،تصویر کا کیپشنموئن جو دڑو کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا ہے۔ انیس سو بائیس سے انیس سو اٹھائیس کے درمیاں پہلی بار کھدائی سر جان مارشل کی سربراہی میں ہوئی۔
،تصویر کا کیپشندریائے سندھ کے دائیں کنارے لاڑکانہ ضلعے میں واقع موئن جو دڑو سندھی ثقافت کی علامت ہے۔ یہ سیلاب سے تو بچ گیا لیکن بارشوں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ بادشاہ وقت کی تصویر مانی جاتی ہے۔ موئن جو دڑو کے نام پر ماہرین میں اختلاف رہا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ موئن یعنی مرے ہوئے لوگوں کا ٹیلا ہے۔ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ موہن نامی شخص سے منسوب ہے۔
،تصویر کا کیپشنسر جان مارشل کا کہنا ہے کہ یہ پانچ ہزار برس قبل بولی جانے والی زبان ہے جو تاحال مستند طریقے سے پڑھی نہیں جاسکی ہے۔
،تصویر کا کیپشنمقامی گائیڈ محمد حسن چنا نے بتایا کہ موئن جو دڑو دو مرتبہ دریا کی وجہ سے ڈوبا اور ایک بار زلزلے سے تباہ ہوا۔ ہر بار تباہ شدہ ڈھانچے کے اوپر نئی تعمیر ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسر جان مارشل کے بقول یہاں پانچ ہزار برس قبل بھی مہذب لوگ آباد تھے جنہوں نے کنؤیں کھودے، درسگاہ، عبادت گاہ، کشادہ گلیاں، نکاسی آب، سوئمنگ پول بھی بنا رکھے تھے۔ یہ سوئمنگ پول کی جگہ بتائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسوئمنگ پول سے اوپر یہ کنواں ہے جہاں پر پینے کے پانی کے مٹکے بھی ملے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ سوئمنگ پول سے پانی کے اخراج کی نالی ہے۔
،تصویر کا کیپشنموئن جو دڑو کو سیم سے خطرہ ہے اور یونیسکو نے یہ خصوصی درخت لگائے ہیں جن کی خوبی سیم کا پانی چوسنا بتایا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنموئن جو دڑو سے ملنے والے نوادرات تو لندن میوزیم میں ہیں لیکن ان کے نمونے مقامی کمہار تیار کرکے سیاحوں کو بیچتے ہیں۔