InternationalWomenDay2020: پاکستان میں ’عورت مارچ‘ کے نعروں اور مطالبات کی تصویری جھلکیاں

خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کے تحت آج ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ عورت مارچ کے لیے تیار کردہ خصوصی پلے کارڈز اور پوسٹرز کی تصاویر جن کے ذریعے خواتین اپنے خیالات اور مطالبات کا اظہار کر رہی ہیں۔

عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنلاہور کی چند خواتین کے مطابق وہ عورت مارچ میں شرکت کے لیے اپنی نیند چھوڑ کر آئی ہیں۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنمارچ میں شامل چند خواتین مذہب اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوق کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنچند خواتین مہنگائی اور معاشی مسائل اجاگر کرنے کے لیے بھی اس مارچ میں شریک ہیں۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں خواجہ سرا بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے شریک ہوئے ہیں۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس عورت مارچ میں استعمال ہونے والے چند بینرز اور نعرے تنازعے کا باعث بنے جن میں سے ایک نعرہ ’میرا جسم میری مرضی‘ بھی تھا۔ اس برس عورت مارچ میں یہ نعرہ پھر نظر آ رہا ہے۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عورت مارچ سے قبل جامعہ حفصہ کی طالبات، منہاج القرآن ویمن لیگ اور دیگر خواتین کے گروہوں نے حیا مارچ کیا۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنحیا مارچ کی شرکا خواتین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’مجھے آزادی نہیں تحفظ چاہیے‘، ’جسم بھی اللہ کا روح بھی اللہ کی اور ’حجاب میرا وقار‘ جیسے نعرے درج تھے۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنعورت مارچ میں شریک ایک خاتون نے اپنے بینرر کے ذریعے معاشرے میں عورتوں کے احترام پر توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔
عورت مارچ
،تصویر کا کیپشنواضح رہے کہ مختلف شہروں کی انتظامیہ نے عورت مارچ کی اجازت دیتے ہوئے یہ شرط رکھی ہے کہ کسی ایسے پوسٹر یا بینر کی اجازت نہیں ہو گی جو پاکستان کی معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔