دریائے سندھ میں نایاب ’بلائنڈ انڈس ڈولفن‘ کی تعداد میں 55 فیصد اضافہ

پاکستان میں صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق دریائے سندھ میں نایاب بلائنڈ انڈس ڈولفن کی تعداد بڑھی ہے۔ سنہ 2011 میں یہ تعداد 918 تھی جو سنہ 2019 میں بڑھ کر 1429 ہو گئی ہے۔ تصاویر بشکریہ محمد خاور خان، تحریر ریاض سہیل۔

ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشندریائے سندھ میں نایاب بلائنڈ انڈس ڈولفن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشنسندھ کے محکمہ جنگلی حیات کی پانچ روزہ سروے میں انڈس ڈولفن کی تعداد 1429 سامنے آئی ہے
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشنمحکمہ جنگلی حیات نے سات سال کے وقفے کے بعد یہ سروے کیا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد 2011 کے سروے میں ڈولفن کی تعداد 918 تھی
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشندریائے کے دونوں اطراف میں کچے کا علاقہ شامل ہے جہاں آج بھی کئی ڈاکو موجود ہیں کشتیوں پر سفید جھنڈہ لگایا گیا تھا
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشندریائے سندھ میں یہ سروے گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان کیا گیا ہے، جس میں کشتیوں کے علاوہ زمین پر 70 افراد شریک تھے
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشناس سروے میں پہلی بار خواتین زولوجسٹ ڈاکٹر زیب میمن اور کومل ہنگورو بھی شامل تھیں جن کا تعلق سندھ اور خیرپور جامعات سے ہے
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشنسروے ٹیموں نے فیلڈ میں میں پانچ روز گذارے اور کھانے پینے سے لیکر رات کا قیام بھی جنگل میں کیا گیا
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشنسروے کے لیے لکڑی سے بنی ہوئی تین کشتیوں کا استعمال کیا گیا جن کو مشین کے بجائے چپو سے چلایا گیا، مشین کی آواز سے یہ ڈولفن دور چلی جاتی ہیں
ڈولفن

،تصویر کا ذریعہMuhammad Khawar Khan

،تصویر کا کیپشننایاب انڈس ڈولفن کو دریائے سندھ میں صنعتی اور گھریلو فضلے کے اخراج سے خطرات لاحق ہیں