دریائے ہنزہ جھیل: تین دیہات ڈوب گئے

دریائے ہنزہ میں بننے والی جھیل
،تصویر کا کیپشنجھیل کی سطح روزانہ اوسطاً چار فٹ بلند ہو رہی ہے۔
    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ہنزہ

لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریائے ہنزہ میں بننے والی جھیل کے باعث تین دیہات مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں جب کہ ایک اور گاؤں میں پانی کسی بھی وقت داخل ہو سکتا ہے۔

دریا کے بہاؤ کی مخالف سمت واقع علاقے میں ڈوبنے والے دیہات میں عطا آباد، آئین آباد اور ششکت کے دیہات شامل ہیں جب کہ گلمت نامی گاؤں میں بھی چندگھر زیرِ آب آئے ہیں۔

<link type="page"><caption> ہنزہ میں زمین سرکنے یا لینڈ سلائیڈنگ کے مناظر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/01/100129_hunza_landslide_pic_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

متاثرہ علاقے میں حکومتِ گلگت بلتستان کے ساتھ کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’فوکس پاکستان‘ کے ایک اہلکار احمد دین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنوری کے اوائل میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی جھیل کی لمبائی اب سولہ کلومیٹر تک جا پہنچی ہے جب کہ اس کی گہرائی تین سو فٹ کے قریب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جھیل کی سطح روزانہ اوسطاً چار فٹ بلند ہو رہی ہے تاہم فی الحال آئندہ چند دن تک لینڈ سلائیڈنگ سے بنے بند کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور جھیل کی سطح میں مزید پچاس فٹ اضافے کے بعد ہی بند ٹوٹنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔