
پاکستان ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی نے دو الگ الگ قراردادوں کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈورن حملوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف عالمی سطح پر موثر آواز اٹھائی جائے ۔
منگل کی شام صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علما ء اسلام کے رکن مفتی کفایت اللہ نے فاٹا میں ڈرون حملوں کے خلاف حکومت اور حزب اختلاف کی مشترکہ قرار داد پیش کی۔
مشترکہ قرار دار پر حکومت کی طرف سے سینئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین، پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما عبد الااکبر خان جبکہ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی، مسلم لیگ قاف کے قلندر لودھی، نگہت اورکزئی، مسلم لیگ نون کے رہنما پیر صابر شاہ، بیرسٹر جاوید عباسی اور عنایت اللہ خان جدون نے دستخط کیے۔
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اقرار داد میں ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مزمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں جس سے بے گناہ شہری نشانہ بن رہے ہیں۔

قرارداد کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کے برما کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں
قرارداد میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا کہ فاٹا میں جاری ڈرون حملوں کو فوری طورپر روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں جو شہریوں کے لیے باعث اطمینان ہوں۔ بعد میں ایوان نے متفتہ طورپر قرارداد منظور کی۔
دریں اثناء مسلم لیگ نون کے پارلیمانی رہنما پیر صابر شاہ نے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ایوان میں ایک اور مشترکہ قرارداد پیش کی جس میں برما کے مسلمانوں پر مذہبی بنیادوں پر قتل عام کی مزمت کی گئی ہے۔
قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ برما کے مسلمانوں کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز موثر انداز میں برما کے مسلمانوں کی نمائندگی کرے تاکہ آئندہ کسی کو بھی مذہبی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ نہ بنایا جا سکے۔ ایوان نے اس قراردادِ مزمت کو بھی متفقہ طور پرمنظور کر لیا۔






























