اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کے دھرنے سے معمولات زندگی معطل۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے سربراہوں کو نوٹس جاری کرنے کے علاوہ ان سے دو روز میں تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔

اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے اہم چوک فیض آباد پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے سے متعلق پاکستان کی عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ کون سا دین ہے جو راستے بند کرکے لوگوں کو تکالیف پہنچانے کا درس دیتا ہے۔
اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس احتجاجی دھرنے میں دوسرے لوگوں کے بارے میں جو زبان استعمال کی جارہی ہے نہ تو کوئی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ملکی قانون۔
اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندھرنے میں مرکزی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک شامل ہیں۔ دھرنے میں شامل لوگوں سے خطاب کے دوران جس قسم کی زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کی عوامی حلقوں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے لیکن ملک کی بڑی مذہبی جماعتیں اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندھرنے میں شامل جماعت لبیک یا رسول اللہ لاہور اور پشاور میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے چکی ہیں اور اس کے سیاسی عزائم بالکل واضح ہیں۔
اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فیض آباد پر دھرنا ختم کروانے کے لیے فوجی قیادت سے بات کرے۔
اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں ختم نبوت کے معاملے پر غلطی ضرور ہوئی تھی لیکن اس کو ٹھیک کرلیا گیا ہے اور اب دھرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکومت نے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پیر حسین الدین کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو منگل کو مظاہرین سے مذاکرات کرے گی۔