گوادر کا پانچواں کتب میلہ تصاویر میں

بلوچستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر ادبی میلے میں سیاسی موضوعات پر بات چیت سے پرہیز کیا جاتا ہے اور خالص ادب کو گفتگو کا محور رکھا جاتا ہے۔

کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنایک طویل عرصے کے بعد بلوچی ادب سے متعلق دیگر زبانوں کے ادیبوں، شاعروں اور محققوں کی یہ پہلی سنجیدہ کوشش تھی۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنکتب میلے کا سبب منتظمین نے علاقے کی ادبی اور ثقافتی روایات کو جدید رجحانات کے ساتھ پروان چڑھانا قرار دیا ہے۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنیہ چھٹا گوادر کتب میلہ ہے۔ اِس میلے کو 2014 میں شروع کیا گیا تھا۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنسات مارچ کو شروع ہونے والا یہ میلہ 10 مارچ کو اختتام پر پہنچے گا اور اس دوران 28 نشستیں منعقد کی جائیں گی۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر ادبی میلے میں سیاسی موضوعات پر بات چیت سے پرہیز کیا جاتا ہے اور خالص ادب کو گفتگو کا محور رکھا جاتا ہے۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشناس دوران بلوچی زبان کی کتاب ’عمان ء بلوچ‘ کی رونمائی بھی کی گئی، جس میں ڈاکٹر کلیم لاشاری اور ڈاکٹر حفیظ جمالی نے اظہار خیال کیا۔ مصنف یار جان بادینی نے اس کتاب میں عمان کے بلوچوں کا مشاہدہ کیا ہے۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنمنتظمین کے مطابق وہ مکالے کا فروغ اور نوجوانوں کو اہل علم و ادب کی مجلسوں سے فیضیابی کا موقع دینا چاہتے ہیں۔
کتب میلہ

،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

،تصویر کا کیپشنادبی نشتوں کے علاوہ تھری ڈی آرٹ بھی پیش کیا گیا۔