فوجی کاروائی کرے گی تو اس سے طالبان کے وہ گروپ بھی متاثر ہوں گے جن کے ساتھ حکومت کے امن معاہدے موجود ہیں۔"

وزیرستان میں تحریکِ طالبان پاکستان میں حافظ گل بہادراور مولا نذیر کےدو بڑے طالبان گروپوں کے علاوہ کئی چھوٹے چھوٹے گروپ موجود ہیں۔ان میں کئی گروپوں کے ساتھ حکومت پاکستان کے امن معاہدے موجود ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر فوج وزیرستان میں تحریکِ طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرے گی تو اس سے طالبان کے وہ گروپ بھی متاثر ہوں گے جن کے ساتھ حکومت کے امن معاہدے موجود ہیں۔مبصرین کے خیال میں شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خاموش شدت پسند گروپ بھی سامنے آجائیں گے جن کے امن معاہدے موجود ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان؛ جنوبی وزیرستان کی نسبت آبادی اور کاروباری لحاظ سے بہت اہم ہے اس لیے حکومت شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے میں احتیاط سے کام لے رہی ہے اور فوری طور پر شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے تاہم طالبان شدت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>