مردم شماری کے پہلے مرحلے میں گھر گھر جا کر معلومات حاصل کی جا رہی ہیں

مردم شماری کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے ہے جس کے تحت 63 اضلاع میں گھر گھر جا کر معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

مردم شماری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں نو سال کے التواء کے بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز بدھ کو ہوا ہے۔ مردم شماری میں کل 118826 افراد اور دو لاکھ فوجی اہلکار شامل ہوں گے جبکہ کل بجٹ ساڑھے 18 ارب روپے ہے۔
مردم شماری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اس سے پہلے اب تک 5 مردم شماریاں ہو چکی ہیں۔1998 میں ہونے والی آخری مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ سے زیادہ تھی
مردم شماری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمردم شماری دو مرحلوں میں تمام صوبوں میں بیک وقت ہو گی۔ پہلے مرحلے کے دوران مردم شماری کا عمل ملک کے 63 اضلاع میں مکمل کیا جائے گاجن میں پنجاب کے 16 سندھ کے 8، خیبر پختونخوا کے7 اضلاع، فاٹا کی سات ایجنسیاں، بلوچستان کے 15، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلستان کے پانچ پانچ اضلاع شامل ہیں۔
مردم شماری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمردم شماری ہر 10 سال بعد کرایا جانا اِس لئے ضروری ہے کہ آبادی کی درست تعداد معلوم ہو سکے اور اُس کی بنیاد پر اُن کی نمائندگی یعنی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشتوں کی تعداد طے کی جا سکے۔
مردم شماری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتاہم ملک میں نو برس کے التوا کے بعد مردم شماری ہو رہی ہے۔
مردم شماری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآبادی کے تناسب سے نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے صوبوں کو فنڈز اور وسائل مہیا کرنا اور سرکاری ملازتوں میں کوٹے بھی مردم شماری کے اعداد کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں۔
مردم شماری
،تصویر کا کیپشنمعلومات گھر گھر جاکر جمع کی جائے گی۔ جس میں فیلڈ آپریشن (طریقہ کار) کے تحت خانہ و مردم شماری ایک وقت میں ایک ساتھ کی جائے گی۔ اس میں پہلے تین دن خانہ شماری، دس دن مردم شماری اور ایک دن بے گھر آبادی کا شمارہو گا۔