’جہاں سکندرِ اعظم کا استقبال ہوا تھا‘

تاریخ دانوں کے مطابق یہ غار اس قدیم شاہراہ کے راستے میں واقع ہیں جہاں ٹیکسلا کے راجہ عنبی نے سکندر اعظم کا استقبال کیا تھا۔

اسلام آبدا آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو ثقافتی لحاظ سے ایک بنجر شہر کہا جاتا ہے لیکن اس کے اطراف کے علاقے گندھارا تہذیب سمیت صدیوں پرانے آثار قدیمہ سے مالا مال ہیں۔ تصاویر و تحریر، ذیشان ظفر
اسلام آبدا آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کو پیالے کی شکل میں گھیرے ہوئے پہاڑی سلسلے مارگلہ میں شاہ اللہ دتہ گاؤں سے اوپر جانے والے راستے پر صاف پانی کی یہ سہولت ’باؤلی‘ شیر شاہ سوری نے تعمیر کرائی تھی تاہم اب اس کی حالت توجہ طلب ہے۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کی حدود میں تعمیر کردہ اس باؤلی کو ’لوسر باؤلی‘ کہا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہاں کے باسی اور مسافر اس باؤلی کا پانی پینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشناسی زمانہ قدیم میں کابل سے براہ راست ٹیکسلا، راولپنڈی آنے والے تجارتی قافلے اس راستے کا استعمال کرتے تھے۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنشیر شاہ نے باؤلی کو تعمیر کرایا تھا تاکہ انھیں پینے کا صاف پانی دستیاب ہو۔ تاریخ دانوں کے مطابق اسی راستے سے سکندر اعظم بھی برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشناس باؤلی سے واپسی پر مشہور بدھا غار جنھیں شاہ اللہ دتہ غار بھی کہا جاتا ہے واقع ہیں۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنتاریخ دانوں کے مطابق یہ غار کم از کم 25 سو برس قدیم ہے اور انھیں بدھا مذہب کے راہب اپنی عبادت کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اسلام آبدا آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنتاریخ دانوں کے مطابق یہ غار گندھارا تہذیب کا حصہ ہیں۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنتاریخ دانوں کے مطابق یہ غار اس قدیم شاہراہ کے راستے میں واقع ہیں جہاں ٹیکسلا کے راجہ انبی نے سکندر اعظم کا استقبال کیا تھا۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنان غاروں کے قریب سادھو کا باغ بھی ہوا کرتا تھا جس کے اب صرف آثار ہی ملتے ہیں۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ڈپٹی میئر ذیشان نقوی کے مطابق اب حکومت نے اس سادھو کے باغ کو بحال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس پر جلد ہی کام شروع ہو جائے گا۔
اسلام آباد آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنان غاروں کے اطراف میں بڑھتی ہوئی تعمیرات سے اس تاریخی ورثے کو خطرات بھی لاحق ہیں۔
اسلام آبدا آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنان بدھا کے غاروں سے تھوڑی ہی دور صوفی بزرگ شاہ اللہ دتہ کا مزار واقع ہے۔
اسلام آبدا آثار قدیمہ
،تصویر کا کیپشنصوفی بزرگ کا تعلق مغلیہ دور سے ہے اور یہاں ہر برس بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں۔