بلوچستان: مون سون کی بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں سے سڑکیں، فصلیں اور مکانات شدید متاثر

،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان میں تین روز کے دوران طوفانی بارشوں سے بہت زیادہ جانی نقصان تو نہیں ہوا ہے تاہم اس سے سیلابی ریلوں کے باعث رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ فصلوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
بارشوں سے دو اہم شاہراہوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے کوئٹہ کا بولان کے راستے سندھ اور پنجاب جبکہ گوادر کا کوسٹل ہائی وے کے راستے کراچی اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
بارشوں کا سلسلہ بلوچستان میں جمعرات کو شروع ہوا تھا جو کہ وقفے وقفے سے سنیچر تک جاری رہا جس سے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں سیلابی ریلے آئے۔
یہ بھی پڑھیے
کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے تین افراد ہلاک ہوئے۔
مختلف علاقوں میں مال مویشی کے پانی میں بہہ جانے کے علاوہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ Imran Sumalani
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق بلوچستان کے 30 میں سے 21 اضلاع مون سون کی بارشوں کے زیر اثر ہیں۔
ان اضلاع میں سے ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، کوہلو اور سبی کے اضلاع بارش اور سیلابی پانی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق مون سون کی بارشوں کے حوالے سے 12حساس اضلاع میں امدادی اشیا کے ذخیرے کی استعداد قائم کرتے ہوئے تین تین سو خاندانوں کے لیے خوراک اور دیگر ضروری اشیا ذخیرہ کردی گئی ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا۔
بارشوں کے باعث خضدار کے سیاحتی مقام مولا چٹوک میں تفریح کے لیے جانے والے سو افراد پھنس گئے ہیں۔
جہاں بلوچستان کے متعدد اضلاع سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں وہاں ان سے اہم قومی شاہراہوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کے باعث ان شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔
اس وقت جن شاہراہوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے ان میں کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ کے علاوہ ساحلی شاہراہ شامل ہیں۔
متاثر ہونے والی شاہراہوں کی کیا اہمیت ہے؟
کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ کو درہ بولان میں مختلف علاقوں میں نقصان پہنچا ہے۔ اس شاہراہ کو دریائے بولان میں ایک بڑا سیلابی ریلا آنے کی وجہ سے نقصان پہنچا۔
تحصیلدار مچھ زابد ڈومبکی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ درہ بولان میں بی بی نانی پل کا ایک حصہ ٹوٹ گیا ہے جبکہ بعض دیگر علاقوں میں بھی سڑک کو نقصان پہنچا ہے۔
اس شاہراہ کو نقصان پہنچنے کے باعث اس سے گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہوگئی۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
اس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں گاڑیاں پھنس گئیں تاہم فوری طور پر یہاں سے ٹریفک کی بحالی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کو واپس گئی ہے جہاں سے وہ آئی تھیں تاہم بہت ساری گاڑیاں مختلف ہوٹلوں کھڑی ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کوئٹہ جیبک آباد شاہراہ بلوچستان اور سندھ اور بلوچستان اورپنجاب کے درمیان اہم شاہراہ ہے۔سندھ کے بلوچستان سے متصل شہر جیکب آباد سے یہ شاہراہ سندھ کے دیگر شہروں کے علاوہ کراچی تک جاتی ہے جبکہ جیکب آباد سے کشمور کے راستے بلوچستان کو پنجاب سے بھی منسلک کرتی ہے۔
بلوچستان اور سندھ اور بلوچستان اور پنجاب کے درمیان جو ٹریفک ہوتی ہے اس کا بڑا حصہ اسی شاہراہ سے ہوکر گزرتا ہے۔
اس کے علاوہ ضلع گوادر میں پسنی کے علاقے میں ساحلی شاہراہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
یہ شاہراہ گوادر اور کراچی کے علاوہ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے درمیان ایک اہم شاہراہ ہے۔
ساحلی شاہراہ پر ٹریفک پسنی میں بدوک کے علاقے میں ایک پل کے ٹوٹنے کے باعث جمعہ کی شب معطل ہوگئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوادرانیس گورگیج نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
ان کا کہنا تھا کہ کچھ دیر تک متاثرہ پل کے ساتھ متبادل راستے سے ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال کیا جائے گا۔
ان دوبڑی رابطہ سڑکوں کے علاوہ بلوچستان اور سندھ کے درمیان خضدار رتو ڈیرو روڈ کو نقصان پہنچنے کے باعث متعدد علاقوں میں اس شاہراہ پر سفر کرنے والے لوگ پھنس گئے ہیں ۔
حکام کے مطابق ان کو ریسکیو کرنے کے علاوہ خوراک پہنچانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔












