انعام الرحیم کو حبس بےجا میں رکھنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور، وفاق اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری

جبری طور پر گمشدہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو حبس بےجا میں رکھے جانے کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ وزارت دفاع ایسا کوئی قانون پیش نہیں کر سکی ہے جسے بنیاد بناتے ہوئے مذکورہ وکیل کی حراست کو قانونی قرار دیا جائے۔
تاہم عدالت نے انعام الرحیم کو پیش کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکام کو اس سلسلے میں قانونی نکات پیش کرنے کے لیے چھ دن کی مہلت بھی دے دی ہے۔
پاکستان میں لاپتہ افراد اور فوج سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو 17 دسمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انعام الرحیم کے بیٹے حسنین انعام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شب ساڑھے بارہ بجے کے قریب اڈیالہ روڈ پر عسکری 14 میں واقع ان کی گھر کی گھنٹی بجی اور جب انھوں نے دروازہ کھولا تو سیاہ وردیوں میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے تھے۔
حسنین انعام کے مطابق یہ افراد ان کے والد کو اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ہمراہ سیاہ رنگ کی ویگو گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے اور انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی گمشدگی کو رپورٹ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
تاہم گذشتہ سماعت پر پاکستان کی وزارت دفاع نے عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج مرزا وقاص روف نے اس درخواست کی سماعت کی تو عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت انعام الرحیم کو حراست میں رکھا گیا ہے۔ اس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے قوانین کی بجائے عدالتوں کی طرف سے مختلف مقدمات میں دیے گئے فیصلوں کے حوالے دیے۔
اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے حوالے نہیں پوچھ رہے بلکہ ان قوانین کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں جن کے تحت مذکورہ وکیل کو حراست میں لیا گیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کن وجوہات کے تحت انعام الرحیم کو حراست میں لیا گیا اس بارے میں عدالت دو روز سے پوچھ رہی ہے لیکن اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ حبس بےجا کی اس درخواست میں بڑے اہم نکات اٹھائے گئے ہیں جس کے بارے میں جاننا عدالت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے بیٹے کی طرف سے دائر کی گئی حبس بےجا کی اس درخواست کی پیروی کرنے والے وکیل بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمد واصف نے کہا کہ اگر وزارت دفاع یا ایڈشنل اٹارنی جنرل ان کے موکل کو حراست میں رکھنے کی وجوہات پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی عدالت کو مطمئن کرسکے ہیں تو عدالت انعام الرحیم کو پیش کرنے کا حکم دے۔
تاہم عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی یہ استدعا مسترد کر دی اور وفاق اور وزارت دفاع کے نمائندوں کو وکیل انعام الرحیم کو حراست میں رکھنے سے متعلق قانونی نکات پیش کرنے کی مہلت دے دی۔
عدالت نے انعام الرحیم ایڈووکٹ کو حبس بےجا میں رکھنے سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاق اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
اس درِخواست کی سماعت نو جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

انعام الرحیم ہماری تحویل میں ہیں: وزارتِ دفاع
اس سے قبل جمعرات کو جسٹس وقاص مرزا نے ان درخواستوں کی سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد حسین چوہدری اور وزارت دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام ان کی تحویل میں ہیں اور انھیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان سے اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ انعام الرحیم کی گمشدگی کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے آئی ہے جبکہ ان کے اغوا کے مقدمے کے اندراج کے مورگاہ تھانے میں درخواست بھی دی گئی تھی۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ انعام الرحیم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
یاد رہے کہ عدالت نے گذشتہ سماعت پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وزارت دفاع کے نمائندے کو حکم دیا تھا کہ کرنل انعام الرحیم پر جو بھی الزامات ہیں ان کی تفصیلات تین جنوری کو عدالت میں پیش کی جائے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیا ہے؟
واضح رہے کہ ملک میں کوئی بھی آئینی عہدہ، چاہے وہ فوجی ہو یا سول، رکھنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو 'آفیشل سیکرٹ ایکٹ' پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، جس کے تحت وہ عمر بھر کے لیے پابند ہو جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کسی بھی مرحلے پر کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتے۔
فوج میں ایڈجوٹینٹ جنرل کے فرائض انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بعض اوقات فوجی کا کردار براہ راست نہیں ہوتا، وہ انجانے میں معلومات شیئر کرتا ہے، معاون کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے، تو ایسی صورت میں سزا کچھ کم ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ براہِ راست، جانتے بوجھتے حساس معلومات کے تبادلے اور ملک کے خلاف جاسوسی میں ملوث پایا جائے تو اس کی سزا موت یا عمر قید ہی ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ فوج کے اندر احتساب کا نظام نہایت مضبوط ہے اور 'فوج کی بقا اسی نظام کی مضبوطی پر منحصر ہے، احتساب میں رعایت نہیں برتی جاتی۔'
خیال رہے کہ فوج میں حساس عہدوں پر تعینات تمام اہلکاروں کی ملک کی خفیہ ایجنسیاں باقاعدہ نگرانی کرتی ہیں اور جنرل (ر) امجد شعیب کے مطابق کسی بھی شک و شبے کی صورت میں ایکشن لے لیا جاتا ہے۔'
کرنل انعام الرحیم کون ہیں؟
انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا تعلق پاک فوج کے 62ویں لانگ کورس سے ہے۔ یہ وہی کورس ہے جس سے موجودہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا بھی تعلق ہے۔
آل پاکستان ایکس سروس مین لیگل فورم کے کنوینر انعام الرحیم ماضی میں لاپتہ اور فوج کے حراستی مراکز میں قید افراد کے مقدمات لڑنے کے علاوہ فوجی عدالتوں اور فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔
انعام الرحیم پاک فوج کی لیگل برانچ جسے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ یا جیگ برانچ کہتے ہیں سے بھی منسلک رہے۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوج میں رہتے ہوئے پرویزمشرف کے ناقدین میں شامل تھے۔
انھوں نے اپنے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے تمغہ امتیاز ملٹری وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ وہ لیفٹینینٹ کرنل کے عہدےسے آگے نہ جاسکے اور اکتوبر 2007 میں ریٹائر ہو گئے۔
2008 میں انعام الرحیم نے راولپنڈی میں قانون کی پریکٹس شروع کر دی۔ ان دنوں راولپنڈی میں پرویز مشرف پر حملہ کیس کے ملزمان رانا فقیرو دیگر اپنے لیے وکیل تلاش کررہے تھے مگر کوئی ان کا کیس لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ انعام الرحیم آگے بڑھے اور انہوں نے ملزمان کے وکیل کے طور پر خدمات پیش کیں۔ اس طرح وہ پہلی بار میڈیا کی نظروں میں بھی آئے۔
پرویز مشرف اوردیگر عسکری شخصیات کے اثاثوں سے متعلق انعام الرحیم نیب سے بھی رجوع کرتے رہے۔ پرویز مشرف کے اثاثوں کے بارے میں انھوں نے مختلف فورمز پر درخواستیں بھی دیں۔
انعام الرحیم نے جنرل راحیل شریف کے دور میں پاک افغان سرحد پر انگوراڈہ کی چیک پوسٹ مبینہ طور پر افغانستان کے حوالے کرنے کے خلاف بھی ایک رٹ پٹیشن کررکھی تھی جس میں اس وقت کے ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو بھی ملزم نامزد کررکھا تھا۔
حال ہی میں عاصم سلیم باجوہ کی رئٹائرمنٹ کے بعد ان کی سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے طورپر تعیناتی کے بعد یہ معاملہ ایک بارپھر سامنے آیا تھا۔









