لعل شہباز کے مزار پر خود کش حملے کے بعد کے مناظر

سیہون میں لعل شہباز کے مزار پر خود کش حملہ: تصاویر

سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80 سے تجاوز کر گئی ہے۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکومتِ سندھ کے اعلامیے کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے جمعے کو مزید سات زخمیوں نے دم توڑ دیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 83 تک پہنچ گئی ہے۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس خودکش حملے میں 343 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 76 شدید زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 56 افراد کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
سیہون شریف میں دھماکہ
،تصویر کا کیپشنخودکش دھماکے میں ہلاکتوں پر جمعے سے سندھ بھر میں سرکاری سطح پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجمعے کو درگاہ پر سخت سکیورٹی کے باوجود زائرین کی بڑی تعداد وہاں پہنچی اور رکاوٹیں توڑنے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو کر ماتم شروع کر دیا۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسیہون میں خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے زائرین میں سندھ کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسیہون میں خودکش دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اے ایس پی سیہون کے مطابق حملہ آور سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے پر خود کو اڑا لیا۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔
سیہون شریف میں دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمقامی ایدھی مرکز میں اس وقت 12 لاشیں ایسی پڑی ہوئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ ان میں سے بعض لاشوں کے صرف ٹکڑے موجود ہیں اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظام شروع کر دیا گیا ہے۔