چند نادر فارمولے!

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST

پیسہ ہی دہشتگردی کی ماں ہے۔ لہذا بارٹر سسٹم شروع۔ کرنسی نوٹ منسوخ ۔ بینک بند۔ دہشتگردی ختم

دیکھیے ادارے تو وسائل و تربیت کی کمی، انٹیلیجنس کی ناکامی یا مصلحتوں کے سبب دہشتگردی ، قتل و غارت ، ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کے عمومی ڈھانچے کو بچانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔جو بھی کچی پکی سیاسی و عسکری حکمتِ عملی اب تک اپنائی گئی وہ راستے میں ہی دم توڑ چکی۔ لہذٰا کچھ نئے طریقے آزمانے میں کیا حرج ہے۔

مثلاً سٹالن نے جس طرح لاکھوں مخالفین اور مشکوک نسلی اقلیتوں کو سائبیریا اور وسطی ایشیا کے کولاگز میں منتقل کیا تھا۔ جس طرح ویت کانگ گوریلوں سے عام آدمی کو تحفظ دینے کے لیے امریکیوں نے خاردار تاروں اور واچ ٹاورز سے گھرے آٹھ ہزار خصوصی گاؤں ( ہیملٹس ) بنا کے لاکھوں جنوبی ویتنامیوں کو ان میں زبردستی بھیجا تھا۔ اسی طرح پاکستان کی غیر مسلم اور مسلمان اقلیتوں کو بھی خصوصی حفاظتی دیہاتوں میں کیوں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ کم از کم وہ ان دیہاتوں میں ہی اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔

نادرا والے ہر غیر مسلم اور مسلم اقلیت کو ایک کے بجائے دو طرح کے قومی شناختی کارڈ آخر کیوں جاری نہیں کر سکتے۔ ایک وہ کہ جن پر اصل نام اور تفصیلات ہوں اور دوسرے وہ کہ جنہیں جیب میں رکھ کے وہ بسوں سے اتار کر مارے جانے کے خوف سے بے نیاز سفر کر سکیں۔

دہشتگرد جو بم بناتے ہیں اس میں امونیا کھاد ، کیلیں اور بال بیرنگ وغیرہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اگر کسان امونیا کی جگہ اپنا اور جانوروں کا گوبر استعمال کر کے ، بڑھئی کھڑکیوں اور دروازوں میں لکڑی کی کیلیں ٹھونک کر اور موٹر مکینک بال بیرنگ کی جگہ لٹو لگا کے حب الوطنی کا ثبوت دے تو کیا حرج ہے۔ اسی طرح کاروں ، چھوٹے ٹرکوں اور موٹرسائیکلوں کو بھی سکریپ کی شکل میں بیچ دیا جائے تو موبائل بم اور ٹارگٹ کلنگ سے نجات مل سکتی ہے۔

ریل سروس معطل کرنے کا موجودہ حکومت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا کیونکہ زیادہ تر دہشتگرد بسیں، ویگنیں، ٹیکسیاں اور رکشے استعمال کرتے ہیں۔ جب ہمارے اجداد بیل گاڑیوں، گھوڑوں اور گدھوں پر سفر کرتے تھے تب کیا کسی نے القاعدہ ، طالبان ، لشکرِ جھنگوی ، بی ایل اے وغیرہ کا نام سنا تھا؟

پاکستان میں لگ بھگ آدھے قتل تیز دھار آلے سے ہوتے ہیں اور سر بھی انہی سے قلم کیے جاتے ہیں۔ لہذا کلہاڑی ، چھری ، چاقو ، خنجر اور استرے بازار سے اٹھا لیے جائیں اور نیک چلنی کی تحریری ضمانت کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ لائسنس پر صرف علاقہ معززین کو ہی جاری کیے جائیں۔

کچے ذہن کو برین واش کر کے دہشتگرد بنانے کے لیے پروپیگنڈہ اور زہریلا لٹریچر ہی استعمال ہوتا ہے۔ اگر سی ڈی ، ڈی وی ڈی ، انٹرنیٹ ، پرنٹنگ پریس اور ڈاک کے نظام سے بھی ملک کسی طرح پاک کردیا جائے تو فکری آکسیجن نہ ملنے کے سبب دہشتگردی چند روز میں ہی تڑپ تڑپ کے مر جائے گی۔

ویسے بھی کلہاڑی کیوں؟ لکڑہارا درخت کے گرد رسا باندھ کر طاقت لگاتے ہوئے بھی درخت جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے۔

اور چاقو کیوں؟ خواتین دانتوں اور طعنوں سے بھی تو سبزیاں اور پھل چھیل کاٹ سکتی ہیں۔ پیاز ، خربوزہ اور تربوز تو یوں بھی مکہ مار کے توڑا جاسکتا ہے۔

اور قصائی کے لیے چھری ہی کیوں ؟ کیا شیر چھری سے گوشت کاٹتا ہے ؟

مگر حجام بغیر استرے کے کیا کرے گا ؟ یہاں میری عقل جواب دےگئی ہے۔ شاید حکومت کا کوئی وزیر استرے کا مناسب متبادل تجویز کر سکے۔

کچے ذہن کو برین واش کر کے دہشتگرد بنانے کے لیے پروپیگنڈہ اور زہریلا لٹریچر ہی استعمال ہوتا ہے۔ اگر سی ڈی ، ڈی وی ڈی ، انٹرنیٹ ، پرنٹنگ پریس اور ڈاک کے نظام سے بھی ملک کسی طرح پاک کردیا جائے تو فکری آکسیجن نہ ملنے کے سبب دہشتگردی چند روز میں ہی تڑپ تڑپ کے مر جائے گی۔

اور پیسہ ؟ پیسہ نہ ہو تو دہشتگرد کہاں سے ہتھیار اور بم بنانے کا سامان خریدے گا اور کیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے گا۔ کسے لوٹے گا اور کس سے تاوان وصول کرے گا ؟ پیسہ ہی دہشتگردی کی ماں ہے۔ لہذا بارٹر سسٹم شروع۔ کرنسی نوٹ منسوخ ۔ بینک بند۔ دہشتگردی ختم ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>