’بیٹھ جاتی ہوں تو اپنا آپ تب بوڑھا محسوس ہوتا ہے‘

مہمند ایجنسی کی 70 سالہ قریشہ کہتی ہیں کہ زندگی کی سات دہائیاں ایسی گزریں جیسے کل کی بات ہو۔(تحریر و تصاویر: صبا رحمان)

قبائلی خاتون

،تصویر کا ذریعہSaba Rehman

،تصویر کا کیپشنمہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی 70 سالہ قریشہ عمر کے اس حصے میں بھی کسی پر بوجھ بننا گوارا نہیں کرتیں
قریشہ
،تصویر کا کیپشنقریشہ بیوہ ہیں اور اب اپنے دو بیٹوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ رہتی ہیں
قبائلی خاتون

،تصویر کا ذریعہSaba Rehman

،تصویر کا کیپشنتاہم وہ آج بھی اپنے تمام کام خود کرتی ہیں
قبائلی خاتون

،تصویر کا ذریعہSaba Rehman

،تصویر کا کیپشنان کے دن کا آغاز گھر بھر کے لیے چائے کی تیاری سے ہوتا ہے
قبائلی خاتون

،تصویر کا ذریعہSaba Rehman

،تصویر کا کیپشندن میں وہ اپلے تیار کرتی ہیں جنھیں پشتو میں ’سپیاکا‘ کہتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی عدم موجودگی میں یہ اپلے ہی ایندھن کا کام دیتے ہیں
قریشہ

،تصویر کا ذریعہSaba Rehman

،تصویر کا کیپشنقریشہ جلانے کے لیے لکڑیاں بھی چن کر لاتی ہیں۔ ان کے بقول ’جب بیٹھ جاتی ھوں تو اپنا آپ تب بوڑھا محسوس ہوتا ہے۔ مجھے کام کرنا اور چلنا پھرنا پسند ھے اس لیے میں اپنی مرضی سے یہ سارے کام کرتی ہوں۔‘
قریشہ

،تصویر کا ذریعہSaba Rehman

،تصویر کا کیپشنشام ڈھلنے پر روٹیاں پکانے کے لیے تندور دہکاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’زندگی کے 70 سال ایسے گزرے جیسے کل کی بات ہو۔ عمر زیادہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ خوش ہوں کہ عمر کے اس حصے میں بھی اپنے کام خود کر سکتی ہوں۔‘