گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

گذشتہ ہفتے پاکستان میں پیش آنے والے چند اہم واقعات کی تصویری جھلکیاں

منشیات

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپشاور میں انٹی نارکوٹکس فورس نے کروڑوں کی مالیت کی ضبط شدہ منشیات اور سمگل شدہ شراب کی بوتلیں تلف کیں۔
ڈینگی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنراولپنڈی میں ڈینگی کی وبا پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی سپرے کیا گیا۔
دیوالی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے ہندوؤں نے دیوالی کا تہوار منایا۔
مریم

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسلام آباد کی احتساب عدالت نے نااہل قرار دیے گئے وزیر اعظم نواز شریف پر دو جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر ایک ریفرنس میں فرد جرم عائد کردی۔ جمعرات کو جب عدالت میں فردِ جرم عائد کی گئی تو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم نواز شریف کی جگہ ان کی نمائندگی وکیل ظافر خان کر رہے تھے۔
ترک سکول

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلاہور سے لاپتہ ہونے والے ترک شہری اور ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹرمسعود کچماز اور ان کے اہلخانہ کو بیرون ملک بھیج دیا گیا جس کے خلاف ترک سکولوں کے اساتذہ نے کراچی میں احتجاج کیا۔
زینت
،تصویر کا کیپشنپاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لاہور سے سوا دو برس قبل اغوا ہونے والی خاتون صحافی زینت شہزادی کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مطابق انھیں شب افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے سے بازیاب کروایا گیا۔
حافظ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نظر بندی کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے، اس موقع پر ان کے حامی بھی احاطہ عدالت میں موجود تھے۔
کراچی، بندر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکراچی میں گرمی کی شدت گذشتہ ہفتے بھی برقرار رہی، زیرنظر تصویر میں گلی محلوں میں تماشا کرنے والا ایک بندر آئس کریم کھا رہا ہے۔
قوی مفتی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنملتان پولیس نے سوشل میڈیا سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی کو گرفتار کرلیا۔ ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں بدھ کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے کے بعد وہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے۔
کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم سات اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملے بدھ کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ ضلع بنوں میں کیے گئے اور ان میں پولیس کے کمانڈورز اور فوجی اہلکار نشانہ بنے۔