ٹیکسلا اور سکھوٹھائی سمیت اُن شہروں کے آثارِ قدیمہ جو ماضی کے دریچوں کی یاد دلاتے ہیں: تصاویر
،تصویر کا کیپشنٹیکسلا قدیم زمانے میں ہندؤوں اور بدھ مذہب ماننے والوں کا تعلیمی شہر کہلاتا تھا اور امکان ہے کہ یونانی بھی یہاں آتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنسکھوٹھائی کے معنی خوشی کی صبح ہے اور یہ تھائی لینڈ کا قدیم شہر ہے۔ یہ شہر سنہ بارہ سو اڑتیس سے سنہ تیرہ سو اٹہتر تک دارلحکومت تھا۔
،تصویر کا کیپشنپیلنک ساتویں صدی میں مایا تہذیب کا ترقی یافتہ شہر تھا اور یہ طرزِ تعمیر اس دور کی یاد دلاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن اس دیو ہیکل مجسمہ کے آثار قرطاج کے اُس شہر کی یاد دلاتے ہیں جو رومیوں کے ساتھ سنہ دو سو چونسٹھ سے سنہ ایک سو چھیالیس قبل مسیح کے دوران لڑی جانے والی جنگ میں شکست کھا گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنکینیڈا کے شمال میں واقع لانس او میڈو سنہ انیس سو ساٹھ میں دریافت ہونے والی آثارِ قدیمہ کی پہلی ثقافت ہے جس کے یورپ سے رابطوں کے شواہد ملتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکِیو میں چرنوبول کے عجائب گھر میں اِن کتبوں پر ان شہروں کے نام ہیں جو سنہ انیس سو چھیاسی میں جوہری حادثے کے بعد صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔