پشاور کی ابتداء کب ہوئی؟

پشاور شہر کی تاریخ کا اندازہ لگانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی مکمل کر لی ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء کے تاریخی زندہ شہر پشاور کی ابتداء معلوم کرنے کے لیے کھدائی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ جس سے اِس شہر کی تاریخ و ثقافت اور آغاز کے بارے میں کوئی بات وثوق سے کہی جا سکے گی۔( تصاویر و تحریر، شبیر امام)
،تصویر کا کیپشنماہرین آثار قدیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء کے تاریخی زندہ شہر پشاور کی ابتداء معلوم کرنے کے لیے کھدائی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ جس سے اِس شہر کی تاریخ و ثقافت اور آغاز کے بارے میں کوئی بات وثوق سے کہی جا سکے گی۔( تصاویر و تحریر، شبیر امام)
کھدائی کا عمل گورگٹھڑی نامی مقام پر تین ادوار میں مکمل کیا گیا۔موجود دور اکتوبر دو ہزار سات سے جاری تھا، جو مالی وسائل کم ہونے اور موسمی تغیرات کی وجہ سے وقفوں میں مکمل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکھدائی کا عمل گورگٹھڑی نامی مقام پر تین ادوار میں مکمل کیا گیا۔موجود دور اکتوبر دو ہزار سات سے جاری تھا، جو مالی وسائل کم ہونے اور موسمی تغیرات کی وجہ سے وقفوں میں مکمل کیا گیا ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پشاور جنوب مشرقی ایشیاء کا قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر ہے اور پشاور کو آباد ہوئے کم از کم دو ہزار تین سو برس گزر چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنماہرین آثار قدیمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پشاور جنوب مشرقی ایشیاء کا قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر ہے اور پشاور کو آباد ہوئے کم از کم دو ہزار تین سو برس گزر چکے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ ضروری نہیں کہ گورگٹھڑی کے مقام سے ملنے والے آثار قدیمہ کی بنیاد پر پشاور کی تاریخ کے بارے میں حتمی رائے دی جا سکے بلکہ دیگر مقامات سے ملنے والے آثار کا باہمی موازنہ کر کے حتمی رائے دی جائے گی اور اس سلسلے میں ماہرین آثار قدیمہ کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جو مختلف ادوار میں ہوئی کھدائیوں سے ملنے والے نتائج کی روشنی میں اس بات کا تعین کریں گے کہ پشاور کی بنیاد کس عہد میں رکھی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنپروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ ضروری نہیں کہ گورگٹھڑی کے مقام سے ملنے والے آثار قدیمہ کی بنیاد پر پشاور کی تاریخ کے بارے میں حتمی رائے دی جا سکے بلکہ دیگر مقامات سے ملنے والے آثار کا باہمی موازنہ کر کے حتمی رائے دی جائے گی اور اس سلسلے میں ماہرین آثار قدیمہ کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جو مختلف ادوار میں ہوئی کھدائیوں سے ملنے والے نتائج کی روشنی میں اس بات کا تعین کریں گے کہ پشاور کی بنیاد کس عہد میں رکھی گئی تھی۔
محکمہ آثارِ قدیمہ کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد نے کھدائی کا عمل مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کھدائی کے دوران انڈو گریگ پیریڈ تک رسائی حاصل کی گئی ہے جو کم و بیش دو ہزار تین سو برس قدیم عہد ہے۔ تاہم پشاور کا آغاز اس سے بھی قبل ہوا تھا۔‘ جس کا ثبوت گورنر ہاؤس پشاور میں کی جانے والی ایک کھدائی سے ثابت ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمحکمہ آثارِ قدیمہ کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد نے کھدائی کا عمل مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کھدائی کے دوران انڈو گریگ پیریڈ تک رسائی حاصل کی گئی ہے جو کم و بیش دو ہزار تین سو برس قدیم عہد ہے۔ تاہم پشاور کا آغاز اس سے بھی قبل ہوا تھا۔‘ جس کا ثبوت گورنر ہاؤس پشاور میں کی جانے والی ایک کھدائی سے ثابت ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ پشاور میں ہونے والی مختلف کھدائیوں کے دوران ملنے والے سکوں اور برتنوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنپروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ پشاور میں ہونے والی مختلف کھدائیوں کے دوران ملنے والے سکوں اور برتنوں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ سکوں کی جانچ سے ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ یہ فارسی عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ سکوں کی جانچ سے ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ یہ فارسی عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔
برصغیر میں سکوں کی ابتداء فارسی حکمرانوں اَخامینینز کے دور میں ہوئی جو پانچ سو قبل مسیح کا عہد تھا اور یہ ’پنچ مارک ٹائم‘ کہلاتا تھا۔ اس زمانے میں سکوں پر مخصوص نشانات کندا کیے جاتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنبرصغیر میں سکوں کی ابتداء فارسی حکمرانوں اَخامینینز کے دور میں ہوئی جو پانچ سو قبل مسیح کا عہد تھا اور یہ ’پنچ مارک ٹائم‘ کہلاتا تھا۔ اس زمانے میں سکوں پر مخصوص نشانات کندا کیے جاتے تھے۔
پشاور سے ملنے والے سکوں کی عالمی نمائش کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں تاکہ تاریخ و ثقافت اور پاکستان کے اس قدیم ترین شہر کے بارے میں معلومات کو عام کیا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشنپشاور سے ملنے والے سکوں کی عالمی نمائش کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں تاکہ تاریخ و ثقافت اور پاکستان کے اس قدیم ترین شہر کے بارے میں معلومات کو عام کیا جا سکے۔
ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ آرکیالوجی کے ذریعے سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو امن و امان کی غیر یقینی صورتحال اور دہشت گرد واقعات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ آرکیالوجی کے ذریعے سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو امن و امان کی غیر یقینی صورتحال اور دہشت گرد واقعات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
پشاور کی تاریخ سے متعلق کسی حتمی رائے کا اظہار کرنے میں ماہرین آثارِ قدیمہ کو کچھ وقت درکار ہے
،تصویر کا کیپشنپشاور کی تاریخ سے متعلق کسی حتمی رائے کا اظہار کرنے میں ماہرین آثارِ قدیمہ کو کچھ وقت درکار ہے
تاہم کھدائی کا عمل مکمل ہونے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء کے قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر پشاور گندھارا تہذیب اور سیاحتی نکتہ نگاہ سے پاکستان کا مرکز بن سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتاہم کھدائی کا عمل مکمل ہونے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء کے قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر پشاور گندھارا تہذیب اور سیاحتی نکتہ نگاہ سے پاکستان کا مرکز بن سکتا ہے۔