سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے بعد سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہمارے نامہ نگار ریاض سہیل لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے ایک ہفتے بعد سیہون گئے اور وہاں پر زائرین اور رضاکاروں سے بات کی۔
،تصویر کا کیپشنمزار پر ایک رضاکار ندیم نے بتایا کہ دھماکے سے قبل ’پریشر والی آگ تھی اور اس کے بعد دھماکہ ہوا۔ آپ اس کو کربلا کا سماں کہہ لیں یا قیامت کا۔‘
،تصویر کا کیپشنمزار پر اس دن موجود راجہ سومرو بھی موجود تھے۔ انھوں نے بتایا ’سیہوانیوں ہی نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ سیہون کے لوگ آ گئے اور چنگچیوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کی۔‘
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد سیہوانیوں نے ہر طرح کی مدد کی۔ مزار پر آئے ہوئے پردیسیوں کی مدد کی اور جن کو مالی امداد کی ضرورت تھی ان کو مالی مدد کی اور جنھوں نے کہا کہ ان کے جانے کے لیے سواری نہیں تو ان کو گاڑیاں بھی کر کے دیں۔
،تصویر کا کیپشنسینکڑوں افراد نے دھمال کیا، عزاداری کی اور چادریں چڑھائیں۔ ندیم کا کہنا ہے ’جمعرات کے دھمال میں آنے والے لوگوں کو نہ زیادہ کہا جا سکتا ہے نہ ہی کم۔ آج جو زائرین دھمال کے لیے آئے ہیں وہ ہر جمعرات کو آنے والے نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سرکار کے غم میں شریک ہونے آئے ہیں جیسے جوالا مکھی ہو۔‘
،تصویر کا کیپشنندیم کہتے ہیں ’فرق کوئی نہیں ہے۔ دھماکے سے پہلے بھی جمعرات بھری مراد تھی اور آج بھی جمعرات بھری مراد ہے۔‘
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سیہون میں داخل ہونے سے لے کر لعل شہباز قلندر کے اندر داخل ہونے تک متعدد سکیورٹی چیک سے گزرنا ہوتا ہے۔